Maulana Wahiduddin Khan
11 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Usul-e-ta'leel ki maut

Urdu · 11 min

اصولِ تعلیل کی موت: کہا جاتا ہے کہ نیوٹن 1642-1727 میں اپنے باغ میں تھا، اس نے سیب کے ایک درخت سے سیب کا پھل گرتے ہوئے دیکھا۔ سیب کا پھل شاخ سے الگ ہو کر نیچے کیوں گرا، وہ اوپر کیوں نہیں چلا گیا؟ اس نے سوچا، اس سوال نے آخرکار اس کو یہاں تک پہنچایا کہ زمین میں قوتِ کشش ہے، وہ ہر چیز کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پھل درخت سے ٹوٹ کر زمین پر گرتا ہے، وہ اوپر کی طرف نہیں جاتا۔

مگر یہ آدھی حقیقت تھی۔ نیوٹن کو سوچنا چاہیے تھا کہ درخت کا پھل اگر اوپر سے نیچے گرتا ہے تو اسی درخت کا تنا نیچے سے اوپر کی طرف کیوں جاتا ہے؟ ایک ہی درخت ہے، اس کی جڑیں زمین کے نیچے کی طرف جا رہی ہیں۔ اس کا پھل ٹوٹتا ہے تو وہ گر کر نیچے آ جاتا ہے، مگر اسی درخت کا تنا اور اس کی شاخیں زمین سے اٹھ کر اوپر کی طرف چلی جا رہی ہیں۔

درخت کا یہ دو گنا پہلو نیوٹن کے مفروضے کی نفی کر رہا تھا، تاہم اس نے معاملے کے ایک پہلو کو چھوڑ کر اس کے دوسرے پہلو کو لے لیا۔ پھر اسی کی روشنی میں اس نے خلا میں پھیلے ہوئے شمسی نظام کے اصول مرتب کیے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ تمام اجرام میں ایک خاص تناسب سے قوتِ کشش موجود ہوتی ہے۔ یہی کشش سورج اور اس کے گرد گھومنے والے سیاروں کو سنبھالے ہوئے ہے، اور اس کو نہایت صحت کے ساتھ متحرک رکھتی ہے۔

یہ طرزِ فکر مزید آگے بڑھا، یہاں تک کہ آئنسٹائن 1879-1955 میں اپنے نظریۂ اضافیت کے تحت اس کو مزید مؤکد کیا۔ آئنسٹائن کی تحقیق اگرچہ نیوٹن کے تمام نظریات کی تصدیق نہیں کرتی، تاہم نظامِ شمسی کے سلسلے میں اس کے نظریے کی بنیاد کششِ ثقل کے اصول پر ہی قائم ہے۔ Einstein's theory of relativity declares that gravity controls the behavior of planets, stars, galaxies, and the universe itself, and does it in a predictable manner. آئنسٹائن کا نظریۂ اضافیت کہتا ہے کہ کششِ ثقل سیاروں، ستاروں، کہکشاؤں اور خود کائنات کے عمل کو کنٹرول کرتی ہے۔

یہ عمل اس طرح ہوتا ہے کہ اس کی پیشین گوئی کی جا سکتی ہے۔ اس سائنسی دریافت کو ہیوم 1711-1776 اور دوسرے مفکرین نے فلسفہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کائنات کا سارا نظام اصولِ تعلیل یعنی principle of causation پر چل رہا ہے۔ جب تک اسباب و علل کی کڑیاں معلوم نہیں تھیں، انسان یہ سمجھتا رہا کہ کائنات کو کنٹرول کرنے والا ایک خدا ہے۔

مگر اب ہم کو اسباب و علل کے قوانین کا علم ہو گیا ہے۔ اب ہم یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ تعلیل یعنی causation کا مادی اصول کائنات کو متحرک کرنے والا ہے، نہ کہ کوئی مفروضۂ خدا۔ مگر بعد کی تحقیقات نے اس مفروضے کا خاتمہ کر دیا۔ بات کو ڈیرک، ہیزنبرگ اور دوسرے سائنسدانوں نے ایٹم کے ڈھانچے کا مطالعہ کیا۔

