Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Qanun-e-fitrat ki misaal

Urdu · 12 min

قانون فطرت کی مثال: قدیم عرب میں ایک رواج یہ تھا کہ بعض اوقات کوئی شخص اپنی اولاد کو اس اندیشے سے قتل کر دیتا تھا کہ افرادِ خاندان زیادہ ہو جائیں گے، تو ان کے لیے کھانے پینے کا انتظام نہ ہو سکے گا۔ اس سلسلے میں خران میں یہ حکم اترا: «وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا» سورہ نمبر 17، آیت 31۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشے سے قتل نہ کرو؛ ہم ان کو بھی روزی دیں گے اور تم کو بھی۔ بے شک ان کو مار ڈالنا ایک بڑی غلطی ہے۔

یہ اعلان گویا ایک قسم کا دعویٰ تھا؛ اس کا مطلب یہ تھا کہ مستقبل میں آبادی کا کوئی بھی اضافہ زمین پر رزق کی تنگی کا مسئلہ پیدا نہیں کرے گا۔ انسانی تعداد کے مقابلے میں غذائی اشیاء کا تناسب ہمیشہ موافق طور پر برقرار رہے گا۔ جس طرح آج سب کو ان کی روزی مل رہی ہے، اسی طرح آئندہ بھی سب کو ان کی روزی ملتی رہے گی۔ مسلمان ہر دور میں اتحادی طور پر اس اعلان کی صداقت کو مانتے رہے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں کبھی بھی وہ ذہن پیدا نہیں ہوا جس کو موجودہ زمانے میں تہدیدِ نسل یا برتھ کنٹرول کہتے ہیں۔

وہ خدا کی رزاقی پر بھروسہ کرتے ہوئے رزق کے معاملے کو خدا پر چھوڑتے رہے ہیں، مگر اس اعلان کے 1000 سال بعد انگریز ماہرِ معاشیات رابرٹ مالیتھس 1766-1834 میں پیدا ہوا۔ 1798 میں اصولِ آبادی پر اس کی مشہور کتاب چھپی، جس کا پورا نام یہ ہے: "An Essay on the Principle of Population as It Affects the Future Improvement of His Society" مالیتھس نے اپنی مشہور کتاب میں وہ مشہور نظریہ پیش کیا جس کا خلاصہ اس کے الفاظ میں یہ تھا: "Population when unchecked increases in a geometrical ratio; subsistence only increases in an arithmetical ratio. " آبادی جبکہ وہ بے خیر طور پر چھوڑ دی جائے، جیومیٹری کے تناسب سے بڑھتی ہے؛ اشیاءِ خوراک صرف ارتھمیٹک کے تناسب سے بڑھتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا اضافہ اور غذائی اشیاء کا اضافہ قدرتی طور پر یکساں نہیں ہے۔

انسانی آبادی کا اضافہ 1، 2، 4، 8، 16، 32، 64 کے تناسب سے ہوتا ہے؛ اس کے برعکس غذائی اشیاء میں اضافے کا تناسب 1، 2، 3، 4، 5، 6، 7، 8 رہتا ہے۔ یہاں انسانی آبادی میں اضافہ نہایت تیز رفتار ہوتا ہے، اور غذائی اشیاء میں اضافہ نہایت سست رفتار۔ اس بنا پر مالیتھس نے کہا کہ زمین پر انسانی نسل کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ پیدائش پر کنٹرول قائم کیا جائے، انسان کی تعداد کو ایک خاص حد سے آگے بڑھنے نہ دیا جائے۔ ورنہ بہت جلد ایسا ہوگا کہ آبادی اور غذائی اشیاء میں غیر متناسب اضافے کی وجہ سے فاقے کا دور شروع ہو جائے گا، اور بے شمار انسان بھوک سے مرنے لگیں گے۔

مالیتھس کی اس کتاب نے دنیا کی فکر پر زبردست اثر ڈالا۔ اس کی تائید میں بے شمار لکھنے اور بولنے والے پیدا ہوئے، یہاں تک کہ ساری دنیا میں برتھ کنٹرول اور فیملی پلاننگ کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ مگر اب محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس کا اندازہ سراسر غلط تھا۔ مسٹر گوئن ڈائر نے ان تحقیقات کا خلاصہ ایک مقالے کی صورت میں شائع کیا ہے۔

اس مقالے کا عنوان بامعنی طور پر یہ ہے: "مالیتھس جھوٹا پیغمبر" "Maulithus the False Prophet" مقالہ نگار جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں: "It is the 150th anniversary of Maulithus's death, and his grim predictions have not yet come true. The world's population has doubled and re-doubled in a geometrical progression, as he foresaw, only slightly checked by wars and other catastrophes, and now stands at about eight times the total when he wrote. But food production has more than kept pace, and the present generation of humanity is, on average, the best fed in history. " ہندوستان ٹائمز، 28 دسمبر 1984۔

