Maulana Wahiduddin Khan
92 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Qur'an khuda ki aawaaz

Urdu · 92 min

قرآن خدا کی آواز ہے: "کائنات ایک راز ہے، اور جو کتاب اس راز کو کھولتی ہے وہ قرآن ہے۔ " یہ حقیقت ہے کہ کتابِ الٰہی کے بغیر کوئی شخص حیات و کائنات کے معمّے کو حل نہیں کر سکتا۔ میں نے حال میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ مارکسزم کا مطالعہ کیا ہے؛ مجھے محسوس ہوا کہ مارکس غیر معمولی دل و دماغ کا آدمی تھا، ایسا کہ اس جیسی صلاحیت کے بہت کم انسان تاریخ میں پیدا ہوئے۔ مگر اس نے ایسی احمقانہ باتیں کہیں، مگر اس نے ایسی احمقانہ باتیں کہی ہیں کہ تاریخ میں اس کے جیسی احمقانہ باتیں بہت کم لوگوں نے کی ہوں گی۔

اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس نے خران کا مطالعہ نہیں کیا تھا، اس کو علم کا وہ سرا نہیں ملا تھا جس کے بغیر زندگی کے معاملات میں کوئی صحیح اور قطعی رائے قائم نہیں کی جا سکتی۔ ایک دوا جو کسی کارخانے سے بن کر نکلتی ہے، اس کے ساتھ اس کی ترکیبِ استعمال کا پرزہ بھی رکھ دیا جاتا ہے، جس میں لکھا ہوا ہوتا ہے کہ یہ دوا کس مرض کے لیے ہے، کن اجزاء سے مل کر بنی ہے، اور کس طرح اسے استعمال کرنا چاہیے۔ مگر آدمی اس حال میں پیدا ہوتا ہے کہ اسے کچھ نہیں معلوم ہوتا کہ وہ کیا ہے اور کس طرح اسے دنیا میں لا کر ڈال دیا گیا ہے۔ وہ اپنے ساتھ کوئی صحیفہ لے کر نہیں آتا، اور نہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر ایسا کوئی بورڈ لگا ہوا ہے جہاں ان سوالات کا جواب لکھ کر رکھ دیا گیا ہو۔

اس صورتحال کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اصل حقیقت سے بے خبر ہو کر اپنے اور زمین و آسمان کے بارے میں عجیب عجیب رائے قائم کرنے لگتا ہے۔ وہ اپنے وجود پر غور کرتا ہے تو وہ اسے ذہنی اور جسمانی قوتوں کا ایک حیرت انگیز مجموعہ نظر آتا ہے، جس کے بنانے میں اس کے اپنے ارادے عمل کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے۔ پھر اپنے وجود سے باہر کی دنیا پر نظر کرتا ہے تو اسے ایک نہایت وسیع پھیلی ہوئی کائنات ملتی ہے، جس کا وہ احاطہ نہیں کر سکتا، جس کو وہ پار نہیں کر سکتا، جس کے اندر چھپے ہوئے خزانوں کو وہ شمار نہیں کر سکتا۔ یہ سب کیا ہے اور کیوں ہے؟

یہ دنیا کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں جا کر ختم ہوگی؟ ان تمام ہست و بوت کا مقصد کیا ہے؟ وہ اپنے آپ کو ان چیزوں کے بارے میں بالکل ناواقف پاتا ہے۔ انسان کو آنکھ دی گئی ہے، لیکن وہ آنکھ ایسی ہے جو کسی چیز کے صرف ظاہر کو دیکھ سکتی ہے۔

اس کے پاس عقل ہے، مگر عقل کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ اسے خود اپنی خبر نہیں۔ آج تک انسان یہ معلوم نہ کر سکا کہ ذہنِ انسانی میں خیالات کیوں کر پیدا ہوتے ہیں، اور وہ کس طرح سوچتا ہے۔ ایسی حقیر صلاحیتوں کے ساتھ وہ نہ تو اپنے بارے میں کسی صحیح نتیجے تک پہنچ سکتا ہے، اور نہ کائنات کو سمجھ سکتا ہے۔ اس معمّے کو خدا کی کتاب حل کرتی ہے۔

اس آسمان کے نیچے آج خران ہی ایک ایسا صحیفہ ہے جو پورے یقین کے ساتھ تمام حقیقتوں کے بارے میں ہم کو قطعی علم بخشتا ہے۔ جن لوگوں نے کتابِ الٰہی کے بغیر کائنات کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، ان کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے اندھوں کے پاس ایک ہاتھی کھڑا کر دیا جائے، اور پھر ان سے پوچھا جائے کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔ تو جس کا ہاتھ اس کی دم پر پڑے گا، وہ کہے گا کہ ہاتھی ایسا ہوتا ہے جیسے مورچھل۔ کوئی کان ٹٹول کر کہے گا کہ ہاتھی ایسا ہوتا ہے جیسے سوپ۔

کوئی پیٹھ پر ہاتھ پھیرے گا اور کہے گا کہ ہاتھی ایسا ہوتا ہے جیسے تخت۔ کوئی پاؤں چھو کر کہے گا کہ ہاتھی ایسا ہوتا ہے جیسے کھمبا۔ تمام بے خدا فلسفیوں اور مفکروں کا یہی حال ہے۔ انہوں نے کائنات کے اندر حقیقت کو ٹٹولنے کی کوشش کی، مگر علم کی روشنی سے چونکہ وہ محروم تھے، اس لیے ان کی تمام کوششوں کا ماحصل اس کے سوا کچھ نہ نکلا، جیسے کوئی شخص اندھیرے میں بھٹک رہا ہو اور اٹکل کے ذریعے الٹے سیدھے فیصلے کرتا رہے۔

دنیا میں ایسے لوگ گزرے ہیں جو ساری زندگی حقیقت کی تلاش میں رہے، مگر حقیقت کو نہ پا کر خودکشی کر لی۔ اور بہت سے ایسے، اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہوئے ہیں جن کو حقیقت تو نہ ملی، مگر صرف اٹکل سے انہوں نے ایک فلسفہ گھڑ لیا۔ میرے نزدیک ان دو قسم کے انسانوں میں صرف اتنا ہی فرق ہے کہ ایک نے اپنی اٹکل کو عقل سمجھا اور اس کو مرتب کر کے دنیا کے سامنے پیش کر دیا، اور دوسرے کو اپنی اٹکل پر اطمینان نہیں ہوا، اور اس نے عاجز آ کر اس حیرت کدہ عالم سے نکل جانے کی کوشش کی اور خود اپنا گلا گھونٹ ڈالا۔ حقیقی علم سے یہ بھی محروم تھے اور وہ بھی۔

رازِ حیات کا جو اصل رازداں ہے، اس کی مدد کے بغیر کوئی شخص اس راز کو نہیں سمجھ سکتا۔ یقیناً انسان کو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی گئی ہے، مگر اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے آنکھ۔ یقیناً اس میں دیکھنے کی صلاحیت ہے، مگر کیا خارجی روشنی کے بغیر کوئی آنکھ دیکھ سکتی ہے؟ رات کے وقت ایک اندھیرے کمرے میں آنکھ رکھتے ہوئے بھی آپ کو کچھ سجھائی نہیں دیتا، مگر جب بجلی کا بلب روشن کر دیا جائے تو ہر چیز صاف نظر آنے لگتی ہے۔

اسی طرح وحی الٰہی عقل کی روشنی ہے۔ اس روشنی کے بغیر ہم اشیاء کی حقیقت کو نہیں پا سکتے۔ ایک صاحب سے ایک مرتبہ میری گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا: "یہ بات کہی جاتی ہے کہ علم اس کا نام نہیں ہے کہ آدمی بہت سی کتابیں پڑھے ہوئے ہو اور مدرسوں اور کالجوں کی ڈگری اپنے پاس رکھتا ہو۔

سب سے بڑا علم ایمان ہے۔ " خران میں بھی آیا ہے کہ خدا سے ڈرنے والے لوگ ہی حقیقت میں عالم ہیں۔ مگر یہ بات ابھی تک میری سمجھ میں نہیں آئی۔ میں نے کہا: "کارل مارکس، جسے معاش کا پیغمبر کہا جاتا ہے، اس کو لیجیے، اس کو وہ علم حاصل نہیں تھا جو خدا کے فضل سے آج آپ کو حاصل ہے۔

" اس کے سامنے دنیا کی یہ صورتحال آئی کہ کچھ لوگ جاگیردار اور کارخانہ دار بن کر دولت کے بڑے حصے پر قابض ہو گئے ہیں، اور بیشتر لوگ نہایت مفلسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ اس اونچ نیت کی اصل جڑ موجودہ ملکیتی نظام ہے، جس میں چیزیں استعمال کے لیے نہیں بنتی، بلکہ اس لیے تیار کی جاتی ہیں کہ دوسرے انسانوں کے ہاتھ بیچ کر ان سے نفع کمایا جائے۔ اس کی وجہ سے افراد کو موقع ملتا ہے کہ اپنی ملکیت بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کے لیے دوسروں کو لوٹیں۔ اس کا علاج اس نے یہ تجویز کیا کہ ملکیت کے حقوق سرے سے ختم کر کے دولت حاصل کرنے کے ذرائع کو عوام کے مشترکہ قبضے میں دے دیا جائے، اور حکومت کے ذمے یہ کام سپرد کیا جائے کہ وہ سب کے مفاد کے مطابق دولت کی پیدائش اور تقسیم کا اجتماعی انتظام کرے۔

سوال یہ ہوا کہ ایسی صورت میں تمام چیزوں پر حکومت کا قبضہ ہو جائے گا۔ اور جب آج کچھ لوگ سرمایہ دار بننے کے ذرائع اپنے ہاتھ میں پا کر نفع اندوزی میں مبتلا ہو گئے ہیں، تو دوسرے کچھ لوگ جن کے سپرد خزانہ کیا جائے گا، کیا وہ بھی ایسا ہی نہیں کریں گے؟ جبکہ دولت حاصل کرنے کے ذرائع کے ساتھ ان نئے منتظمین کو فوج اور قانون سازی کی طاقتیں بھی حاصل ہوں گی۔ کارل مارکس نے جواب دیا کہ حرص اور لوٹ اصل میں ملکیتی نظام کی پیداوار ہے۔

اشتراکی سماج میں اس قسم کی چیزیں ختم ہو جائیں گی۔ میں نے صاحبِ موصوف سے پوچھا: "اب آپ بتائیے کہ کارل مارکس کا یہ خیال صحیح تھا؟ " انہوں نے کہا: "ہرگز نہیں۔ آخرت کی باز پرس کے سوا دنیا میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو آدمی کو ظلم اور خودغرضی سے پاک کر سکے۔

" میں نے کہا: "پھر علم والا کون ہوا؟ آپ یا کارل مارکس؟ " جس کے خود ساختہ نظریے کا نتیجہ یہ ہے کہ انسانیت پہلے سے بھی زیادہ ظلم و ستم کا شکار ہو رہی ہے، کیونکہ زار اور سرمایہ دار پہلے دو الگ الگ وجود تھے، اور اب اشتراکی نظام میں جو زار ہے وہی سرمایہ دار بھی ہے۔ تقریباً یہی کیفیت ان تمام فلسفیوں کی ہے جنہوں نے خدا کے بغیر کائنات کا معمہ حل کرنے کی کوشش کی ہے۔

ان کے خیالات دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اتنے بڑے بڑے لوگ کیسی بچوں سی باتیں کرتے ہیں۔ گویا اندھوں کے مجمعے میں ایک ہاتھی ہے جس کو کوئی مورچھل بتاتا ہے، کوئی سوپ، کوئی تخت کہتا ہے، اور کوئی کھمبا۔ اگر کتابِ الٰہی کی روشنی میں زندگی اور کائنات کا مطالعہ کیا جائے تو ہر چیز بالکل صاف صاف اپنی اصل شکل میں نظر آنے لگتی ہے، اور ایک معمولی آدمی کو بھی اشیاء کی حقیقت سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ وہ پہلی نظر میں اصل حقیقت تک پہنچ جاتا ہے۔

