Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Fir'aun-e-Moosa

Urdu · 7 min

فرعونِ موسیٰ، اس کے مقابلے میں اب قرآن سے اسی نوعیت کی ایک مثال لیجیے: یہ "فرعونِ موسیٰ" کی مثال ہے۔ اس کے بارے میں قرآن میں جو الفاظ آئے تھے، بعد کی تاریخ حیرت انگیز طور پر اس کی تصدیق بن گئی۔ تاریخ کے مطابق حضرت موسیٰ کے زمانے میں مصر کا جو بادشاہ غرق ہوا، وہ رامیس دوم کا فرزند تھا۔ اس کا خاندانی لقب "فرعون" اور ذاتی نام "مرنفتاح" تھا۔

نزولِ قرآن کے وقت اس فرعون کا ذکر صرف بائبل کے محفوظات میں تھا۔ اس میں بھی صرف یہ لکھا ہوا تھا کہ خداوند نے سمندر کے بیچ ہی میں مصریوں کو تہہ و بالا کر دیا، اور فرعون کے سارے لشکر کو سمندر میں غرق کر دیا۔ خروج باب نمبر 14، آیت 28۔ اس وقت قرآن نے حیرت انگیز طور پر یہ اعلان کیا کہ فرعون کا جسم محفوظ ہے، اور وہ دنیا والوں کے لیے سبق بنے گا۔

فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَهُ سورہ نمبر 10، آیت 92۔ آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے، تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی ہو۔ قرآن میں جب یہ آیت اتری تو وہ نہایت عجیب تھی۔ اس وقت کسی کو بھی یہ معلوم نہ تھا کہ فرعون کا جسم کہیں محفوظ حالت میں موجود ہے۔

اس آیت کے نزول پر اسی حالت میں تقریباً 1400 سال گزر گئے۔ پروفیسر لوریٹ، یعنی وکٹر لوریٹ، 1859-1946، پہلا شخص ہے جس نے 1898 عیسوی میں مصر کے ایک قدیم مقبرے میں داخل ہو کر دریافت کیا کہ یہاں مذکورہ فرعون کی لاش ممی کی ہوئی موجود ہے۔ 8 جولائی 1907 عیسوی کو ایلیٹ اسمتھ، یعنی سر گرافٹن ایلیٹ اسمتھ، 1871-1937 میں، اس لاش کے اوپر لپٹی ہوئی چادر کو ہٹایا۔ اس نے اس کی باقاعدہ سائنسی تحقیق کی، اور پھر 1912 میں ایک کتاب شائع کی جس کا نام ہے "شاہی ممیاں: The Royal Mummies" 1912-118۔

The Royal Mummies (1912), 118 pages. اس سے ثابت ہو گیا کہ یہ ممی کی ہوئی لاش اسی فرعون کی ہے جو 3000 سال پہلے حضرت موسیٰ کے زمانے میں غرق کیا گیا تھا۔ ایک مغربی مفکر کے الفاظ میں، his earthly remains were saved by the will of God from destruction to become a sign to man, as it is written in the Quran. فرعون کا مادی جسم خدا کی مرضی کے تحت برباد ہونے سے بچا لیا گیا، تاکہ وہ انسان کے لیے ایک نشانی ہو، جیسا کہ وہ قرآن میں لکھا ہوا ہے۔

The Bible, the Quran, and Science. کے مصنف ڈاکٹر موریس بوکائیلے نے 1975 عیسوی میں فرعون کی اس لاش کا معائنہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی کتاب میں اس پر جو باب لکھا ہے، اس کا خاتمہ ان پُراعتزاز سطروں پر ہوا ہے۔ Those who seek among modern data for proof of the veracity of the holy scriptures will find a magnificent illustration of the verses of the Quran dealing with the Pharaoh's body by visiting the Royal Mummies room of the Egyptian Museum Cairo.

وہ لوگ جو مقدس کتابوں کی سچائی کے لیے جدید ثبوت چاہتے ہیں، وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میں شاہی ممیوں کے کمرے کو دیکھیں۔ وہاں وہ قرآن کی ان آیتوں کی شاندار تصدیق پا لیں گے جو کہ فرعون کے جسم سے بحث کرتی ہیں۔ قرآن نے 7ویں صدی عیسوی میں کہا کہ فرعون کا جسم لوگوں کی نشانی کے لیے محفوظ ہے، اور وہ 19ویں صدی عیسوی کے آخر میں نہایت صحت کے ساتھ برآمد ہو گیا۔ دوسری طرف، موجودہ زمانے کے علماء نے اعلان کیا کہ پلڈاؤن کے مقام پر انہوں نے ایک ڈھانچہ دریافت کیا ہے جو قدیم انسان کے جسم کا ایک حصہ ہے، اور اگلی معلومات کے تحت وہ بالکل بے بنیاد ثابت ہو گیا۔

کیا اس کے بعد بھی اس میں کوئی شبہ باقی رہتا ہے کہ قرآن ایک خدائی کتاب ہے، وہ عام انسانی تصنیفات کی طرح کوئی انسانی تصنیف نہیں؟ کتاب "عظمتِ قرآن" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 36۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.