مالیتھس کی موت کو اب ڈیڑھ سو سال گزر چکے ہیں، اور اس کی سنگین پیشنگوئیاں ابھی تک پوری نہیں ہوئیں۔ دنیا کی آبادی جیومیٹری کے حساب سے دگنی اور چگنی ہو گئی، جیسا کہ اس نے کہا تھا۔ اس میں جنگوں اور حوادث کی وجہ سے بس تھوڑا سا فرق پڑا ہے۔ جب مالیتھس نے اپنی کتاب لکھی تھی، اس وقت کی آبادی کے مقابلے میں آج کی دنیا کی آبادی تقریباً آٹھ گنا ہو چکی ہے، مگر غذائی پیداوار بھی کچھ اضافے کے ساتھ ساتھ قدم بہ قدم چلتی رہی ہے، اور انسان کی موجودہ نسل کو اوسط طور پر تاریخ کی سب سے بہتر غذا مل رہی ہے۔

ہندوستان ٹائمز، 28 دسمبر 1984۔ رابرٹ مالیتھس روایتی زراعت کے دور میں پیدا ہوا؛ وہ اس کا اندازہ نہ کر سکا کہ جلد ہی سائنٹیفک زراعت کا دور آنے والا ہے، جس کے بعد پیداوار میں غیر معمولی اضافہ کرنا ممکن ہو جائے گا۔ پچھلے ڈیڑھ سو سال میں زراعت کے طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ اب ایسے منتخب بیج بوئے جاتے ہیں جو زیادہ فصل دینے والے ہوں۔

یہی معاملہ مویشیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ کھیتوں کو زرخیز کرنے کے مزید طریقے دریافت ہو گئے ہیں، نئی نئی کھادیں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے لگی ہیں، مشین کی مدد سے ان مقامات پر کھیتی ہونے لگی ہے جہاں پہلے کھیتی کرنا ناممکن نظر آتا تھا۔ آج ترقی یافتہ ملکوں میں کسانوں کی تعداد میں 90% تک کمی کرنے کے باوجود زرعی پیداوار کو 10 گنا تک بڑھا لیا گیا ہے، وغیرہ۔ تیسری دنیا یعنی غیر ترقی یافتہ ممالک کا جو رقبہ ہے، اس کے لحاظ سے اس میں 33 بلین انسانوں کی آبادکاری کی گنجائش ہے، جبکہ اس کی موجودہ آبادی صرف 3 بلین ہے۔

تیسری دنیا امکانی طور پر اپنی موجودہ آبادی کی 10 گنا تعداد کو خوراک مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت، یعنی ایف اے او، نے اندازہ لگایا ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک کی آبادی اگر بے خیر طور پر بڑھتی رہے اور 2000 عیسوی میں 4 بلین سے زیادہ ہو جائے، تب بھی کوئی خطرے کی بات نہیں، کیونکہ اندازے کے مطابق اس وقت جو آبادی ہوگی، اس سے ڈیڑھ گنا آبادی کو خوراک مہیا کرنے کے ذرائع پھر بھی تیسری دنیا کے علاقے میں موجود ہوں گے۔ خوراک میں یہ اضافہ جنگلوں کو کاٹے بغیر ممکن ہو سکے گا۔ اس لیے حقیقت یہ ہے کہ نہ تو عالمی سطح پر کسی غذائی بحران کا کوئی حقیقی اندیشہ ہے، اور نہ علاقائی سطح پر۔

مسٹر گوئن ڈائر نے اپنی رپورٹ ان الفاظ میں ختم کی ہے: "Maulithus was wrong; we are not doomed to breed ourselves into famine. " مالیتھس غلطی پر تھا؛ ہمارے لیے یہ مقدر نہیں کہ ہماری اگلی نسلیں قحط میں پیدا ہوں۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مالیتھس کی کتاب "اصولِ آبادی" انسانی ذہن کی پیداوار تھی، جو زبان و مکان کے اندر رہ کر سوچتا ہے۔ اس کے برعکس، خران ایک ایسے ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے جو زمان و مکان سے بلند ہو کر سوچنے کی طاقت رکھتا ہے۔

یہی فرق اس بات کا سبب ہے کہ مالیتھس کا کلام خارجی حقیقت سے ٹکرا گیا، اور خران آخری حد تک خارجی حقیقتوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ خران کے بیان اور خارجی واقعے میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ کتاب "عظمتِ خران" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 26۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.