انہوں نے پایا کہ ایٹم کا نظام اس اصول کی تردید کر رہا ہے جو شمسی نظام کے مطالعے کی بنیاد پر اختیار کیا گیا تھا۔ اس دوسرے نظریے کو کوانٹم نظریہ کہا جاتا ہے، اور وہ مذکورہ اصولِ تعلیل کی کامل تردید ہے۔ The quantum mechanics theory maintains that at the atomic level, matter behaves randomly. کوانٹم میکینکس کا نظریہ کہتا ہے کہ ایٹم کی سطح پر مادہ غیر مرتب انداز میں عمل کرتا ہے۔

سائنس میں کسی اصول کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ سارے عالم میں یکساں طور پر کام کرتا ہو۔ اگر ایک معاملہ بھی ایسا ہو جس پر وہ اصول چسپاں نہ ہوتا ہو تو علمی طور پر اس کا مسلمہ اصول ہونا مشتبہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ جب یہ معلوم ہوا کہ ایٹم کی سطح پر مادہ اس طرح عمل نہیں کرتا جس کا مشاہدہ نظامِ شمسی کی سطح پر کیا گیا تھا، تو تعلیل بحیثیت سائنسی اصول کے رد ہو گیا۔ آئنسٹائن کو یہ بات ناقابلِ فہم معلوم ہوئی، کیونکہ اس طرح کائنات مادی کرشمے کے بجائے ارادی کرشمہ قرار پا رہی تھی۔

اس نے اس مسئلے پر باقاعدہ تحقیق شروع کی۔ اپنی زندگی کے آخری 30 سال اس نے اس کوشش میں صرف کر دیے کہ نظامِ فطرت میں اس تضاد کو ختم کرے۔ شمسی نظام اور ایٹمی نظام دونوں کے عمل کو ایک قانون کے تحت منظم کر سکے، مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوا، یہاں تک کہ بالآخر ناکام مر گیا۔ Einstein spent the last 30 years of his life trying to reconcile these seeming contradictions of nature.

He rejected the randomness of quantum mechanics. I cannot believe that God plays dice with the cosmos, he said. آئنسٹائن نے اپنی آخری زندگی کے 30 سال اس پر صرف کیے کہ فطرت کے اس بظاہر متضاد اصول کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرے۔ اس نے کوانٹم نظریے کی بے ترتیبی کو ماننے سے انکار کر دیا۔

اس نے کہا کہ میں یقین نہیں کر سکتا کہ خدا کائنات کے ساتھ جوا کھیل رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا بیان کائنات کو پکڑے ہوئے ہے۔ شمسی نظام کی سطح پر حرکت کا مطالعہ کر کے انسان نے 18ویں اور 19ویں صدی میں یہ رائے قائم کر لی کہ اس کی حرکت معلوم مادی اسباب کے تحت ہو رہی ہے۔ یہ بااختیار خدا کے قرآنی تصور کی گویا تردید تھی۔

مگر علم کا دریا جب آگے بڑھا تو دوبارہ قرآن والی بات غالب آ گئی۔ 20ویں صدی میں ایٹمی نظام کے مطالعے نے بتایا کہ ایٹم کی سطح پر اس کے ذرات کی حرکت کا کوئی معلوم قاعدہ نہیں۔ ایک سائنسدان اس موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھتا ہے: "The laws of physics discovered on Earth contain arbitrary numbers, like the ratio of the mass of an electron to the mass of a proton, which is roughly 1840 to 1. Why did a creator arbitrarily choose these numbers?

" لینڈ راکسبرگ: "طبیعات کے قوانین جو زمین پر دریافت کیے گئے ہیں، وہ تحکمی گنتیوں پر مشتمل ہیں۔ جیسے الیکٹران کی مقدار مادے کا تناسب ایک پروٹان کی مقدار مادے سے، جو کہ تقریباً 1840 کے مقابلے میں 1 ہوتا ہے۔ کیوں؟ کیا ایک خالق نے تحکمی طور پر انہیں انہی گنتیوں کا انتخاب کر رہا ہے؟

" سنڈے ٹائمز لندن، 4 دسمبر 1977: "یہ الفاظ سائنسدان کی زبان سے اس بات کا اعتراف ہیں کہ کائنات انسانی علم کے احاطے میں نہیں آتی۔ کائنات ایک قادرِ مطلق خدا کی مرضی کا ظہور ہے، اور خدا کی مرضی کے تصور کے تحت ہی اس کی واقعی توجیہ کی جا سکتی ہے۔ " یہ مقالہ قرآنی سیمینار لاہور میں 26 مارچ 1985 کو پڑھ کر سنایا گیا۔ کتاب "عظمتِ قرآن" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 52۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.