علم الحیات کی مثال: قدیم زمانے میں، جبکہ موجودہ سائنسی مشاہدات سامنے نہیں آئے تھے، ساری دنیا میں توہماتی خیالات پھیلے ہوئے تھے۔ لوگوں نے بلا تحقیق عجیب عجیب نظریات قائم کر لیے تھے۔ یہ نظریات دوبارہ وقت کی کتابوں میں ظاہر ہوتے تھے۔ جو شخص بھی اس زمانے میں کوئی کتاب لکھتا، تو ماحول کے زیر اثر وہ ان خیالات کو بھی دہرانے لگتا تھا۔
مثال کے طور پر ارسطو 384-322 قبل مسیح نے ایک موقع پر پیٹ میں پرورش پانے والے بچوں کا ذکر کیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ وقت کے رواجی فکر کے مطابق یہ کہتا ہے کہ پیٹ کے بچوں کی صحت کا تعلق ہواؤں سے ہے۔ ارسطو کے اس خیال کا مذاق اڑاتے ہوئے برٹرینڈ رسل نے لکھا ہے: "He said that children will be healthier if conceived when the wind is in the north." One gathers that the two misses Aristoteles both had to run out and look at the weather clock every evening before going to bed. " The Impact of Science on Society 1953، page 7۔
ارسطو نے کہا کہ بچے زیادہ تندرست ہوں گے اگر شمالی رخ پر ہوا چلنے کے وقت ان کا حمل قرار پائے۔ ایک شخص اس سے قیاس کر سکتا ہے کہ ارسطو کی دونوں بیویاں ہر شام کو بستر پر جانے سے پہلے دوڑ کر باہر جاتی ہوں گی اور دیکھتی ہوں گی کہ ہوا کا رخ کس سمت میں ہے۔ قرآن اسی قدیم زمانے میں اترا۔ اس میں علم کی مختلف شاخوں سے متعلق کثرت سے حوالے موجود ہیں، مگر قرآن میں کوئی ایک بھی مثال نہیں ملتی جس میں وقت کے رواجی خیالات کا انعکاس پایا جاتا ہو۔
کتاب عظمت قرآن مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 39۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.