مگر جو اس علم سے محروم ہے، اس کے لیے یہ دنیا ایک بھول بھلیاں ہے جس میں وہ بھٹک رہا ہے۔ انسانی علوم ہم کو بہت کچھ دیتے ہیں، مگر زیادہ سے زیادہ ان کے ذریعے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ کائنات کیا ہے۔ مگر اس کے بارے میں وہ اب تک ایک حرف نہ بتا سکے کہ جو کچھ ہے وہ کیوں ہے۔ چند گیسیں، چند دھاتیں، اور چند نمکیات کے ملنے سے ایک چلتا پھرتا باشعور انسان وجود میں آتا ہے۔

مٹی میں بیج ڈال دینے سے ہرے بھرے پھل دار درخت اور پودے نکلتے ہیں۔ محض ایٹم کی تعداد بدل جانے سے بے شمار عناصر بن جاتے ہیں۔ دو گیسوں کے ملنے سے پانی جیسی قیمتی چیز تیار ہو جاتی ہے۔ پانی کے لیے سالمات کی حرکت، یعنی مالیکیولر موشن، سے بھاپ کی طاقت پیدا ہوتی ہے، جو دیو پیکر انجنوں کو حرکت دیتی ہے۔

ایٹم کے حقیر برخیے جو کسی خردبین کے ذریعے دیکھے نہیں جا سکتے، ان کے انتشار سے وہ بے پناہ طاقت پیدا ہوتی ہے جو پہاڑوں کو توڑ ڈالتی ہے۔ یہ سب ہوتا ہے۔ بس ہم ان چیزوں کے بارے میں اسی قدر جانتے ہیں، مگر یہ سب کیوں ہو رہا ہے، ان کے بارے میں انسانی علوم ہماری کوئی رہنمائی نہیں کرتے۔ دنیا کے تمام سمندروں کے کنارے ریت کے جتنے ذرے ہیں، شاید اسی قدر آسمان میں ستاروں کی تعداد ہے۔

ان میں کچھ ایسے ستارے ہیں جو زمین سے کسی قدر بڑے ہیں، مگر بیشتر ستارے اس قدر بڑے ہیں کہ ان کے اندر لاکھوں زمینیں رکھی جا سکتی ہیں، اور پھر بھی جگہ بچ رہے گی۔ اور بعض ستارے تو اتنے بڑے ہیں کہ ان کے اندر اربوں زمینیں سما سکتی ہیں۔ یہ کائنات اس قدر وسیع ہے کہ روشنی کی مانند ایک انتہائی تیز اڑنے والا ہوائی جہاز، جس کی رفتار 186,000 میل فی سیکنڈ ہو، وہ کائنات کے گرد گھومے تو اس ہوائی جہاز کو کائنات کا پورا چکر لگانے میں تقریباً ایک ارب سال لگیں گے۔ پھر یہ کائنات ٹھہری ہوئی نہیں ہے، بلکہ ہر لمحہ اپنے چاروں طرف پھیل رہی ہے۔

اس پھیلنے کی رفتار اتنی تیز ہے کہ 130 کروڑ سال کے بعد کائنات کے تمام فاصلے دگنے ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ہمارا یہ خیالی قسم کا غیر معمولی تیز رفتار ہوائی جہاز بھی کائنات کا چکر کبھی پورا نہیں کر سکتا۔ وہ ہمیشہ اس بڑھتی ہوئی کائنات کے راستے میں رہے گا۔ یہ کائنات کی وسعت کے بارے میں آئنسٹائن کا نظریہ ہے، مگر یہ صرف ایک ریاضی دان کا قیاس ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک انسان کائنات کی وسعت کو سمجھ نہیں سکا ہے۔ انسانی مطالعہ ہم کو ایک حیرت انگیز کائنات کے سامنے لا کر چھوڑ دیتا ہے۔ وہ ہم کو نہیں بتاتا کہ اس کی حقیقت کیا ہے، کون ان واقعات کو وجود میں لا رہا ہے، اور وہ کون سا ہاتھ ہے جو خلائے بسید میں عظیم الشان کرّوں کو سنبھالے ہوئے ہے۔ یہ تمام باتیں ہم کو خران سے ملتی ہیں۔

خران ہم کو بتاتا ہے کہ اشیاء کیوں کر وجود میں آئیں، وہ کس طرح قائم ہیں، اور مستقبل میں ان کا انجام کیا ہوگا۔ وہ کائنات کے خالق اور مالک کا ہم سے تعارف کراتا ہے، اور اس کی کارفرمائیوں کو ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے۔ خران سلطنت الٰہی کا لفظی مشاہدہ ہے۔ ایک چھپا ہوا طاقتور ارادہ جو اس کائنات میں ہر طرف کام کر رہا ہے۔

خران کے صفحات میں وہ ہم کو بالکل محسوس طور پر نظر آتا ہے۔ وہ مابعد الطبیعی حقیقتیں جن کو آدمی سر کی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا اور نہ ہاتھوں سے چھو کر معلوم کر سکتا ہے، یہ کتاب ان کے بارے میں ہمیں قطعی خبر دیتی ہے۔ اور صرف خبر نہیں دیتی، بلکہ لفظوں کے ذریعے اتنے حیرت انگیز طریقے پر ان کا مرقہ، یعنی اللسٹریشن، کھینچتی ہے کہ غیب بالکل شہود معلوم ہونے لگتا ہے۔ یہ کتاب ہم کو صرف یہی نہیں بتاتی کہ خدا ہے، بلکہ وہ حیرت انگیز طور پر ایک مدبرِ کائنات کا زندہ تصور سامنے لا کر رکھ دیتی ہے کہ آنے والا دن بالکل نگاہوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے۔

مشہور ہے کہ یونان میں ایک مصور نے انگور کے خوشے کی تصویر بنائی۔ یہ تصویر اتنی کامیاب تھی کہ چڑیاں اس پر چونچ مارتی تھیں۔ یہ ایک انسان کا آرٹ تھا۔ پھر خران تو خالقِ کائنات کا آرٹ ہے۔

اس کے کمالِ فن کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟ خران مجید کا پہلا فقرہ ہے: "الحمدللہ رب العالمین" سورہ نمبر 1 آیت 1۔ یہ فقرہ نہایت بامعنی ہے۔ اس کے معنی ہیں: شکر ہے اس خدا کا جو تمام دنیا والوں کا مالک و مربی ہے۔

مالک و مربی اس کو کہتے ہیں جو اپنے ماتحتوں پر گہری نظر رکھے اور ان کی تمام ضروریات کا سامان فراہم کرے۔ انسان کی ضرورتوں میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اس کو بتایا جائے کہ وہ کیا ہے، کہاں سے آیا، اور کہاں جائے گا۔ اس کا فائدہ کس چیز میں ہے اور نقصان کس چیز میں ہے۔ آدمی کو اگر کسی ایسے آسمانی کرّے میں لے جا کر ڈال دیا جائے جہاں ہوا اور پانی کا وجود نہ ہو، تو یہ اس کے لیے اتنا بڑا حادثہ نہ ہوگا جتنا بڑا حادثہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنے آپ کو اس حال میں پائے کہ اپنے اور ماحول کے بارے میں وہ صحیح علم سے بے خبر ہے۔

اللہ اپنی مخلوق پر اس سے زیادہ مہربان ہے جتنا باپ اپنے بیٹے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ ناممکن تھا کہ وہ اپنے بندوں کی اس محتاجی کو دیکھتا اور اسے پورا نہ کرتا۔ چنانچہ اس نے وحی کے ذریعے وہ ضروری علم بھیجا جو انسان کو اپنی معرفت حاصل کرنے کے لیے درکار تھا۔ اور ایک انسانی زبان جس کی متحمل ہو سکتی تھی۔

یہ خالق کا اپنے بندوں پر سب سے بڑا احسان ہے۔ جو بندہ اپنی حیثیت کو پہچانتا ہو اور جس کو یہ احساس ہو کہ وہ حقیقت کا علم جاننے کے لیے اپنے خالق کا کس قدر محتاج ہے، اس کا دل خدا کی اس عنایت کو دیکھ کر شکر و سپاس کے جذبے سے لبریز ہو جائے گا۔ اور اس کتاب کو پا کر وہ بے اختیار کہہ اٹھے گا: "الحمدللہ رب العالمین"۔ یہ بندے کی زبان سے ادا ہونے والا کلمہ ہے جو خدا کی طرف سے القا کیا گیا ہے۔

بندہ یہ جاننے کے لیے بھی کہ وہ کس طرح اپنے آخا کی بندگی کرے، آخا کی رہنمائی کا محتاج ہے۔ آدمی کے اندر فطری طور پر بندگی کے جذبات امڈتے ہیں، مگر وہ نہیں جانتا کہ ان جذبات کو کس طرح ظاہر کرے۔ خران انہیں متعین کرتا ہے اور ان کے لیے الفاظ مہیا کرتا ہے۔ خران کی دعائیں اس سلسلے میں بہترین عطیہ ہیں۔

خران معروف معنوں میں کوئی کتاب نہیں۔ زیادہ صحیح معنوں میں وہ دعوتِ اسلامی کی آخری جدوجہد کی سرگزشت ہے۔ اللہ تعالیٰ قدیم ترین زمانے سے انسانوں کے لیے حقیقت کا علم اپنے خاص بندوں کے ذریعے بھیجتا رہا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہوئی کہ روئے زمین پر بسنے والوں کے لیے آخری طور پر حقیقت کا علم دے دے، اور اس علم کی بنیاد پر ایک باقاعدہ سوسائٹی کی تعمیر بھی کر دے، تاکہ وہ قیامت تک تمام نسلِ انسانی کے لیے روشنی اور نمونے کا کام دے سکے۔

اسی مقصد کے تحت اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں مبعوث فرمایا اور آپ کے ذمے یہ خدمت سپرد کی کہ آپ عرب میں اس پیغامِ حق کی اشاعت کریں۔ اور پھر جو لوگ آپ کے اس پیغام سے متاثر ہوں، ان کے ذمے یہ کام سپرد ہوا کہ وہ تمام دنیا میں اس پیغام کو پھیلائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علمِ حق کو پھیلانے اور اس کی بنیاد پر ایک انسانی معاشرہ قائم کرنے کی جو تحریک عرب میں پھیلائی، اس کو ہدایت دینے والا خود اللہ تعالیٰ تھا۔ اس نے اپنے براہِ راست کلام کے ذریعے پیغمبر پر وحی کی کہ اسے کن چیزوں کی تبلیغ کرنی ہے۔

اس نے وہ تمام دلائل فراہم کیے جو اس پیغام کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری تھے۔ جب مخالفین کی طرف سے کوئی اعتراض اٹھا تو اس نے جواب دیا۔ جب اس دعوت کو قبول کرنے والوں میں کسی قسم کی کمزوری پیدا ہوئی تو اس نے فوراً اس کی اصلاح کی۔ اس نے جنگ و صلح کے احکام دیے اور تعلیم و تربیت کے قاعدے بتائے۔

اس نے شدائد کے وقت اپنے پیروں کو تسلی دی اور غلبے کے وقت وہ قانونی احکام دیے جن کی بنیاد پر نئے معاشرے کی تعمیر کرنی تھی۔ غرض یہ کہ غرض یہ تحریک جس کی ابتدا اور انتہا کے درمیان 23 سال کا فاصلہ ہے، اس کے تمام مراحل میں اللہ تعالیٰ ایک کلی رہنما کی حیثیت سے ہدایات و احکامات بھیجتا رہا۔ یہی احکامات و ہدایات بات کو خود رہنما کے منشا کے مطابق ایک خاص ترتیب سے جمع کر دیے گئے، اور اسی مجموعے کا نام خران ہے۔ وہ دعوتِ حق جو آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے عرب میں اٹھی اور جس کی رہنمائی خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی، خران اس کا معتبر ترین ریکارڈ ہے۔

