Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Quran ki bartari

Urdu · 7 min

قرآن کی برتری عربی زبان تمام زبانوں کے درمیان ایک حیران کن استثنا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایک زبان کی عمر 500 سال سے زیادہ نہیں ہوتی۔ تقریباً 500 سال میں ایک زبان اتنی زیادہ بدل جاتی ہے کہ اگلی نسل کے لوگوں کے لیے پچھلے لوگوں کا کلام سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جعفر چاثر 1342-1400 اور ولیم شیکسپیئر 1564-1616 انگریزی زبان کے شاعر اور ادیب تھے، مگر آج کا ایک عام انگریزی داں ان کو پڑھنا چاہے تو اس کو انہیں ترجمہ کر کے پڑھنا پڑے گا۔

چوثر اور شیکسپیئر کا کلام جدید انگریزی نصاب میں ترجمہ کر کے پڑھایا جاتا ہے، تقریباً ویسے ہی جیسے غیر زبان کی کتابیں ترجمہ کر کے پڑھائی جاتی ہیں۔ مگر عربی زبان کا معاملہ استثنائی طور پر اس سے مختلف ہے۔ عربی زبان پچھلے ڈیڑھ ہزار سال سے یکساں حالت پر باقی ہے۔ اس کے الفاظ اور اسلوب میں یقیناً ارتقا ہوا ہے، مگر یہ ارتقا اس طرح ہوا ہے کہ الفاظ اپنے ابتدائی معنی کو بدستور باقی رکھے ہوئے ہیں۔

قدیم عرب کا کوئی شخص اگر آج دوبارہ زندہ ہو تو آج کے عربوں میں بھی وہ اسی طرح بولا اور سمجھا جائے گا جس طرح چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کے عرب میں وہ بولا اور سمجھا جاتا تھا۔ یہ سراسر قرآن کا معجزہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے عربی زبان کو پکڑ رکھا ہے تاکہ جس طرح قرآن کو قیامت تک باقی رہنا ہے، اسی طرح عربی زبان بھی زندہ اور قابلِ فہم حالت میں قیامت تک باقی رہے۔ یہ کتاب کبھی کلاسیکل لٹریچر کی الماری میں نہ جانے پائے، وہ ہمیشہ لوگوں کے درمیان پڑھی اور سمجھی جاتی رہے۔

یہی معاملہ علوم کا بھی ہے۔ یہاں بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے علوم کو پکڑ رکھا ہے۔ وہ علوم کو پکڑ کر بیٹھ گیا ہے تاکہ قرآن نے کسی معاملے میں جو کچھ کہہ دیا ہے، وہی ہمیشہ حرفِ آخر کی حیثیت سے باقی رہے۔ چنانچہ بے شمار علمی ترقیوں کے باوجود علوم بالآخر وہیں باقی رہتے ہیں یا وہیں لوٹ آتے ہیں جہاں قرآن نے اول دن اس کو رکھ دیا تھا۔

ایک طرف انسانی کلام کی مثال ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی اس معیار پر پورا نہیں اترتا، جبکہ قرآن انتہائی بڑے اور گہرے معاملات میں بھی اپنی برتر صداقت کو قائم کیے ہوئے ہے۔ یہاں میں ایک تقابلی مثال دوں گا: ارسطو نے اپنے تصوراتی معاشرے میں عورت کو کم تر درجہ دیا ہے۔ اس کا ثبوت اس کے نزدیک یہ ہے کہ عورت کے منہ میں مرد سے کم دانت ہوتے ہیں۔ برٹرینڈ رسل نے اس کا مذاق اڑایا ہے۔

اس نے اپنی کتاب "سماج پر سائنس کے اثرات" میں ارسطو کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے: "Aristotle maintained that women have fewer teeth than men, although he was twice married. It never occurred to him to verify this statement by examining his wife's mouth." (The Impact of Science on Society 1953, p. 7) ارسطو نے دعویٰ کیا کہ عورتوں کے یہاں مردوں سے کم دانت ہوتے ہیں۔ اگرچہ ارسطو کی دو بار شادی ہوئی تھی، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وہ اپنی بیویوں کے منہ کو جانچ کر اس بات کی، اس بیان کی تصدیق کرتا۔

ارسطو کا بیان حقیقتِ واقعے پر حاوی نہ ہو سکا۔ اس کے برعکس قرآن کے بیانات حقیقتِ واقعے کا اس طرح احاطہ کیے ہوئے ہیں کہ دونوں کبھی ایک دوسرے کے خلاف نہیں جاتے۔ یہاں میں ایک مثال دوں گا: قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ خدا اس کائنات کا حاکمِ مطلق ہے۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق جس طرح چاہتا ہے اسے چلاتا ہے۔

فَعَالُ الَّمَا يُرِيدُ (سورہ نمبر 85، آیت 16) کر ڈالنے والا جو چاہے۔ يَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ (سورہ نمبر 14، آیت 27) اور اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ پچھلے ہزار سال سے خدا کا یہ تصور تسلیم شدہ چلا آ رہا تھا۔ انسان اس کو بلا بحث مانے ہوئے تھا۔

مگر موجودہ زمانے میں علم کی ترقی ہوئی تو انسان نے یہ نظریہ قائم کر لیا کہ واقعات کے پیچھے معلوم مادی اسباب کے سوا اور کوئی طاقت نہیں۔ تمام واقعات مادی اسباب و علل کے تحت وقوع میں آتے ہیں، اور مادی قوانین کے تحت ان کی کامل توجیہ کی جا سکتی ہے۔ مگر بعد کی علمی تحقیقات نے اس مفروضے کو ڈھا دیا۔ اب علم دوبارہ وہیں آ گیا جہاں وہ ابتدا میں ٹھہرا ہوا تھا۔

کتاب "عظمتِ قرآن" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 49۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.