Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Newtown ka nazria-e-nur

Urdu · 5 min

نیوٹن کا نظریۂ نور: انسان جب بھی کسی مسئلے پر کلام کرتا ہے تو فوراً ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ حال میں بول رہا ہے، اسے مستقبل کی کوئی خبر نہیں۔ کوئی انسان آئندہ ظاہر ہونے والی حقیقتوں کو نہیں جانتا، اس لیے وہ اپنے کلام میں ان کی رعایت بھی نہیں کر سکتا۔ یہ ایسا معیار ہے جس پر آدمی ہمیشہ ناکام ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، خران کو دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خران کا مصنف ایک ایسی ہستی ہے جس کی نظر ماضی سے مستقبل تک یکساں طور پر پھیلی ہوئی ہے۔

وہ آج کے معلوم واقعات کو بھی جانتا ہے، اور ان واقعات کو بھی جو کل انسان کے علم میں آئیں گے۔ مثال کے طور پر، نیوٹن 1642-1727 میں روشنی کے بارے میں نظریہ قائم کیا کہ یہ چھوٹے چھوٹے روشن ذرات ہیں جو اپنے منبع سے نکل کر فضا میں اڑتے ہیں۔ اس نظریے کو سائنس کی تاریخ میں "روشنی کا ذرّاتی نظریہ" یعنی کوپس کیولر آف کوپس کیولر تھیوری آف لائٹ کہا جاتا ہے۔ یہ تھیوری آف اپٹکس in which light is treated as a stream of particles.

نیوٹن کے غیر معمولی اثرات کے تحت یہ نظریہ 1820 تک علمی دنیا پر چھایا رہا۔ اس کے بعد اس کو زوال شروع ہوا۔ مختلف سائنسدانوں کی تحقیقات، خاص طور پر فوٹونز کے عمل کی دریافت نے روشنی کے ذرّاتی نظریے کو ختم کر دیا۔ پروفیسر ینگ اور دوسرے سائنسدانوں کی تحقیق نے علماء کو مطمئن کر دیا کہ روشنی بنیادی طور پر موج کی سی خصوصیات رکھتی ہے، جو بظاہر نیوٹن کے ذرّاتی نظریے کے برعکس ہے۔

Young's work convinced scientists that light has essential wave characteristics in apparent contradiction to Newton's copuscular particle theory. (Encyclopedia Britannica, 1984, volume 19, page 665) نیوٹن نے 18ویں صدی عیسوی میں اپنا نظریہ پیش کیا، اور صرف 200 سال کے اندر وہ غلط ثابت ہو گیا۔ اس کے برعکس، خران نے 7ویں صدی عیسوی میں اپنا پیغام دنیا کے سامنے رکھا، اور 1400 سال گزرنے کے باوجود اس کی صداقت آج تک مجتبیٰ نہیں ہوئی۔ کیا اس کے بعد بھی اس یقین کے لیے کسی مزید ثبوت کی ضرورت ہے کہ نیوٹن جیسے لوگوں کا کلام محدود انسانی کلام ہوتا ہے، اور قرآن لامحدود ذہن سے نکلا ہوا خدائی کلام ہے؟

خران کے بیانات کا ابدی طور پر درست ثابت ہونا ایک انتہائی غیر معمولی صفت ہے، جو کسی بھی دوسرے کلام کو حاصل نہیں۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ قرآن خدائی کلام ہے، اور بقیہ تمام کلام انسانی کلام ہے۔ کتاب عظمتِ قرآن مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 43۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.