یہ ان خدائی ہدایات کا مجموعہ ہے جو اس تحریک کی رہنمائی کے لیے تقریباً ایک چوتھائی صدی کے درمیان مختلف اوقات میں بھیجے گئے تھے۔ مگر یہ قرآن صرف تاریخ نہیں ہے، وہ خدا کا مستقل فرمان ہے جو تاریخ کے سانچے میں ڈھال کر ہمیں دیا گیا ہے۔ وہ تاریخ ہے اس لیے کہ وہ ایک عملی نمونہ ہے اور عملی نصیحت کے لیے مہیا کیا گیا ہے۔ وہ مستقل فرمان ہے اس لیے کہ مالکِ کائنات کے فیصلے کے مطابق اسی کی بنیاد پر ہر دور کے انسان کی سعادت و شقاوت کا فیصلہ ہونے والا ہے۔

مگر اس خاص ترتیب کے باوجود قرآن اس قسم کے مجموعوں سے بالکل مختلف ہے۔ جیسے آج کل سیاسی لیڈروں کی تقریروں کے مجموعے چھپتے ہیں یا عالم الغیب کی ایک باکمال منصوبہ بندی ہے۔ خران کے مختلف اجزاء ایک طویل زمانے میں الگ الگ بھیجے گئے۔ مگر یہ مختلف ٹکڑے محض اتفاق کے طور پر وجود میں نہیں آ گئے تھے، بلکہ وہ ایک مرتب اسکیم کے اجزاء تھے جو عملی ضرورت کے تحت مختلف اوقات میں مختلف ترتیب کے ساتھ نازل ہوئے۔

اسکیم کے اختتام پر جب انہیں مکمل کر کے جوڑ دیا گیا تو اب وہ ایک لاجواب وحدت بن گئے ہیں۔ مثال کے طور پر یوں سمجھیے کہ ہندوستان کے لیے ایک نو تعمیر کارخانے کا سامان سمندر کے پار کسی ملک میں تیار کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سامان وہاں کے مختلف کارخانوں میں الگ الگ بنے گا اور تمام سامان الگ الگ جہازوں میں بھر کر ہندوستان روانہ کر دیا جائے گا۔ بظاہر دیکھیے تو تیاری کے پورے مرحلے میں یہ کارخانہ متفرق اور نامکمل چیزوں کا ڈھیر معلوم ہوتا ہے۔

مگر یہ سامان جو مختلف جہازوں میں لد کر آیا ہے، جب یہاں اس کے تمام حصوں کو جوڑ دیا جاتا ہے تو ایک پورا کارخانہ ہماری نظروں کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ تقریباً یہی معاملہ خران کے ساتھ ہوا ہے۔ وہ مستقل اور مکمل دستورِ حیات ہے، اس لیے وہ ایک وحدت ہے۔ وہ مخالف ماحول کا مقابلہ کر کے اس کو موافق بنانے کا پیغام ہے۔

اس لیے حالات و ضروریات کے تحت تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا گیا ہے۔ تاریخی اعتبار سے وہ متفرق احکام کا مجموعہ ہے، مگر خدائے عزیز و حکیم کی منصوبہ بندی نے اس کو ایک نہایت مرتب اور مکمل وحدت بنا دیا ہے۔ آج دنیا میں اربوں اور کھربوں کی تعداد میں کتابیں چھپ کر شائع ہو چکی ہیں۔ ایک ایک فن اور ہر فن کے مختلف شعبوں پر اتنی کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئی ہیں کہ آدمی ساری عمر ان کا مطالعہ کرتا رہے۔

مگر قرآن ایک ایسی کتاب ہے کہ دنیا میں تمام کتابوں کا مطالعہ بھی آدمی کو اس سے بے نیاز نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری کتابوں کے مطالعے سے کوئی شخص صحیح معنوں میں اسی وقت مستفید ہو سکتا ہے جب اسے قرآن کے ذریعے وہ بصیرت حاصل ہو چکی ہو جو ہر معاملے میں فیصلے تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے۔ بحری جہازوں کے لیے ناپیدہ کنار سمندر میں کتب نما کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح زندگی کے الجھے ہوئے مسائل میں صحیح رائے پر پہنچنے کے لیے وحی الہی کی ضرورت ہے۔

جو اس روشنی سے بہرہ مند ہوگا، وہ ہر گہرائی سے اپنی زندگی کی کشتی پار اتار لے گا۔ اور جو اس روشنی سے محروم ہوگا، وہ زندگی کے مسائل میں الجھ کر رہ جائے گا اور کسی صحیح نتیجے تک نہ پہنچ سکے گا۔ خران فطرت کے اس خلا کو پر کرتا ہے جس نے تاریخ کے ہر دور میں انسان کو بے چین کر رکھا ہے۔ روسو نے کہا تھا: "انسان آزاد پیدا ہوا ہے، مگر میں ہر طرف اس کو زنجیر میں جکڑا ہوا پاتا ہوں۔

" میں کہوں گا کہ انسان فطرتاً بندہ پیدا ہوا ہے، مگر وہ مصنوعی طور پر آخا بننا چاہتا ہے۔ انسان بظاہر ایک مکمل وجود معلوم ہوتا ہے، مگر درحقیقت وہ سراپا محتاج ہے۔ جس طرح اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے اس کو ہوا، پانی اور دوسری زمینی پیداوار کی ضرورت ہے، اسی طرح اس کو ذہنی زندگی کے لیے بھی ایک خارجی سہارے کی ضرورت ہے۔ انسان فطرتاً ایک ایسا سہارا چاہتا ہے جس پر وہ مشکل حالات میں اعتماد کر سکے۔

اس کو ایک ایسی قریبی ہستی کی ضرورت ہے جس کے آگے وہ اپنا سر جھکا دے۔ جب وہ تکلیف میں ہو تو کسی حاجت روا کے سامنے ہاتھ اٹھا سکے۔ جب اسے خوشی ہو تو کسی محسن کے سامنے سجدہ شکر بجا لائے۔ جس طرح سمندر میں ڈوبنے والا ایک شخص کشتی کا سہارا چاہتا ہے، اسی طرح اس وسیع و عریض کائنات میں انسان کو ایک مضبوط رسی کی ضرورت ہے جسے وہ تھام سکے۔

کوئی بڑی سے بڑی شخصیت اس کمی سے خالی نہیں ہو سکتی۔ اگر یہ خلا ذاتِ خداوندی کے ذریعے پر کیا جائے تو یہ توحید ہے۔ اور اگر اس کو چھوڑ کر کسی دوسری ہستی کا سہارا ڈھونڈا جائے تو یہ شرک ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں انسان ان دو میں سے کسی نہ کسی سہارے کو اختیار کرنے پر مجبور رہا ہے۔

جو لوگ توحید کے پرستار ہیں، ان کا سہارا قدیم ترین زمانے سے ایک خدا تھا اور اب بھی صرف خدا ہے۔ مگر شرک کے پرستاروں کے قبلے بدلتے رہے۔ پہلے زمانے کا انسان اور موجودہ دور میں بھی بہت سے لوگ فضا کے روشن ستاروں سے لے کر درخت اور پتھر تک بے شمار چیزوں کی پرستش کرتے رہے ہیں۔ اور اب موجودہ زمانے میں قوم، وطن، مادی ترقی اور سیاسی برتری کے جذبات نے اس کی جگہ لے لی ہے۔

انسان کو اب بھی ایک مرکزِ محبت کی ضرورت ہے۔ وہ اب بھی اپنی دوڑ دھوپ کے لیے کوئی منتہی چاہتا ہے۔ اس کو اب بھی اس کی تڑپ ہے کہ کسی کی یاد سے دل کو گرمائے اور زندگی کی توانائی حاصل کرے۔ یہ نئے نئے بت دراصل اسی خلا کو پر کرنے کے لیے گھڑے گئے ہیں۔

مگر جس طرح پتھر کا بت کوئی واقعی سہارا نہ تھا جو انسان کے کسی کام آ سکتا، اسی طرح موجودہ زمانے کے یہ چمکدار بت بھی نہایت کمزور ہیں جو کسی قوم کو حقیقی طاقت نہیں دے سکتے۔ جرمنی نے قومیت کو اپنا بت بنایا، مگر یہ بت اس کے کام نہ آ سکا اور دوسری جنگ عظیم نے اس کو فنا کر دیا۔ اٹلی اور جاپان وطن کے بت کو لے کر اٹھے، مگر یہ بت خود ان کے وطن کو ان کے لیے قبرستان بننے سے نہ روک سکا۔ برطانیہ اور فرانس نے مادی اسباب کو بت بنایا، مگر وہ ان کے کام نہ آیا۔

اور جس سلطنت میں آفتاب غروب نہیں ہوتا تھا، اس کا آفتاب غروب ہو کر رہا۔ خران ہم کو بتاتا ہے کہ اس کائنات میں طاقت کا اصل خزانہ کہاں ہے۔ وہ ہمارے ہاتھ میں اس مضبوط رسی کا سرا دیتا ہے جس کو ٹوٹنا نہیں ہے اور جس کے سوا درحقیقت اس دنیا میں کوئی سہارا نہیں ہے۔ خران ہم کو بتاتا ہے کہ اس کائنات میں حقیقی سہارا صرف ایک خدا کا ہے۔

اسی کے ذریعے دلوں کو سکون ملتا ہے۔ اسی کے ذریعے زندگی کی حرارت حاصل ہوتی ہے۔ اس کا تعلق ہی وہ سب سے مضبوط رسی ہے جو مختلف انسانوں کو باہم جوڑتی ہے۔ وہی نازک مواقع پر ہمارا دستگیر اور مشکل حالات میں ہمارا مددگار ہے۔

اسی کے ہاتھ میں ساری طاقت ہے۔ عزت اس قوم کے لیے ہے جو اس کا سہارا پکڑے اور جو اس کو چھوڑ دے اس کے لیے ذلت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہ علم دراصل تمام خزانوں کی کنجی ہے۔ جس کو یہ ملا اسے سب کچھ مل گیا اور جو اس سے محروم رہا وہ ہر چیز سے محروم رہا۔

ہم ان سائنس دانوں کو بڑی اہمیت دیتے ہیں جنہوں نے بجلی اور بھاپ کی قوتوں کا انکشاف کیا جس سے انسانی تمدن کو ترقی کے مواقع ملے۔ مگر یہ کتاب جس حقیقت کا انکشاف کرتی ہے اس کی عظمت کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف مشینوں کا علم نہیں بلکہ اس انسان کا علم ہے جس کے لیے ساری مشینیں بنی ہیں۔ اس کے ذریعے ہم انسان کو سمجھتے ہیں۔

اس کے ذریعے انسان اپنی زندگی کو کامیاب بنانے کا راز معلوم کرتا ہے۔ اور یہی تاریخ کا وہ اٹل فیصلہ ہے جس سے قوموں کے بننے اور بگڑنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ خران خدا کی آواز ہے۔ ہر بادشاہ کا ایک دستور ہوتا ہے۔

خران خدا کا دستور ہے جو تمام انسانوں کا آخا اور سارے بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ وہ ہدایت ہے جو انسان کو صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ وہ قانون ہے جس میں انسانیت کی تعمیر اور سوسائٹی کی تنظیم کے لیے صحیح ترین بنیادیں ہیں۔ وہ حکمت ہے جس میں دانائی کی تمام باتیں بھری ہوئی ہیں۔

