← Azmat-e-Qur'anAzmat-e-Qur'an
Kitab-e-mahfuz
Urdu · 16 min
کتابِ محفوظ: ایک کاتب صاحب کو ایک کتاب کا مسودہ کتابت کے لیے دیا گیا۔ اس مسودے میں ایک جگہ "محدّث ابو دعات" کا نام تھا۔ کاتب صاحب ابو دعات سے واقف نہ تھے، البتہ وہ ابو داؤد کو جانتے تھے؛ چنانچہ انہوں نے ابو دعات کی جگہ ابو داؤد لکھ دیا۔ اسی طرح ایک مضمون میں ایک جگہ "ہیلی کاپٹر" کا لفظ تھا۔
کاتب صاحب اس کو سمجھ نہ سکے؛ انہوں نے اصل لفظ کی جگہ "املی کا پیڑ" لکھ دیا۔ اس قسم کی غلطیوں کی مثالیں بہت عام ہیں: ایک آدمی کسی مضمون کو پڑھ رہا ہے، یا اس کو نقل کر رہا ہے۔ اس درمیان میں ایک ایسا جملہ آتا ہے جس کو وہ سمجھ نہیں پاتا، چنانچہ اس کو وہ اپنے ذہن کے مطابق بدل کر کچھ سے کچھ کر دیتا ہے۔ حتیٰ کہ ایسے بھی لوگ ہیں جو کسی ذاتی غرض کے تحت اصل متن میں بالقصد تبدیلی کرتے ہیں، اور اپنی طرف سے اس میں ایسی باتیں شامل کر دیتے ہیں جو اصل کتاب میں اس کے مصنف نے شامل نہ کی تھیں۔
پچھلی آسمانی کتابوں میں جو تحریفات ہوئی ہیں، ان کی وجہ انسان کی یہی کمزوری ہے۔ خُران میں ہے کہ خدا نے زمین و آسمان کو 7 دنوں یعنی ایّام میں پیدا کیا۔ یہی بات بائبل میں اس طرح ہے کہ ساتوں دن کی الگ الگ تفصیل ہے۔ ہر دن کی تخلیقات کا ذکر کرنے کے بعد اس میں یہ فقرہ ملتا ہے: "اور شام ہوئی اور صبح ہوئی"۔
یہ فقرہ یقینی طور پر مذکورہ بالا ذہن کے تحت انسان کا اضافہ ہے۔ کسی بزرگ نے بطور خود بائبل کے جملے کو مکمل کرنے کے لیے یہ الفاظ بڑھا دیے۔ خُران کے الفاظ میں یہ گنجائش ہے کہ "دن" کو دور یعنی پیریڈ کے معنی میں لے سکیں، مگر بائبل میں مذکورہ فقرے کے اضافے نے اس کو دور کے معنی میں لینا ناممکن بنا دیا۔ بائبل میں اس طرح کی مثالیں بہت ہیں، حتیٰ کہ بعض مثالیں نہایت بھونڈی ہیں۔
مثلاً قرآن میں ہے کہ حضرت موسیٰ کو خدا نے یہ معجزہ دیا کہ وہ اپنا ہاتھ نکالیں تو وہ چمکنے لگے۔ مگر بائبل میں اس کا ذکر ہے تو وہاں یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: "پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ تو اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر ڈھانک لے"۔ اس نے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر اسے ڈھانک لیا۔ اور جب اس نے اسے نکال کر دیکھا تو اس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا۔
خروج، باب نمبر 4، آیت نمبر 7۔ بائبل کے اس فقرے میں "کوڑھ سے" یقینی طور پر بعد کے لوگوں کا تشریحی اضافہ ہے۔ خُران کے الفاظ کے مطابق حضرت موسیٰ کے ہاتھ کا چمکنا خدائی سبب سے معلوم ہو رہا ہے، اور بائبل کے الفاظ کے مطابق مرض کے سبب سے۔ خُران تمام آسمانی کتابوں میں واحد کتاب ہے جس میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہو سکی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پچھلی آسمانی کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری خود ان کتابوں کے حامل انسانوں پر ڈالی گئی تھی۔ اس لیے قرآن میں ان کے لیے "استحفاظ" کا لفظ آیا ہے، یعنی حفاظت چاہنا۔ استحفظوا من كتاب اللہ سورہ نمبر 5، آیت 44۔ وہ خدا کی کتاب پر نگہبان ٹھہرائے گئے تھے۔
