Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Shahed ki tibbi ahmiyat

Urdu · 7 min

شہد کی طبی اہمیت: قرآن میں شہد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے اندر شفاء ہے۔ "فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ" ۔ سورہ نمبر 17، آیت 69۔ مسلمانوں نے اس آیت کی روشنی میں شہد کے طبی پہلو پر بہت زور دیا۔

مسلمانوں کے یہاں دوا سازی کے فن میں شہد کو خصوصی درجہ حاصل رہا ہے، مگر مغربی دنیا صدیوں تک اس کی طبی اہمیت سے بے خبر رہی۔ یورپ میں ابھی 19ویں صدی تک شہد کو بس ایک رقیق غذا، یعنی لیکوڈ فوڈ کی حیثیت حاصل تھی۔ یہ صرف 20ویں صدی کی بات ہے کہ یورپ کے علماء نے یہ دریافت کیا کہ شہد کے اندر دافعِ عفونت خصوصیات، یعنی اینٹی سیپٹک پراپرٹیز، موجود ہیں۔ اس سلسلے میں ہم جدید تحقیقات کا خلاصہ ایک امریکی میگزین سے نقل کرتے ہیں: "Honey is a powerful destroyer of germs which produce human diseases.

It was not until the 20th century, however, that this was demonstrated scientifically by Dr. W. G. Socket formally with the Colorado Agricultural College at Fort Collins attempted to prove that honey was a carrier of disease much like milk.

To his surprise, all the disease germs he introduced into pure honey were quickly destroyed. The germ that causes typhoid fever died in pure honey after 48 hours exposure, and termites causing intestinal inflammation lived 48 hours. A hardly germ which causes bronchophlebural, bronchophlebural, and septicemia held out for 4 days: Bacillus coli communis, which under certain conditions causes peritonitis, was dead on the fifth day of experiment. According to Dr.

Bodogbek, there are many other germs equally destructible in honey. The reason for this bactericidal quality in honey, he said, is in its hygroscopic ability: it literally draws every particle of moisture out of germs. Germs, like any other living organism, perish without water. This power to absorb moisture is almost unlimited.

Honey will draw moisture from metal, glass, and even stone rocks. Rosicrucian Digest, September 1975, page 11: "شہد جراثیم کو مار ڈالنے والی چیز ہے جو کہ انسانی بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔ " تاہم 20ویں صدی سے پہلے تک اس کو علمی طور پر دکھایا نہیں جا سکا تھا۔ ڈاکٹر ساکٹ، جو اس سے پہلے فورٹ کولنز کے ایگریکلچرل کالج سے وابستہ تھے، انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ شہد کے اندر بیماری کے جراثیم پرورش پاتے ہیں، جس طرح وہ دودھ میں پرورش پاتے ہیں۔

مگر ان کو سخت تعجب ہوا جب تجربات کے دوران انہوں نے پایا کہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم، جو انہوں نے خالص شہد کے اندر ڈالے تھے، وہ سب کے سب بہت جلد مر گئے۔ معیاری بخار کے جراثیم صرف 48 گھنٹے کے اندر ہلاک ہو گئے۔ بعض سخت جراثیم 4 دن یا 5 دن سے زیادہ زندہ نہ رہ سکے۔ ڈاکٹر بوڈوگبیک نے بتایا ہے کہ شہد کے اندر جراثیم کو مارنے کی اس خصوصیت کی سادہ سی وجہ ہے: وہ شہد کی رطوبت کو چوس لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

شہد جراثیم کی رطوبت کا ہر جز کھینچ لیتی ہے۔ جراثیم دوسرے حیوانات کی طرح پانی کے بغیر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ شہد کے اندر پانی جذب کرنے کی صلاحیت لامحدود مقدار میں ہے۔ وہ دھات، شیشہ، اور پتھر تک سے رطوبت کھینچ لیتی ہے۔

کتاب "عظمتِ قرآن" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 46۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.