وہ شفا ہے جس میں انسانیت کی بیماریوں کا علاج ہے۔ وہ فرقان ہے جو حق و باطل کی صحیح صحیح نشاندہی کرتا ہے۔ وہ روشنی ہے جس سے انسانیت کے بھٹکے ہوئے قافلے راستے پاتے ہیں۔ وہ یاد دہانی ہے جو انسان کی سوئی ہوئی فطرت کو جگاتی ہے۔

وہ نصیحت ہو جو مالکِ کائنات کی طرف سے اپنے بندوں کے پاس بھیجی گئی ہے۔ غرض اس میں وہ سب کچھ ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے۔ اس کے سوا کہیں اور سے آدمی کو کچھ نہیں مل سکتا۔ خران خدا کی کتاب ہے۔

وہ ایک واسطہ ہے جس کے ذریعے خدا اپنے بندوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔ وہ دنیا میں خدا کا محسوس نمائندہ ہے۔ وہ ان لوگوں کا سہارا ہے جو خدا کی رسی کو مضبوط پکڑنا چاہتے ہوں۔ وہ ایک پیمانہ ہے جس سے انسانوں کی خدا پرستی کو ناپا جا سکتا ہے۔

اگر یہ سوال کیا جائے کہ کوئی شخص اپنے متعلق کس طرح یہ معلوم کرے کہ اس کو خدا سے تعلق پیدا ہو؟ اگر یہ سوال کیا جائے کہ کوئی شخص اپنے متعلق کس طرح یہ معلوم کرے کہ اس کو خدا سے تعلق پیدا ہوا یا نہیں؟ تو اس کا ایک ایک ہی جواب ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اپنے اندر ٹٹول کر دیکھے کہ اس کو خران سے کتنا تعلق ہے۔

خران سے تعلق ہی خدا سے تعلق کا مظہر ہے۔ آدمی کو خران سے جتنا لگاؤ ہوگا خدا سے بھی لگاؤ اسی قدر ہوگا۔ اگر خران اس کی محبوب ترین کتاب ہو تو سمجھنا چاہیے کہ خدا اس کے نزدیک محبوب ترین ہستی ہے۔ اور اگر اس کی محبوب ترین کتاب کوئی اور ہو تو اس کا محبوب بھی وہی شخص ہوگا جس کی کتاب اس نے پسند کی ہے۔

خدا اس کا محبوب نہیں ہو سکتا۔ جس طرح خدا کو ہم قرآن کے سوا کہیں اور نہیں پا سکتے اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ خدا کو پانے کے بعد قرآن کے سوا کوئی اور چیز ہماری محبوب ترین بن سکے۔ خران کا مطالعہ کرنے کی ضرورت صرف اس لیے نہیں ہے کہ اس کے ذریعے سے آدمی اپنے رب کے احکام معلوم کرتا ہے بلکہ دنیا کی زندگی میں خدا سے قریب ہونے اور بندگی کی راہ پر انسان کو استوار رکھنے کا دارومدار بھی اسی پر ہے۔ خران میں آدمی اپنے رب سے ملاقات کرتا ہے۔

خران میں ان وعدوں اور بشارتوں کو دیکھتا ہے۔ اپنے آقا اور مالک کے بارے میں انسان کے فطری احساسات جو اس کے اندر غیر شعوری طور پر امڈتے ہیں وہ دیکھتا ہے کہ قرآن میں ان کو مصور کر دیا گیا ہے۔ جب انسان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ عطا کائنات کے اندر وہ ایک بے سہارا وجود ہے تو خران اس کے لیے منزل کا نشان بن کر ظاہر ہوتا ہے۔ خران آدمی کے لیے وہ یقین مہیا کرتا ہے جس کے مطابق آدمی دنیا میں اپنا مقام متعین کر سکے۔

خران کو محض پڑھ لینا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ عشق کی ضرورت ہے۔ خران سے جب تک غیر معمولی شغف نہ ہو یہ سارے فوائد حاصل نہیں ہو سکتے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو حدیث میں تعہد کے لفظ سے ظاہر کیا گیا ہے۔ تعہد القرآن۔

صحیح البخاری حدیث نمبر 5033۔ خران کی حفاظت کرو۔ خران سے یہ دلچسپی اور اس کی عظمت کا احساس بالواسطہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ کسی مفسر یا ادیب کی زبان سے قرآن کے مضامین سن کر آدمی اس مفسر یا ادیب کا معتقد تو ہو سکتا ہے مگر اس طرح خران سے حقیقی لگاؤ پیدا کرنا ممکن نہیں۔

خران سے تعلق صرف اسی وقت پیدا ہو سکتا ہے جبکہ خود خران کو پڑھا جائے اور اس کے اندر جو کچھ ہے اس کو براہ راست اس کے اپنے الفاظ کے ذریعے سے ذہن میں اتارا جائے۔ یہ محض خیالی بات نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک اہم نفسیاتی حقیقت ہے۔ کسی چیز سے آدمی اسی حیثیت سے متاثر ہوتا ہے جس حیثیت سے وہ اس سے ذاتی طور پر متعارف ہوا ہو۔ مثلاً ہم کہہ سکتے ہیں کہ روئی اور پتھر کا نرم اور سخت ہونا محض اضافی ہے۔

حقیقتاً دونوں بالکل ایک ہیں کیونکہ اپنے آخری تجزیے میں دونوں ایک ہی طرح کے برقی ذرات کا مجموعہ ہیں۔ مگر یہ ایک خالص علمی بات ہے۔ حقیقی دنیا میں یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص روئی کو نرم اور پتھر کو سخت نہ سمجھے۔ تاثر کبھی خارجی علم کا پابند نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف اس علم کا پابند ہوتا ہے جو اسے ذاتی طور پر حاصل ہوا ہے۔

اس مثال کی روشنی میں مسئلے کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ جب ہم قرآن کو خود اس کے لفظوں میں سمجھے بغیر کسی دوسرے شخص کے مضامین اور اس کی تشریحات کے ذریعے اس کا علم حاصل کرتے ہیں تو قدرتی طور پر جو صورتحال پیدا ہوتی ہے وہ یہ کہ ایک طرف خران کی عبارت ہوتی ہے جس کا کوئی مطلب ہماری سمجھ میں نہیں آتا یا اگر سمجھ میں آتا ہے تو بہت معمولی سا اور دوسری طرف ایک مصنف کی تحریر ہوتی ہے جو ہمارے لیے ایک قابل فہم زبان میں ہونے کی وجہ سے خود اپنے آپ کو واضح کرتی ہے۔ خدا کا کلام سمجھ میں نہیں آتا مگر مصنف کا کلام خوب سمجھ میں آتا ہے۔ خدا کی بات میں کوئی خاص معنویت دکھائی نہیں دیتی اور مصنف کا کلام نہایت بامعنی نظر آتا ہے۔

خدا کا کلام پڑھیے تو وہ دل کے اوپر اپنا کوئی اثر نہیں ڈالتا مگر مصنف کی عبارت دیکھیے تو رگ رگ میں پیوست ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہ دو مختلف عبارتوں کا دو بالکل مختلف حیثیتوں سے تعارف ہے جو انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ آدمی کا خارجی علم کہتا ہے کہ کلام برتر وہ ہے جو سمجھ میں نہیں آتا یا اگر سمجھ میں آتا ہے تو اس کے اندر کوئی بڑی بات نہیں ہے اور حقیقی تعارف یہ محسوس کراتا ہے کہ کلام برتر وہ ہے جو اپنی حیثیت کو خود تمہارے اوپر واضح کر رہا ہے۔ اس صورتحال کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خران کے بجائے کسی مصنف کی عظمت اس کے دل پر نقش ہو جاتی ہے۔

روایتی ایمان کی بنا پر وہ اپنی زبان سے یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ مصنف کی تحریروں کو خران پر ترجیح دیتا ہے مگر اس کا اندرونی احساس اس قسم کا ہو جاتا ہے۔ گویا اصل واقعہ یہی ہے۔ وہ غیر شعوری طور پر خدا کے سوا کسی اور شخصیت کی پرستش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ ایک عظیم فتنہ ہے جس کا خطرہ ہر اس شخص کو لاحق ہے جو خدا کے پیغام کو اس کی اپنی زبان کے بجائے کسی دوسرے کی زبان سے سننا چاہتا ہو۔

جو خران کا براہ راست مطالعہ کرنے کے بجائے اس کے متعلق دوسرے لوگوں کی تحریروں کو پڑھ لینا کافی سمجھتا ہو۔ جو خران کو خود خران سے سمجھنے کے بجائے خران کو مفسروں اور ادیبوں کی تحریروں سے سمجھنا چاہتا ہو۔ جس طرح ہم اپنے پیٹ کی بھوک اسی وقت بجھا سکتے ہیں جبکہ خود کھائیں اور اپنے اندر ہضم کریں۔ ٹھیک اسی طرح ہمارا ایمان بھی اسی وقت صحیح اور مکمل ہو سکتا ہے جبکہ ہم نے اس کے اصل ماخذ سے خود حاصل کیا ہو۔

کسی دوسرے کے واسطے سے ہم اس تک ٹھیک ٹھیک نہیں پہنچ سکتے۔ خران کے سلسلے میں یہ ایک اہم سوال ہے کہ خران کا مطالعہ کس طرح کیا جائے کہ وہ اپنی صحیح شکل میں ہمارے ذہنوں میں اتر جائے اور ہماری زندگی میں حقیقی طور پر شامل ہو سکے۔ اس کے لیے سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ خران کا مطالعہ خود خران کی روشنی میں کیا جائے نہ کہ کسی اور چیز کی روشنی میں۔ یہ مطالعہ لازمی طور پر خران کو سمجھنے کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ اپنی پہلے سے کسی طے کی ہوئی بات کو اس سے نکالنے کے لیے۔

جب بھی کوئی شخص متاثر ذہن کے تحت خران کا مطالعہ کرے گا وہ خران کو صحیح طور پر اخذ نہیں کر سکتا۔ ایسا آدمی خران کے آئینے میں اپنی بات دیکھے گا نہ کہ خران کی بات کو۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ انسان کے ذہن میں کسی مطالعے کے نتائج ہمیشہ اس تصور کے مطابق مرتب ہوتے ہیں جو پہلے سے اس کے ذہن میں موجود ہو۔ انسان کے لیے ناممکن ہے کہ وہ چیزوں کو صرف اس حیثیت سے دیکھے جیسے کہ وہ فی الواقع ہوں۔

اکثر حالات میں وہ مجبور ہوتا ہے کہ چیزوں کو اس حیثیت سے دیکھے جیسا کہ اس کا ذہن اسے دیکھنا چاہتا ہے۔ اس طرح جب کوئی شخص ایک خاص ذہن لے کر خران کا مطالعہ کرتا ہے تو عملاً یہ ہوتا ہے کہ وہ خران کی بعض باتوں کو تو لے لیتا ہے جو اس کے ذہن کو چوکھٹے میں بیٹھ سکتی ہوں اور باقی۔ اس طرح جب کوئی شخص ایک خاص ذہن لے کر خران کا مطالعہ کرتا ہے تو عملاً یہ ہوتا ہے کہ وہ خران کی بعض باتوں کو تو لے لیتا ہے جو اس کے ذہن کے چوکھٹے میں بیٹھ سکتی ہوں اور باقی تمام باتوں کو چھوڑتا چلا جاتا ہے۔ اس طرح وہ سارا خران پڑھ لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس نے خران کو پا لیا مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ خران سے بالکل بے خبر ہوتا ہے۔