اس کے برعکس خُران کے بارے میں "حافظ" کا لفظ آیا ہے، یعنی حفاظت کرنے والا۔ إنا نحن نزلنا الذكر وإنا له لحافظون سورہ نمبر 15، آیت 9۔ یہ یاد دہانی، یعنی قرآن، ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ خُران میں ایسے بہت سے مواقع تھے جہاں حاملینِ قرآن کے لیے گنجائش تھی کہ وہ اس میں مذکورہ بالا قسم کی تبدیلیاں کر ڈالیں۔
کثرت سے اس کی مثالیں موجود ہیں کہ انہوں نے عملاً ایسا کیا بھی، مگر انہوں نے جو کچھ کیا وہ حاشیے کی حد تک محدود رہا۔ متن میں وہ کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ کر سکے۔ حاشیہ اور تفسیر میں چونکہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے نہ تھے، اس لیے اس میں انہوں نے طرح طرح کی معصومانہ تبدیلیاں کر دیں۔ مگر جہاں تک متن کا تعلق ہے، اس کو خدا نے براہِ راست اپنی نگرانی میں لے رکھا تھا۔
اس لیے یہاں وہ کسی قسم کا ردوبدل کرنے سے قاصر رہے۔ اس موقع پر وضاحت کے لیے ہم دو مثالیں دیتے ہیں۔ خُران کی پہلی نزولی آیت ہے: اقرأ باسم ربك الذي خلق سورہ نمبر 96، آیت 1۔ پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔
اسی طرح دوسرے مقام پر ہے: سنقرئك فلا تنسى سورہ نمبر 87، آیت 6۔ ہم تجھ کو پڑھا دیں گے، پھر تو نہ بھولے گا۔ ان آیات میں "اقرأ" اور "سنقرئ" کے الفاظ سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے سامنے کوئی کتاب یا کوئی لکھی ہوئی چیز رکھی گئی اور کہا گیا کہ اس کو پڑھو۔ یہ بات مسلمانوں کے عام عقیدے کے سراسر خلاف ہے، کیونکہ مسلمان ساری دنیا میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آپ اُمی تھے۔
گویا آیت کے یہ الفاظ اپنے ظاہر کے اعتبار سے مسلمانوں کے عقیدے میں مانع ہیں۔ اور مخالفینِ اسلام کو غیر ضروری طور پر یہ کہنے کا موقع دیتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اُمی نہیں تھے، بلکہ پڑھے لکھے تھے۔ اس کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ دوسری کتابوں کے متن کی طرح مسلمان قرآن کے ان الفاظ کو بدل دیں۔ یہ قرآن کے محفوظ کتاب ہونے کا ایک واضح داخلی ثبوت ہے۔
ورنہ اگر دوسری کتابوں کی طرح کا معاملہ ہوتا تو خُران میں ہم کو "اقرأ" یعنی پڑھو کی جگہ "اطلُع" یعنی تلاوت کرو یا "تلفّظ" یعنی بولو، لکھا ہوا ملتا۔ اسی طرح لکھنے والوں نے "سنقرئك" یعنی ہم تم کو پڑھائیں گے کے بجائے "سنحفظك" یعنی ہم تمہارے لیے محفوظ کر دیں گے لکھ دیا ہوتا۔ اسی طرح ایک مثال سورہ القیامہ کی آیت ہے: وقيل من راقٍ سورہ نمبر 75، آیت 27۔ اور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک والا۔
تمام دنیا کے مسلمان جب اس آیت کو پڑھتے ہیں تو وہ "من" پر وقفہ، یعنی pause، کرتے ہیں۔ یعنی "من" کے بعد کسی قدر رک کر "راقٍ" کہتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے والے اصحاب نے بیان کیا کہ آپ نے جب یہ آیت پڑھی تو آپ نے حرف "من" پر وقفہ، یعنی pause، کیا۔ ورنہ نحو و صرف کے فنّ، یعنی عربی گرامر کے اعتبار سے، اس کی کوئی بھی وجہ نہیں ہے کہ یہاں یہ وقفہ کیوں کیا جائے۔
اگر قرآن کے ساتھ اس کے حاملین وہ معاملہ کر سکتے جو دوسری کتابوں کے ساتھ اس کے حاملین نے کیا، تو لازماً ایسا ہوتا کہ یہ وقفہ باقی نہ رہتا۔ ایسی حالت میں مسلمان اس کو "وقیل من راقٍ" پڑھتے، نہ کہ "وقیل من" یعنی سکتہ راقٍ۔ اسی طرح خُران میں: يا أيها النبي إذا طلّقتم النساء سورہ نمبر 65، آیت 1۔ اے نبی!
جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو۔ یہ جملہ نحو و صرف کے عام قاعدے کے خلاف ہے۔ اس میں واحد سے خطاب کر کے جمع کی ضمیر لائی گئی ہے۔ عام لکھنے اور بولنے والے کبھی ایسا نہیں کرتے۔
اگر خُران کا وہ معاملہ ہوتا جو دوسری آسمانی کتابوں کا ہے، تو یقینی طور پر ایسا ہوتا کہ کچھ مسلمان اس آیت کے الفاظ کو بدل کر اس طرح لکھ چکے ہوتے: يا أيها النبي إذا طلّقت النساء یعنی "اے نبی! جب تو عورتوں کو طلاق دے" یا يا أيها الرسول إذا طلّقتهم النساء اے رسول! جب تم سب لوگ عورتوں کو طلاق دو۔ یہی معاملہ طرز تحریر کا ہے۔
عربی فنِ خطاطی نے بعد کے زمانے میں بہت زیادہ ترقی کی، جبکہ خُران اس وقت لکھا گیا جبکہ فنِ خطاطی نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی تھی۔ چنانچہ قرآن کے طرزِ کتابت میں اور عام خطوں کے طرزِ کتابت میں بہت سے مقامات پر فرق ہے۔ مثلاً قرآن میں "مالکی" کو "مالکی" لکھا ہوا ہے۔ مثلاً قرآن میں "مالکی" (میم الف ما) "مالکی" کو "مالکی" یعنی میم کے اوپر کھڑا زبر "مالکی" لکھا ہوا ہے۔
حتیٰ کہ اس طرزِ کتابت کی وجہ سے آیت کے دو تلفظ بن گئے ہیں: کوئی اس کو "مالکی یوم الدین" پڑھ رہا ہے اور کوئی اس کو "ملکی یوم الدین" سورہ نمبر 1، آیت 4 پڑھتا ہے۔ اس کے باوجود کسی کے لیے یہ ممکن نہ ہوا کہ آیت کا املا بدل کر اس کو "مالکی یوم الدین" بنا دے۔ خُران کے حاشیے میں بعد کے لوگوں نے جو معنوی تبدیلیاں کی ہیں، ان میں سے ایک مثال خُران کی یہ آیت ہے: إني جاعلٌ فی الأرض خليفة سورہ نمبر 2، آیت 30۔ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔
بعد کے متعدد مفسرین نے اس آیت میں "خلیفہ" کے لفظ کو "خلیفۃ اللہ" کے ہم معنی بنا دیا، اور اس کی تشریح ان الفاظ میں کی کہ خدا نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں اپنا ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں۔ حالانکہ "اپنا" کا لفظ یہاں سراسر اضافہ ہے۔ ان حضرات نے حاشیے میں تو اس قسم کے اضافے خوب کیے، مگر متن میں اضافہ کرنا ان کے لیے ممکن نہ ہو سکا۔ اگر خُران کے متن پر خدا کا پہرہ نہ ہوتا تو غالباً وہ آیت کے الفاظ کو ناکافی سمجھ کر اس کو اس طرح لکھ دیتے: إني جاعلٌ فی الأرض خليفتي یعنی "میں زمین میں اپنا خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں" یا إني جاعلٌ فی الأرض خليفةً مني یعنی "میں زمین میں اپنی جانب سے ایک خلیفہ مقرر کرنے والا ہوں"۔
