Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Ajsaam-e-falaki ki gardish

Urdu · 4 min

اجسامِ فلکی کی گردش۔ قرآن، سورہ نمبر 36 آیت 40، سورہ نمبر 21 آیت 33 میں سورج اور چاند کا ذکر کر کے ارشاد ہوا ہے کہ سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ ڈاکٹر مورس بوکائیلے نے ان آیات پر تفصیلی کلام کیا ہے، اور دکھایا ہے کہ یہاں "فلک" سے وہی چیز مراد ہے جس کو موجودہ زمانے میں مدار یعنی orbit کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں: "It is shown that the sun moves in an orbit, but no indication is given as to what this orbit might be in relation to the Earth." At the time of the Quranic revelation, it was thought that the sun moved while the Earth stood still.

This was the system of geocentrism that had held sway since the time of Ptolemy, 2nd century BC, and was to continue to do so until Copernicus in the 16th century AD, although people supported this concept at the time of Muhammad. It does not appear anywhere in the Quranic, either here or elsewhere. The Bible, the Quran, and Science, page 159. مذکورہ آیات میں یہ دکھایا گیا ہے کہ سورج ایک مدار میں گھومتا ہے، مگر اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا ہے کہ زمین کی نسبت سے اس کا مدار کیا ہے۔

قرآن کے نزول کے زمانے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ سورج یعنی زمین کے گرد گھوم رہا ہے، جبکہ زمین ٹھہری ہوئی ہے۔ یہ مرکزیتِ ارضی کا نظام تھا جو دوسری صدی قبل مسیح میں ٹالمی کے زمانے سے چھا گیا تھا۔ وہ سولہویں صدی عیسوی میں کوپرنیکس تک باقی رہا، اگرچہ محمد کے زمانے میں لوگ اس نظریے کی تائید کرتے تھے، مگر قرآن میں وہ کہیں ظاہر نہیں ہوا، نہ ان دونوں آیتوں میں اور نہ کسی اور آیت میں۔ کتاب عظمتِ قرآن، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 40۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.