اس نے جو چیز پائی ہے وہ وہی ہے جو اس کے ذہن میں پہلے سے موجود تھی اور جس کی تائید میں اتفاق سے خران کی بعض آیتیں بھی اسے ہاتھ آ گئیں۔ ایسے آدمی کی مثال بالکل اس تعلیم یافتہ نوجوان کی سی ہے جو اپنی بے کاری سے پریشان ہو اور صرف ضرورت ملازمت کے اشتہارات دیکھنے کے لیے اخبار کا مطالعہ کرتا ہو۔ یہ نوجوان اپنے اس مطالعے کے ذریعے سے ممکن ہے ملازمت کی درخواست بھیجنے کے لیے کچھ پتے حاصل کر لے مگر وہ دنیا کی سیاست سے بالکل بے خبر رہے گا اور اخبار بینی کے اصل مقصد کو حاصل نہ کر سکے گا۔ متاثر ذہن کے ساتھ خران کا مطالعہ کرنے کی مختلف صورتیں ہیں جن میں سب سے زیادہ خطرناک صورت وہ ہے جبکہ آدمی سمجھ رہا ہو کہ وہ اسلام ہی کے لیے خران کا مطالعہ کرنے جا رہا ہے حالانکہ واقعتاً ایسا نہ ہو۔

فرض کیجئے کہ آپ ایک ایسی تحریک سے متاثر ہوتے ہیں جو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے اٹھی ہے مگر وہ صحیح اسلامی تحریک نہیں ہے۔ مثال کے طور پر خاکسار تحریک۔ اس کا انداز اور اس کی روح اسلام کے انداز اور اس کی روح سے مختلف ہے۔ وہ لوگوں کو اسلام کے نام پر بلاتی ہے اور اپنی دعوت کی تشریح کے لیے اسلامی الفاظ اور اصطلاحات استعمال کرتی ہے مگر اس کی حرکت ٹھیک اس سمت میں نہیں ہے جو کہ دراصل اسلام کی ہے۔

اس مثال میں حقیقی صورتحال یہ ہے کہ جس تحریک نے آپ کو متاثر کیا ہے وہ صحیح اسلامی تحریک نہیں ہے مگر آپ کے ذہن میں جو تصور قائم ہوا ہے وہ یہ کہ یہی صحیح ترین اسلامی تحریک ہے اور اس کی خدمت کرنا اسلام کی خدمت کرنا ہے۔ اس تحریک نے آپ کی فکری قوتوں کو اپنے انداز کے مطابق موڑ دیا ہے۔ اب ایک ایسا ذہن لے کر جب آپ خران کا مطالعہ کریں۔ اب ایک ایسا ذہن لے کر جب آپ خران کا مطالعہ شروع کریں گے تو بظاہر آپ یہ سمجھیں گے کہ آپ خران کو حاصل کرنے جا رہے ہیں مگر جو واقعہ ہے وہ یہ کہ آپ خران کے لفظوں میں اپنی بات کی تصدیق کرنا چاہتے ہیں۔

اس طرح مطالعہ کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ خران کی بہت سی چیزیں آپ کو بے کار معلوم ہوں گی کیونکہ وہ آپ کے ذہنی سانچے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی اور کچھ چیزیں ایسی ہوں گی جو آپ کو پسند آ جائیں گی کیونکہ وہ آپ کے ذہنی سانچے میں بیٹھ رہی ہیں۔ اس طرح آپ خران کی کچھ باتوں کو لے لیں گے اور اس کی بہت سی باتوں کو چھوڑ دیں گے۔ آپ اپنے طور پر یہ سمجھتے رہیں گے کہ آپ نے خران کو پا لیا ہے مگر جو حقیقت ہوگی وہ یہ کہ آپ خران سے محروم ہوں گے۔ آپ اسلام کے نام پر خود اسلام کو چھوڑ دیں گے۔

آپ خران کے حوالے سے گفتگو کریں گے مگر حقیقتاً آپ کی گفتگو کا خران سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ اس طرح مطالعے کے وقت انسان کا ذہنی تصور جس درجے میں اسلام سے ہٹا ہوا ہو اسی کے بقدر اس کے مطالعے خران میں نقص ہو جاتا ہے۔ آپ کہیں گے کہ جب صورتحال یہ ہے تو کسی کے بارے میں بھی یقین نہیں کیا جا سکتا کہ اس کا مطالعہ اس کو صحیح نتائج تک پہنچا سکے گا کیونکہ خران کے مطالعے کے بعد ہی تو خران کے مطابق کسی کا ذہن بن سکتا ہے۔ پھر ایک شخص جو ابھی خران کا مطالعہ کرنے جا رہا ہے اور ظاہر ہے کہ پہلی بار ہر شخص کی یہی حیثیت ہوتی ہے تو وہ کس طرح خران کے مطابق اپنے ذہن کو بنا سکتا ہے؟

جواب یہ ہے کہ میرا مطلب یہ نہیں کہ مطالعہ کرنے سے پہلے آدمی کا ذہن خران کے مطابق بن چکا ہو۔ ظاہر ہے کہ یہ بات ناممکن ہے۔ میرا مطلب صرف یہ ہے کہ اس کے اندر اس بات کی صلاحیت ہونی چاہیے کہ خران سے جو کچھ اسے ملے وہ اس کو بے چون و چرا قبول کر لے۔ علماء نے یہ کہا کہ خران سے صحیح طور پر استفادہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس کے لیے خدا سے دعا کرے۔

اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ آدمی کے اندر ہدایت کو قبول کرنے کی آمادگی ہونی چاہیے۔ دعا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کچھ مخصوص الفاظ اپنی زبان سے ادا کر کے تلاوت کا آغاز کیا جائے۔ بلکہ یہ دعا دراصل دل کی اس تڑپ کا اظہار ہے کہ بندہ ہدایت قبول کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ وہ حقیقت کی تلاش میں سرگرداں ہے۔

اس کی طلب پوری طرح ابھری ہوئی ہے۔ وہ ہماتن طالب حق بن کر خدا سے درخواست کر رہا ہے کہ وہ اسے روشنی دے۔ وہ اس کے اندر صحیح خیالات کا فیضان کرے۔ وہ خران کے مطالب کو اس کے لیے کھول دے تاکہ وہ اسے جذب کر سکے۔

یہی جذبہ طلب دراصل وہ چیز ہے جو آدمی کو قبول حق تک لے جاتی ہے اور جس نے اپنی فطری طلب پر خواہشات کے پردے ڈال لیے ہوں اسے کبھی حق کو قبول کرنے کی توفیق نہیں مل سکتی۔ اب سوال یہ ہے کہ خران کا مطالعہ کرنے کے لیے ہم کو اور کون سے علوم جاننے کی ضرورت ہے؟ اس گفتگو کو میں دو حصوں میں تقسیم کروں گا۔ خران کے طالب علم دو قسم کے ہو سکتے ہیں۔

ایک وہ جو زیادہ مطالعہ کرنے کی خواہش مند ہوں اور دوسرے وہ جو اپنے حالات کے تحت اس کو صرف سادہ طریقے پر پڑھنا چاہتے ہوں۔ دوسری قسم کے لوگوں کے لیے صرف ایک چیز سیکھ لینا کافی ہے یعنی خران کی زبان اور پہلی قسم کے لوگوں کو اس کے علاوہ مزید چار علوم میں واقفیت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح دونوں گروہ کے لحاظ سے یہ کل پانچ متعلق علوم ہوئے جو کہ حسب ذیل ہیں۔ نمبر ایک عربی زبان۔

نمبر دو حدیث اور تفسیر۔ نمبر تین سائنس یعنی علوم فطرت۔ نمبر چار ان قوموں کی تاریخ جن میں خدا کے رسول آئے۔ نمبر پانچ قدیم اسمانی صحیفے۔

نمبر ایک خران کا مطالعہ کرنے کے لیے عربی زبان کا جاننا بالکل لازمی ہے۔ اس کی اہمیت کسی ذاتی شرف کی بنا پر نہیں ہے بلکہ صرف اس اعتبار سے ہے کہ اس کے بغیر مطالعہ خران کی ابتدا ہی نہیں کی جا سکتی۔ یہ اس سفر کا پہلا زینہ ہے جس کو طے کیے بغیر اوپر چڑھا نہیں جا سکتا۔ عربی زبان سے واقف ہونے کی ضرورت کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس کے بغیر ہم آیات الہی کا مطلب نہیں سمجھ سکتے۔

ظاہر ہے کہ کوئی کتاب جس زبان میں ہو اس زبان کو جانے بغیر کتاب کو سمجھنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ مگر عربی جاننے کی ضرورت ہم کو صرف اسی لیے نہیں ہے۔ اگر اس کی ضرورت صرف اسی قدر ہوتی تو یہ کام ترجموں کے ذریعے بھی لیا جا سکتا تھا۔ اس سے آگے بڑھ کر عربی زبان سے واقف ہونے کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ خران کے لفظوں میں جو زور اور اثر انگیزی بھری ہوئی ہے اس کو اپنے ذہن میں منتقل کرنا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک آدمی اس کی ادبی نزاکتوں سے آشنا نہ ہو۔

ہر عبارت کا ایک مطلب ہوتا ہے جس کے لیے وہ ترتیب دی جاتی ہے۔ یہ مطلب اس طرح بھی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ ان لفظوں کا ترجمہ کر دیا جائے جن میں وہ عبارت مرتب کی گئی ہے یا ڈکشنری میں دیکھ کر اس کو حل کر لیا جائے۔ مگر اسی کے ساتھ ہر کامیاب عبارت میں ایک تاثیر بھی ہوتی ہے جو پڑھنے والے کو اپنی معنی کی طرف کھینچتی ہے۔ یہ تاثیر معنی سے زیادہ اس کے الفاظ اور انداز بیان میں ہوتی ہے۔

عبارت جن لفظوں میں مرتب کی گئی ہے اگر آدمی ان الفاظ کی حکمت اور بلاغت کو نہ جانتا ہو تو وہ اس کے ترجمے سے اس کا مطلب تو شاید سمجھ جائے مگر اس سے کوئی اثر قبول نہیں کر سکتا۔ خران کی عبارتوں میں بے پناہ روانی ہے۔ اس کے اندر حیرت انگیز طور پر معنی کو لفظوں کی صورت میں مجسم کر دیا گیا ہے۔ خران میں کہیں یقین پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کہیں خدا کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔ کہیں اعمال خیر پر ابھارا گیا ہے۔ کہیں اپنے دعوے کے حق میں انسان کی فطرت اور کائنات کی شہادتوں سے استدلال کیا گیا ہے۔ کہیں انسان کی کامیابی و ناکامی کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے۔

مگر یہ سب کچھ صرف بیان واقعے کے طور پر نہیں ہے بلکہ ایسے بلیغ اور موثر انداز میں ہے کہ ہر جگہ آدمی پر وہی کیفیت طاری ہوتی ہے جو کہ دراصل وہاں مقصود ہے۔ خران کا انداز بیان ایسا مسحور کن ہے کہ آدمی اس کو صرف پڑھتا نہیں بلکہ اس میں غرق ہو جاتا ہے۔ وہ اس کو صرف پڑھ کر چھوڑ نہیں دیتا بلکہ وہ مجبور ہوتا ہے کہ اس پر ایمان لائے۔ خران کا یہ اسلوب نصف خران ہے۔

یہی وجہ ہے کہ خران کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے عربی زبان کا سیکھنا نہایت ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی ضرورت ہے جس کا حقیقی معنوں میں کوئی بدل نہیں۔ آخرت میں خدا کے نیک بندوں کو اپنے رب سے جو قربت نصیب ہوگی وہ دراصل اس کوشش کا نتیجہ ہوگی جو دنیا میں آدمی اپنے رب سے قریب ہونے کے لیے کرتا ہے۔ اور یہ قربت کلام الہی سے گہرا تعلق قائم کیے بغیر نہیں ہو سکتی۔

