Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Kaainaat ka aaghaaz

Urdu · 5 min

کائنات کا آغاز قرآن میں ارشاد ہوا ہے: «وَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا» سورہ نمبر 21، آیت 30۔ کیا منکروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان و زمین ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے دونوں کو کھول دیا؟ رتق کے معنی ہیں منظم الاجزاء، یعنی کسی چیز کے تمام اجزاء کا ایک دوسرے میں گھسا ہوا اور سمٹا ہوا ہونا۔ اور فتح کا لفظ اس کے برعکس عمل کے لیے ہے، یعنی ملے ہوئے اجزاء کو پھاڑ کر الگ الگ کر دینا۔

یہ آیت 7ویں صدی عیسوی میں اتری، بظاہر اس سے معلوم ہوتا تھا کہ کائنات کے مختلف اجزاء ابتداً باہم ملے ہوئے اور سمٹے ہوئے تھے۔ اس کے بعد خدا نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا۔ تاہم نزولِ قرآن کے بعد صدیوں تک انسان کو معلوم نہ تھا کہ کائنات میں وہ کون سا معاملہ پیش آیا ہے جس کو قرآن نے رتق اور فتح سے تعبیر کیا ہے۔ پہلی بار اس کی معنویت 1927 میں سامنے آئی، جبکہ جارج لومیٹرا، یعنی ژورژ لومیخا، نے وہ نظریہ پیش کیا جس کو عام طور پر بگ بینگ کہا جاتا ہے۔

جدید مشاہدہ بتاتا ہے کہ کائنات ہر لمحہ اپنے چاروں طرف پھیل رہی ہے۔ چنانچہ موجودہ کائنات کو پھیلتی ہوئی کائنات، یعنی expanding universe، کہا جاتا ہے۔ اس طرح کے مختلف مشاہدات نے سائنسدانوں کو اس نظریے تک پہنچایا ہے کہ کائنات ابتداً سمٹی ہوئی حالت میں تھی۔ اس وقت وسیع کائنات کے تمام اجزاء نہایت قوت سے باہم جڑے ہوئے تھے۔

اس ابتدائی مادّے کو کائناتی بیضہ، یعنی cosmic egg، یا سپر ایٹم کہا جاتا ہے۔ ابتداً سائنسی حلقے میں اس کی مخالفت کی گئی۔ 1948 عیسوی تک بگ بینگ کے مقابلے میں اسٹڈی اسٹیٹ نظریہ، یعنی study state hypothesis، سائنسدانوں کے یہاں زیادہ قابلِ توجہ بنا رہا۔ 1950 عیسوی سے علم کا وزن بگ بینگ کے حق میں بڑھنے لگا۔

1965 عیسوی میں بیک گراؤنڈ ریڈی ایشن کی دریافت نے اس کی مزید تصدیق کی، کیونکہ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ ابتدائی انفجار کے ریڈیائی بقایا ہیں جو ابھی تک کائنات کے بعض حصوں میں موجود ہیں۔ اسی طرح 1981 عیسوی میں بعض کہکشاؤں کی دریافت، جو ہماری زمین سے 10 ارب سال نور، یعنی light years، کے فاصلے پر واقع ہیں، وغیرہ۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا 1984 عیسوی میں بگ بینگ کے عنوان کے تحت اعتراف کیا گیا ہے کہ اورب اس نظریے کو بیشتر علما کو اور اب اس نظریے کو بیشتر علمائے کونیات کی تائید حاصل ہے، and it is now favored by most cosmologists. یہ واقعہ اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ قرآن کا مصنف ایک ایسی ہستی ہے جس کی نظر میں ماضی سے لے کر مستقبل تک کے تمام حقائق ہیں۔

وہ چیزوں کو وہاں سے دیکھ رہا ہے جہاں سے انسان نہیں دیکھ سکتا۔ وہ اس وقت بھی پوری طرح جان رہا ہوتا ہے جبکہ دوسروں کو کوئی علم نہیں ہوتا۔ کتاب عظمتِ قرآن مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 45۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.