دوسری آسمانی کتابوں میں سے ہر کتاب میں یہ ہوا ہے کہ ان کتابوں کے ماننے والے اپنے طور پر جو کچھ چاہتے تھے، وہ سب انہوں نے خدا کی کتاب میں کہیں نہ کہیں داخل کر دیا۔ مثال کے طور پر یوحنا کی موجودہ انجیل میں ہم کو یہ فقرہ ملتا ہے: "دوسرے دن اس نے یسوع کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا: دیکھو، یہ خدا کا برّہ ہے جو دنیا کا گناہ اٹھا لے جاتا ہے۔ یہ وہی ہے جس کی بابت میں نے یہ کہا تھا کہ ایک شخص میرے بعد آتا ہے جو مجھ سے مقدم ٹھہرا ہے، کیونکہ وہ مجھ سے پہلے تھا" یوحنا باب 1، آیت 29، 33۔ انجیل یوحنا کا یہ فقرہ حضرت یحییٰ کی زبان سے حضرت مسیح کے بارے میں ہے۔
حضرت یحییٰ کی یہ تقریر بقیہ تینوں انجیلوں میں بھی ہے، مگر ان میں "جو دنیا کا گناہ اٹھا لے جاتا ہے" موجود نہیں۔ یہ الفاظ یقینی طور پر بات کو اصل تقریر میں اس لیے بڑھائے گئے تاکہ ان سے کفارے کا عقیدہ نکالا جا سکے۔ بعد کے مسیحیوں کا پسندیدہ عقیدہ، یعنی کفارہ، کو انجیل سے ثابت کرنے کے لیے حضرت یحییٰ کی مذکورہ تقریر میں یہ جملہ بڑھا دیا گیا۔ حالانکہ وہ اگر حضرت یحییٰ کا جملہ ہوتا تو چاروں انجیلوں میں موجود ہوتا۔
یہی بات خُران میں بھی ہو سکتی تھی، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے بہت سے انتہائی محبوب عقیدے بھی خُران کے متن کے اندر موجود نہیں۔ مثال کے طور پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا افضل الانبیاء ہونا اور خدا کے یہاں آپ کا شفیع المذنبین ہونا مسلمانوں کے محبوب ترین عقائد ہیں، مگر قرآن میں کسی مقام پر وہ واضح طور پر موجود نہیں ہیں۔ مسلمان یہ تو کر سکے کہ اپنے ان عقائد کو بعض آیات سے بطریق استنباط نکالیں، مگر وہ ان کو متن قرآن میں داخل نہ کر سکے۔ اگر مسلمانوں کو متن میں تصرف کی قدرت حاصل ہوتی تو یقیناً آج ہم قرآن میں کوئی ایسی آیت پڑھتے جس کے یہ الفاظ ہوتے: یا محمد أنت أفضل الأنبیاء وأنت شفيع المذنبين يوم القيامة یعنی "اے محمد!
تم افضل الانبیاء ہو، تم قیامت کے دن گناہ گاروں کی سفارش کرنے والے ہو"۔ یہ چند سادہ قسم کی داخلی مثالیں ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن آج بھی اسی ابتدائی حالت میں موجود ہے جس حالت میں اس کے پیغمبر حضرت محمد نے اسے اپنے زمانے میں لکھوایا تھا۔ اس میں کسی قسم کا معمولی تغیر بھی نہ ہو سکا۔ اب ظاہر ہے کہ قرآن جب واحد آسمانی کتاب ہے جس کا متن پوری طرح محفوظ ہے، تو اسی کا حق ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کے لیے واحد رہنما کتاب بنے جو وحی الہی کو مانتے ہیں اور خدا کی ہدایت کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
محفوظ اور غیر محفوظ دونوں قسم کی کتابوں کی موجودگی میں یقینی طور پر محفوظ کتاب کی پیروی کی جائے گی، نہ کہ غیر محفوظ اور تبدیل شدہ کتاب۔ نہ کہ غیر محفوظ اور تبدیل شدہ کتاب کی۔ کتاب عظمتِ قرآن مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 116۔