اس لیے جو شخص بھی خدا کا بندہ بننا چاہتا ہو اور آخرت میں خدا کی رحمت حاصل کرنے کا امیدوار ہو اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کتاب کی زبان سیکھے جس میں اللہ تعالی نے اس سے کلام کیا ہے۔ آخرت کے مسافر کے لیے عربی زبان کا سیکھنا بالکل اسی قسم کی ایک ضرورت ہے جیسے کسی غیر ملک کی سفارت حاصل کرنے کے لیے اس ملک کے حالات جاننا اور وہاں کی زبان سیکھنا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کی ضرورت مسلم مگر موجودہ زمانے میں ہر شخص کو اتنا موقع کہاں ہے کہ وہ ایک غیر ملک کی زبان میں واقفیت اور مہارت حاصل کرے۔ مگر کیا فی الواقع صورتحال یہی ہے کہ موجودہ زمانے کے انسان کے لیے کوئی نئی زبان سیکھنا یا کسی زبان میں اپنی واقفیت کو بڑھانا ممکن نہیں رہا؟

حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ یہ کام آج جتنا کیا جا رہا ہے پہلے شاید کبھی نہیں کیا گیا تھا۔ ہماری آنکھوں نے یہ تماشہ دیکھا ہے کہ آزادی کے بعد ملک کے جن مقامات پر ہندی کو سرکاری کام کا ذریعہ قرار دیا گیا تھا وہاں کے وہ ملازمین جو اب تک ہندی زبان سے ناواقف تھے انہوں نے دن رات ایک کر کے ہندی زبان سیکھی اور اب اس قدر بے تکلفی کے ساتھ ہندی میں کام کرتے ہیں گویا وہ ہمیشہ سے ان اس کو جانتے تھے۔ اسی طرح جو لوگ دنیاوی ترقی چاہتے ہیں ان کو ہم عام طور پر دیکھتے ہیں کہ پرائیویٹ طور پر تیاری کر کے بی اے اور ایم اے کے امتحانات دیتے رہتے ہیں اور یہ سب کچھ دوسرا کام کرتے ہوئے انجام دیا جاتا ہے۔

اس سے صریح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ کمی اگر ہے تو فرصت کی نہیں بلکہ ارادے کی ہے۔ اگر یہ چیز موجود ہو تو نئی زبان بھی سیکھی جا سکتی ہے اور دوسری مصروفیتوں کے ساتھ ایک غیر زبان میں اپنی واقفیت بڑھانے کا سلسلہ بھی جاری رہ سکتا ہے۔ سادہ انداز میں خران سے استفادہ کرنے کے لیے صرف عربی زبان کا جاننا کافی ہے۔ مگر جو لوگ زیادہ گہرائی کے ساتھ خران کا مطالعہ کرنا چاہتے ہوں ان کے لیے مزید چند چیزوں میں واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔

نمبر دو خران کا گہرا مطالعہ کرنے کے لیے پہلی مددگار چیز سنت اور تفسیر کا علم ہے۔ ان دونوں کو ہم نے ایک خانے میں اس لیے نہیں رکھا ہے کہ دونوں کا مقام ایک ہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سنت صحیحہ اور خران میں کوئی فرق نہیں۔ ان میں سے ایک کا مطالعہ کرنا گویا دوسرے کا مطالعہ کرنا ہے۔

اس کے برعکس تفسیر کسی انسان کے مطالعے خران کے نتائج کا نام ہے۔ اور انسان کا مطالعہ خواہ وہ کسی بھی شخص کا ہو اس میں غلطیوں کا امکان ہے۔ اس لیے تفسیر کبھی خران کی جگہ نہیں لے سکتی اور نہ اس کو کسی حال میں سنت کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ اس فرق کے باوجود ان دونوں کو ایک سلسلے میں رکھنے کی وجہ دراصل وہ تاریخی نوعیت ہے جو خران کے مقابلے میں اسے حاصل ہے۔

خران جس طرح مکمل اور محفوظ شکل میں ہم تک پہنچا ہے روایات اسی طرح ہم تک نہیں پہنچی ہیں۔ صحیح روایات کے ساتھ بہت سی غلط روایات بھی شامل ہو گئی ہیں۔ اسی لیے علماء نے خران کے مقابلے میں اس کو خطی علم کے بجائے زنی علم کی حیثیت دی ہے۔ اگر احادیث میں زن اور شبہ کا دخل نہ ہوتا اور ان کا ایسا کوئی ذخیرہ موجود ہوتا جس کو خطی طور پر محفوظ قرار دیا جا سکے تو احادیث کو بھی اسی طرح اصل کا درجہ دیا جاتا جیسا کہ خود خران کا ہے۔

صرف حدیث ہی نہیں بلکہ وہ تمام ماخذ جو خران سے متعلق ہیں ان سب کا یہی معاملہ ہے۔ مثلا تاریخ اور گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے صحیفے اگر اپنی اصلی شکل میں محفوظ ہوتے تو یہ سب بھی خران ہی کی طرح اصل قرار پاتے اور سب بلا اختلاف ایک دوسرے کی تائید کرتے۔ تفسیر اور روایات کا ذخیرہ خران کو سمجھنے کے لیے ایک اہم مددگار کی حیثیت رکھتا ہے۔ صحیح روایات کی حیثیت یہ ہے کہ وہ خود خران لانے والے کی زبان سے خران کی تشریح ہے۔

وہ ان امور کی تفصیل ہے جن کو کتاب الہی نے مجمل چھوڑ دیا ہے۔ وہ ان اشارات کی تعین ہے جن کو خران نے واضح نہیں کیا ہے۔ وہ ان مقاصد کی مزید وضاحت ہے جن کے لیے خران نازل کیا گیا تھا۔ اس لیے جو شخص خران کو سمجھنا چاہتا ہو اس کے لیے لازم ہے کہ محبت خران کے ارشادات سے استفادہ کرے۔

اس کے بغیر وہ خران کے مطالب تک نہیں پہنچ سکتا۔ اسی طرح تفاسیر کا ذخیرہ امت کے بہترین دماغوں کی کاوش کا نتیجہ ہے جو صدیوں سے خران کو سمجھنے کے سلسلے میں وہ کرتے چلے ارہے ہیں۔ یہ تاریخ کے لمبے ادوار میں خران کے مطالعہ کرنے والوں کے نتائج فکر ہیں جن کو چھوڑ کر خران کا مطالعہ کرنا بالکل ایسا ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ پچھلی صدیوں میں سائنس نے جو کچھ دریافتیں کی ہیں ان سب کو چھوڑ کر میں اثر نو کائنات پر غور کروں گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم خران کے مطالعے کے لیے تفسیر اور روایات کے ذخیرے سے مدد لیں۔

ان کو چھوڑ کر خران کا مطالعہ کرنا ایک سر پھرے آدمی کا کام تو ہو سکتا ہے مگر کوئی سنجیدہ آدمی ہرگز اس قسم کی حماقت نہیں کر سکتا۔ نمبر تین خران نے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دو چیزوں سے خاص طور پر استدلال کیا ہے۔ ایک زمین و اسمان کی تخلیق اور دوسرے پچھلی قوموں کے حالات۔ خران کا یہ عام اسلوب ہے کہ اپنے دعوے کے حق میں فطرت کے دلائل دے کر تاریخی واقعات سے اس کا مزید استحکام کرے۔

پہلی چیز اس واقعے کی محسوس شہادت ہے کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے جس کی مرضی معلوم کرنا ہمارے لیے ضروری ہے۔ اس کو چھوڑ کر انسان کامیابی تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور دوسری چیز اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا ہر زمانے میں کچھ انسانوں کے ذریعے اپنی مرضی بھیجتا رہا ہے۔ جن لوگوں نے اس کو قبول کیا وہ کامیاب ہوئے اور جنہوں نے اس کو نہیں مانا وہ تباہ کر دیے گئے۔

کائنات زبان حال سے جس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے اقوام سابقہ کی تاریخ زبان قال سے اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ دونوں دلیلیں آج بھی خران کو سمجھنے اور اس پر ایمان لانے کے سلسلے میں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ خران اگرچہ سائنس کی کتاب نہیں ہے اور نہ وہ عام معنوں میں کوئی تاریخ ہے مگر سائنس اور تاریخ یہی وہ خاص علوم ہیں جن پر ان کے استدلال کی بنیاد قائم ہے۔ اس لیے خران کا کوئی طالب علم ان علوم سے بے نیاز رہ کر خران سے صحیح فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔

پہلے قسم کے استدلال کے سلسلے میں خران نے افاق و انفس کی بہت سی نشانیوں کا ذکر کیا ہے اور ان پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ یہ دلائل خران میں اس طرح نہیں آئے ہیں کہ ان کا تفصیلی تجزیہ کر کے سائنٹیفک انداز میں ان کے نتائج مرتب کیے گئے ہوں۔ بلکہ کائنات کی نشانیوں کا ذکر کر کے ان کی مختلف جہتوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے جو غور کرنے والے کے لیے رہنمائی کا کام دیتی ہیں۔ گویا دلائل کی تفصیل نہیں ہے بلکہ دلائل کے عنوانات ہیں۔

اس لیے ان سے پورا فائدہ اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جبکہ کائنات کے متعلق مزید معلومات کو سامنے رکھ کر ان کا مطالعہ کیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں وہ معلومات اور نتائج آدمی کے ذہن میں ہونے چاہیے جن سے ان دلائل کی وضاحت ہوتی ہے اور جو اس کے اشارات کو مفصل بنانے والے ہیں۔ مثلا خران کہتا ہے سورہ نمبر 67 آیت 15 وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے فرمانبردار بنایا تو چلو پھرو اس کے کندھوں پر ان الفاظ میں جس عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کی تفصیل ہم کو خران میں نہیں ملے گی بلکہ خارجی لٹریچر میں اس کو تلاش کرنا پڑے گا خارجی مطالعے سے ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ زمین کو کس طرح عطا خلا کے اندر ٹھہرا کر ہمارے لیے قابل رہائش بنایا گیا ہے اور کس طرح مختلف قسم کے اہتمام کے ذریعے اس کو زندگی کے بقا اور انسانی تمدن کے ارتقا کے لیے سازگار بنایا گیا ہے۔ خران کہتا ہے کہ اس کائنات کا خالق اور اس کا مدبر صرف ایک خدائے وحدہ لا شریک ہے۔

اس کا دعوی ہے کہ یہ کائنات ایک الٹپ کارخانہ نہیں ہے بلکہ ایک منظم اسکیم کا آغاز ہے جس کا انجام انا چاہیے۔ کائنات کی اس حقیقت کو واضح کرنے کے بعد وہ انسان کو اس کے ماننے کی دعوت دیتا ہے۔ وہ اس سے کہتا ہے کہ اس تصور کائنات کے لازم معنی یہ ہیں کہ کائنات کا انجام خدا کے ہاتھ میں ہو اور کائنات کی تمام چیزوں کے لیے کامیابی کا راستہ صرف یہ ہو کہ خدا کی مرضی کو پا لے۔ اس طرح وہ رسالت اور وحی کی ضرورت ثابت کر کے اس کی طرف بلاتا ہے۔

پھر وہ انسان کو کائنات کے ان انتظامات کی یاد دلاتا ہے جو خدا نے انسان کے لیے کیے ہیں اور جن کے بغیر انسانی زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان احسانات کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنے محسن کے آگے جھک جائے۔ پھر وہ انسان کو بتاتا ہے کہ وہ کس قدر عاجز اور حقیر مخلوق ہے اور خود اس کے اپنے عجز ہی کا یہ تقاضا ہے کہ وہ خدا کی رسی کو مضبوط تھام لے جس کے سوا دراصل یہاں کوئی سہارا نہیں ہے۔ یہ تمام باتیں جو خران پیش کرتا ہے ان سب کے سلسلے میں اس کا اصل استدلال انسان کے اپنے وجود اور زمین و اسمان کے اندر پھیلی ہوئی نشانیوں سے پر ہے۔

وہ ہمارے مشاہدات اور تجربات ہی کی دلیل سے ہم کو اپنے نظریے کا مومن بنانا چاہتا ہے۔ اس لیے ان نشانیوں کو صحیح طور پر سمجھنے اور ان سے پورا فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم کو ان کے بارے میں ضروری علم حاصل ہو۔ جب خران کائنات کے کسی واقعے کی طرف اشارہ کرے تو ہم کو معلوم ہو کہ وہ کیا ہے۔ وہ جب کسی نشانی کا حوالہ دے تو ہم جانتے ہوں کہ ہماری زندگی کے لیے اس کی کیا اہمیت ہے۔

وہ جب کسی دلیل کا ذکر کرے تو ہم اس دلیل کے اطراف و جوانب سے اتنی واقفیت رکھتے ہیں کہ اس پر غور کر سکیں۔ غرض وہ جب بھی کائنات کے کسی رخ کو ہمارے سامنے لائے تو ہماری انکھیں اس کو دیکھنے کے لیے کھلی ہوئی ہوں اور ہمارا ذہن اس کو سمجھنے کے لیے ضروری واقفیت اپنے پاس رکھتا ہو۔ ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ خران میں کائنات کی جو دلیلیں مذکور ہوئی ہیں وہ آخر مجمل انداز ہی میں کیوں ہیں؟ ان کو اتنا مفصل ہونا چاہیے تھا کہ خران میں ان کو پڑھ لینا کافی ہوتا۔

خارجی معلومات لے کر اس کا مطالعہ کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ جواب یہ ہے کہ انسانی زبان میں کوئی بھی کتاب ایسی نہیں لکھی جا سکتی جس میں وہ تمام باتیں اپنی ساری تفصیل کے ساتھ درج ہوں جن کا اس کتاب میں ذکر آیا ہے۔ ہر مصنف کو لازمی طور پر یہ فرض کرنا پڑتا ہے کہ اس کا پڑھنے والا فلاں فلاں قسم کی معلومات پہلے سے رکھتا ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہو تو دنیا میں شاید صرف انسائیکلوپیڈیا کا وجود ہو۔

کوئی مختصر کتاب لکھی ہی نہ جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ خران نے بہت سے امور میں صرف اشارات سے کام لیا ہے۔ جو باتیں وحی کے بغیر معلوم نہیں کی جا سکتی ان کی تو خران میں پوری تفصیل کی گئی ہے۔ مگر وہ باتیں جن کے جاننے کے لیے لازمی طور پر وحی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انسان خدا کی دی ہوئی عقل سے کام لے کر بھی انہیں معلوم کر سکتا ہے۔

ایسی باتوں کی طرف صرف اشارہ کر دیا گیا ہے اور انسان سے کہا گیا ہے کہ ان پر غور کرو۔ اس کے علاوہ خران کے اس طرز بیان کے پیچھے ایک اور عظیم مصلحت ہے۔ خران ایک عام آدمی کے لیے بھی ہے اور ایک فلسفی کے لیے بھی۔ وہ ماضی کے لیے بھی تھا اور مستقبل کے لیے بھی ہے۔

اس لیے اس نے اپنی گفتگو کا ایسا انداز اختیار کیا جو ڈیڑھ ہزار برس پہلے کے انسان کے لیے قابل فہم ہو سکتا تھا۔ اور پھر ان تمام لوگوں کے لیے بھی اس کے اندر نصیحت ہے جو آئندہ حاصل شدہ معلومات کو ذہن میں رکھ کر خران کا مطالعہ کریں۔ خران نے ان دلائل کا ذکر کرتے ہوئے ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں جو بعد کے زمانوں میں حاصل شدہ معلومات کو بھی سمیٹ لیتے ہیں۔ یہ قرانی انداز کلام کا اعجاز ہے کہ کائنات کی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے جس کے اندر ایک ایسا آدمی بھی اپنی تسکین پا لیتا ہے جو کائنات کے بارے میں بہت تھوڑی معلومات رکھتا ہو اور انہیں الفاظ میں ایک سائنسدان اور فلسفی کے لیے بھی تسکین و تشفی کا سامان موجود ہے۔

نمبر چار دوسری چیز جس پر خران کے استدلال کی بنیاد ہے وہ تاریخ ہے۔ خران انسانی تاریخ کو دو دوروں میں تقسیم کرتا ہے۔ ایک چھٹی صدی عیسوی سے قبل کی تاریخ جس کو وہ اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ وہ حق و باطل کی اویزش کی تاریخ ہے جس میں لازمی طور پر ہمیشہ حق کو غلبہ ہوا ہے اور باطل کو شکست ہوئی ہے۔ خران کے مطابق چھٹی صدی عیسوی تک انسانی تاریخ جس انداز میں سفر کرتی رہی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے اوپر انسان نے جتنی بھی آبادیاں قائم کیں ان میں خدا کی طرف سے ایک نمائندہ یعنی رسول آیا۔

اس نے انسانوں کو ان کی زندگی کا مقصد بتایا۔ اس نے کہا کہ خدا نے مجھ کو یہ پیغام دے کر تمہارے پاس بھیجا ہے کہ تم اس کی بندگی کرو اور میں جو کچھ کہوں اس کو مانو۔ اس نے کہا کہ اگر تم میری بات نہ مانو گے تو تباہ کر دیے جاؤ گے۔ اس طرح نبی کا یہ چیلنج کہ زندگی و موت کا انحصار اس کی دعوت کو ماننے یا نہ ماننے پر ہے۔

یہ خود نبی کے دعوے کی صحت کو جانچنے کا ایک معیار بن گیا۔ خران کہتا ہے کہ تاریخ کسی استثنا کے بغیر مسلسل اس دعوے کے حق میں فیصلہ کرتی آئی ہے۔ جب بھی خدا کا کوئی رسول اٹھا تو کچھ لوگوں نے اس کی دعوت کو مانا اور کچھ لوگوں نے اس کا انکار کیا۔ اگر رسول کے پیروں کی تعداد اتنی ہوئی کہ وہ ایک منظم گروہ کی شکل اختیار کر سکے تو اس کو منکرین کے گروہ سے ٹکرایا گیا اور انہیں شکست دے کر ختم کر دیا گیا۔

اور اگر رسول کا ساتھ دینے والے بہت کم ہوئے تو خدا نے اپنی غیر معمولی مدد بھیج کر اس کو غالب کیا۔ حجت تمام کرنے کے بعد بالاخر رسول کی زبان سے یہ چیلنج دے دیا گیا۔ سورہ نمبر 11 آیت 65 یعنی اپنی بستیوں میں تین دن اور چل پھر لو اس کے بعد تمہارے لیے زندگی کا کوئی موقع نہیں یہ وعدہ جھوٹا نہیں ہے چنانچہ خدا کا عذاب اپنے ٹھیک وقت پر آیا اور نبی اور اس کے پیروں کے سوا سب لوگ ہلاک کر دیے گئے اس طرح ہر زمانے میں خدا اپنے رسولوں کو غالب کر کے اس کے دعوے کا صحیح ہونا ثابت کرتا رہا ہے یہ گویا تاریخ کی شہادت ہے کہ پچھلی تاریخ میں جن لوگوں نے اپنے آپ کو نمائندہ الہی کی حیثیت سے پیش کیا وہ واقعی طور پر خدا کے نمائندے تھے اور انسان کے لیے ضروری ہے کہ ان کی تعلیمات کو اختیار کرے جو ایسا نہ کرے گا تباہ و برباد ہو جائے گا ٹھیک یہی صورتحال خود آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے میں پیش آئی جن کے متعلق حضرت مسیح کا یہ قول پورا ہوا کہ جو اس سے ٹکرائے گا وہ پاش پاش ہو جائے گا۔ تاریخ کی یہ نوعیت ہم کو تاریخ کے مطالعے کی طرف متوجہ کرتی ہے تاکہ ہم خران کے ان وعدوں کو سمجھ سکیں جو اس نے پچھلی قوموں کے بارے میں کیے ہیں۔

مگر اس سلسلے میں ایک بڑی زحمت یہ ہے کہ پچھلی تاریخ اپنی اصلی شکل میں محفوظ نہیں ہے۔ پچھلی صدیوں میں جن لوگوں کے ہاتھوں علوم کا نشونما ہوا ہے انہوں نے سائنس اور تاریخ دونوں کو مسخ کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ انہوں نے اس ڈھنگ سے کیا گویا وہ بذات خود کوئی مستقل چیز ہے اور اپنے آپ حرکت کرتی ہے۔ یہ مطالعہ ان کو صرف اس حد تک پہنچاتا ہے کہ جو ہے وہ کیا ہے۔

وہ اس کی طرف نشاندہی نہیں کرتا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے۔ اس کے سلسلے میں نہ صرف یہ کہ علمائے سائنس خاموشی اختیار کرتے ہیں بلکہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی ہے کہ جو کچھ ہم کو محسوس ہوتا ہے وہی اصل حقیقت ہے۔ اس کے پیچھے کوئی اور حقیقت نہیں۔ کائنات کا حیرت انگیز نظم اور اس کے مختلف اجزاء کا باہمی توافق اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ اس کے پیچھے کوئی بالاتر ذہن کام کر رہا ہے بلکہ یہ محض ایک حسن اتفاق ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

اسی طرح تاریخ نگاری کا رخ بھی بالکل دوسرا اختیار کیا گیا ہے۔ قدیم تاریخ میں قوموں کے عروج و زوال کے نہایت حیرت انگیز واقعات نظر آتے ہیں۔ زمین کی تہوں سے ایسے نشانات برآمد ہوئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کتنی ترقی یافتہ اور مہذب قومیں تھیں جو زمین کے نیچے دبا دی گئیں۔ مگر ہمارے مورخین کے نزدیک ان واقعات کا حق و باطل کی جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مثلاً مصر کی تاریخ میں فرعون کی غرقابی کا ذکر اس طرح آتا ہے کہ بادشاہ سلامت ایک روز دریا پر نہانے گئے تھے کہ اتفاق سے وہاں ڈوب گئے۔ اس طرح سابق مورخین کا نقطہ نظر اس فلسفہ تاریخ سے بالکل مختلف ہے جو خران نے پیش کیا ہے۔ غرض سائنس اور تاریخ دونوں کا رخ موجودہ زمانے میں غلط ہو گیا ہے۔ تاہم جہاں تک پہلی چیز یعنی علوم فطرت کا تعلق ہے اولا تو تمام سائنس دانوں کا انداز یکساں نہیں ہے۔

دوسرے ان کے اخذ کردہ نتائج کو بھی نہایت آسانی کے ساتھ صحیح رخ کی طرف موڑا جا سکتا ہے۔ ان کے سلسلے میں ہمارا کام صرف یہ ہے کہ جن واقعات کو وہ اتفاق یا قانون علت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں ان کو خدا کے تصرف کا نتیجہ ثابت کریں۔ مگر تاریخ کے سلسلے میں یہ ایک اہم سوال ہے کہ کیا کیا جائے؟ خران کے سوا صرف بنی اسرائیل کا مذہبی لٹریچر ہے جو خران کے تاریخی نظریے کی تائید کرتا ہے۔

اس کے علاوہ غالباً کہیں سے بھی اس کی تائید نہیں ملتی۔ اس سلسلے میں خران کے طالب علم کو بہت سے کام کرنے ہیں۔ مثلاً دوسرے مذاہب کا لٹریچر کا اس حیثیت سے جائزہ لینا کہ وہ قوموں کے عروج و زوال کا کیا فلسفہ پیش کرتا ہے۔ ان کے یہاں بہت سی غلط روایات شامل ہو گئی ہیں۔

مگر یہ عین ممکن ہے کہ ایسے اشارات اور ایسی بنیادیں مل سکیں جن سے خران کے تصور تاریخ کے حق میں استدلالی خریدنا حاصل کیا جا سکے۔ اسی طرح قدیم ترین مورخوں کے یہاں چھان بین کرنی ہے کہ انہوں نے سابقہ اقوام کے حالات میں کیا کچھ بیان کیا ہے۔ اثار قدیمہ کی کھدائی سے جو نشانات اور کتبات برآمد ہوئے ہیں ان کا جائزہ لے کر دیکھنا ہے کہ ان کے ذریعے سے خران کے فلسفہ تاریخ کی کس حد تک تائید ہوتی ہے۔ یہ ایک بہت مشکل کام ہے مگر قرانی استدلال کے ایک جز کو واضح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سلسلے میں بھی کچھ کام کیا جائے۔

یہ کام ہر طالب قران کا نہیں ہے مگر کچھ لوگوں کو ضرور یہ کام کرنا چاہیے تاکہ دوسرے لوگ ان کی تحقیقات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ علم الحیات کے ماہرین یعنی بیالوجسٹس کا خیال ہے کہ انسان اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ تقریباً تین لاکھ برس سے اس زمین پر آباد ہے۔ مگر ان کو یہ بات بڑی تعجب خیز معلوم ہوتی ہے کہ موجودہ تمام ذہنی صلاحیتوں کے باوجود انسان کی ترقی کی عمر ابھی چند سو سال ہے۔ اس سے پہلے ہزاروں لاکھوں برس وہ خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتا رہا اور پتھر کے چند بے ڈھنگے ہتھیار بنانے کے سوا اس نے کوئی نمایاں ترقی نہ کی۔

اس کو اپنے ہتھیاروں کو سیدھی دھار دینے اور اگ کے استعمال کو سیکھنے کے لیے ہزاروں برس درکار ہوئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اب سے چھ ہزار برس قبل انسان کو وادی نیل میں خدرو جو اگتے ہیں دکھائی دیے اور اس مشاہدے سے اس نے زراعت کا راز معلوم کیا۔ طریق زراعت کے انکشاف اور اس کے اختیار کرنے سے انسان سکونتی زندگی پر مجبور ہوا اور اس کے بعد تمدن کی بنیاد پڑی۔ مگر یہ انسانی تاریخ کا صحیح مطالعہ نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس زمین پر بار بار نہایت شاندار تمدن پیدا ہوئے اور مٹا دیے گئے۔ قومیں ابھریں اور فنا ہو گئیں۔ پچھلے زمانے میں جب نبیوں کی امد کا سلسلہ جاری تھا۔ کسی قوم میں نبی کا انا دراصل اس کے لیے خدا کی عدالت کا قائم ہونا تھا۔

تاریخ میں بار بار ایسا ہوا کہ قومیں ابھریں اور انہوں نے بڑے بڑے تمدن قائم کیے۔ مشہور مورخ سر فلینڈرز یعنی سر ڈبلیو ایم فلینڈرز پیٹری 1853 تا 1942 نے اپنی کتاب انقلابات تمدن یعنی دا ریولوشنز اف سویلائزیشن میں لکھا ہے کہ تمدن ایک مظہر ہے جو متوالی ہے۔ سویلائزیشن از این انٹرمیٹنٹ فینامینن یعنی بار بار اتا ہے۔ اس نے ثابت کیا ہے کہ پچھلے دس ہزار برسوں میں تقریبا اٹھ تمدنی دور گزرے ہیں۔

ہر دور سے قبل ایک زمانہ بربریت کا گزرا ہے اور اس کے بعد عہد زوال ایا ہے۔ اس نظریہ تاریخ کو اگر صحیح مان لیا جائے تو اس سے بھی ہمارے خیال کی تائید ہوتی ہے۔ مگر جب نبی ایا اور انہوں نے اس کی اطاعت نہیں کی تو خدا کی عدالت سے ان کے لیے فنا کا فیصلہ ہوا اور وہ اپنے بڑے بڑے شہروں اور قلعوں کے ساتھ تباہ کر دی گئیں۔ دوسرے دور کے بعد اب یہ عمل قیامت کے دن ہوگا۔

اس وقت ساری دنیا بیک وقت فنا کر کے تمام انسان خدا کی عدالت میں حاضر کیے جائیں گے۔ اس صورتحال نے قدیم دور میں تمدن کو ترقی اور بقا کے وہ مواقع نہیں دیے جن کا موقع بعد کے دور میں حاصل ہوا ہے۔ قدیم تاریخ اور جدید تاریخ کے اس پہلو کا علم نہایت ایمان افروز بھی ہے اور قرانی دلائل کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم بھی۔ نمبر پانچ اس سلسلے میں اخری چیز جو خران کے مطالعے کے لیے مددگار علم کی حیثیت رکھتی ہے وہ بنی اسرائیل کی مذہبی کتابوں کا مطالعہ ہے جن کا خران میں بار بار ذکر ایا ہے۔

خران کے مطالعے کے سلسلے میں صحوف بنی اسرائیل کا مطالعہ کرنا گویا ایک اسمانی کتاب کو سمجھنے کے لیے دوسری اسمانی کتاب سے مدد لینا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم کتب سابقہ کو بطور معیار تسلیم کر رہے ہیں۔ یہ کتابیں کبھی معیار نہیں بن سکتی۔ اس سے قطع نظر کہ ان میں تحریف ہو چکی ہے اور وہ اپنی اصلی شکل میں باقی نہیں رہی ہیں۔

یہ واقعہ کہ خران اسمان سے اترنے والی اخری کتاب ہے اور بقیہ تمام کتابیں اس سے پہلے کی ہیں اور بقیہ تمام کتابیں اس سے پہلے کی ہیں۔ صرف یہ حقیقت اس کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ خران ہی کو معیار ہونا چاہیے۔ کسی بادشاہ کا اخری فرمان اس کے سابقہ فرامین کا ناسخ ہوتا ہے نہ کہ سابقہ فرامین اس کے اخری فرمان کی تنسیخ کرتے ہیں۔ جو شخص اخری فرمان کو چھوڑ کر سابقہ فرمان کی پیروی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ بھی تو مالک کی طرف سے ایا ہے وہ قطعی طور پر نفس پرستی میں مبتلا ہے۔

وہ اپنی رائے کی پرستش کر رہا ہے نہ کہ صاحب فرمان کے حکم کی۔ اس لیے خران خدا کی مرضی معلوم کرنے کے لیے اخری سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ بقیہ کتابوں سے ہم قران کا حقیقی مفہوم سمجھنے میں مدد لے سکتے ہیں مگر ان کو حجت نہیں بنا سکتے۔ مدد لینے کی دو صورتیں ہیں۔

ایک تو زبان اور اسلوب بیان کے اعتبار سے دوسرے تعلیمات کے اعتبار سے۔ یہ معلوم ہے کہ انجیل اور تورات کی اصل زبان عبرانی ہے اور عربی اور عبرانی دونوں ایک ہی اصل سے نکلی ہیں۔ اس لیے قدرتی طور پر دونوں زبانوں میں کافی مشابہت ہے اور ایک زبان دوسری زبان کے سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ پھر اسمانی کتابوں کا ایک خاص انداز بیان ہے۔

اس طرح کتب مقدسہ کا مطالعہ اس مخصوص طرز بیان سے ہم کو واقف کراتا ہے اور اس کی بلاغت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے جو اسمانی کتابوں کا ہمیشہ سے رہا ہے۔ چنانچہ مفسرین نے خران کے بہت سے الفاظ اور بیانات کا مطلب سمجھنے میں کتب سابقہ سے مدد لی ہے اور نہایت مفید معنی تک رسائی حاصل کی ہے۔ دوسری چیز تعلیمات ہیں۔ اگر تفصیل اور ضروریات زمانے کے لحاظ سے جزئی فرق کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہ ایک واقعہ ہے جو پچھلی کتابوں میں بھی وہی تمام باتیں خدا کی طرف سے نازل کی گئی تھیں جو خران کے ذریعے ہم تک بھیجی گئی ہیں۔

اس لیے اپنی اصلی حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے کی تائید کرنے والے ہیں نہ کہ اختلاف کرنے والے۔ کتب سابقہ کی یہی وہ حیثیت ہے جس کی بنا پر وہ مطالعہ خران کے لیے ایک مفید ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جس طرح خران میں ایک ہی مضمون کو مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے اور اس طرح کی کسی ایک ایت کو سمجھنے کے لیے اسی قسم کی دوسری ایت سے مدد ملتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح خدا کا کلام جو بعد زمانے میں خران کی شکل میں ایا ہے وہ اس سے پہلے بنی اسرائیل کے انبیاء پر مختلف شکلوں میں نازل ہوتا رہا ہے۔

اس لیے سابقہ کتب میں خدا کا جو کلام ہے وہ اس کے بعد کے کلام کو سمجھنے میں ایک مددگار کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ خران کے مطالعے کے سلسلے میں مددگار علوم کا ایک مختصر ذکر ہے۔ آخر میں اسی بات کو میں پھر دہراؤں گا جس کو میں شروع میں کہہ چکا ہوں۔ یعنی یہ کہ ان سب سے بڑھ کر جو چیز خران سے استفادہ یا فہم خران کے لیے ضروری ہے وہ انسان کا اپنا ارادہ ہے۔

بقیہ علوم خران کو سمجھنے میں بقیہ علوم خران کو سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ مگر خران کو جذب کرنے کے لیے کسی خارجی علم کی ضرورت نہیں۔ انسان کا اپنا جذب طلب ہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے وہ خران کو جذب کرتا ہے۔ خران کتاب ہدایت ہے۔

کسی کے ذہن میں خران کا اتر جانا دوسرے لفظوں میں یہ معنی رکھتا ہے کہ اس شخص کو ہدایت حاصل ہو گئی۔ اس کو خیر و شر کے دو راستوں میں سے اس راستے کو اختیار کرنے کی توفیق ملی جو اس کی زندگی کو کامیابی کی طرف لے جانے والا ہے۔ اور ہدایت کا ملنا نہ ملنا تمام تر ادمی کے اپنے ارادے پر منحصر ہے۔ ہدایت دینے والا خدا ہے۔

اس کے سوا کہیں اور سے ادمی ہدایت حاصل نہیں کر سکتا۔ مگر خدا کی طرف سے ہدایت اسی کو ملتی ہے جو اس کا طالب ہو۔ اس لیے خران کا مطالعہ اسی کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے اور کسی ایسے ہی شخص کو یہ توفیق ملتی ہے کہ خران اس کی زندگی میں داخل ہو جائے جس کو حقیقت کی تلاش ہو جو واقعی صحیح معنوں میں ہدایت کی طلب رکھتا ہو جو اپنے اندر یہ عزم پیدا کر چکا ہو کہ حق اس کو جہاں اور جس شکل میں بھی ملے گا وہ اس کو لے لے گا اور اس سے چمٹ جائے گا۔ خران کا علم کسی درسگاہ کی سند کے طور پر ادمی کو نہیں ملتا نہ کتب خانوں اور لائبریری کی الماریوں سے اس کو ذہن میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

یہ اسی کو ملتا ہے جو حقیقی معنوں میں خران کا طالب ہو۔ جس کے اندر اتنا حوصلہ ہو کہ ہر ذاتی رجحان کے مقابلے میں حق کو ترجیح دے سکے۔ جو خران کو کتاب الہی سمجھ کر اس کا مطالعہ کرے اور اس کے مقابلے میں اپنی وہ حیثیت قرار دے جو ایک بندے کی اپنے مالک کے فرمان کے مقابلے میں ہوتی ہے۔ جب بندہ اپنے اپ کو خالی الذہن کر کے اپنے اپ کو خران کا مخاطب بناتا ہے تو اللہ تعالی اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور خران کے مطالب اس کے ذہن میں اترتے چلے جاتے ہیں جیسے سوکھی زمین میں بارش ہو اور بوند بوند کر کے اس میں جذب ہوتی چلی جائے۔

1379 ہجری کتاب عظمت قران مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 57.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.