Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Kutub-e-muqaddasa ki misaal

Urdu · 7 min

کتبِ مقدسہ کی مثال: بنی اسرائیل حضرت یوسف کے زمانے میں 20ویں صدی قبل مسیح میں مصر میں داخل ہوئے، اور حضرت موسیٰ کے زمانے میں 13ویں صدی قبل مسیح میں مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں گئے۔ یہ دونوں واقعات بائبل میں بھی مذکور ہیں اور قرآن میں بھی، مگر قرآن کے بیانات خارجی تاریخ سے کامل مطابقت رکھتے ہیں، جبکہ بائبل میں کئی باتیں ایسی ہیں جو خارجی تاریخی واقعات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ چنانچہ بائبل کے معتقدین کے لیے یہ مسئلہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ بائبل کے بیان کو لیں یا تاریخ کے بیان کو، کیونکہ دونوں کو بیک وقت لینا ممکن نہیں ہے۔ 12 جنوری 1985 عیسوی کو نئی دہلی کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز، طغلخ آباد میں اجتماع تھا۔

اس اجتماع کے مقرر مسٹر عذرا کولٹ 1914 تا 1992 تھے، جو ہندوستان میں آباد یہودیوں کی مجلس یعنی کونسل آف انڈین جوری کے صدر ہیں۔ تقریر کا عنوان تھا "واٹ از جوڈائزم"۔ یہودی مقرر نے اپنی تقریر میں قدرتی طور پر یہودیوں کی تاریخ بیان کی: انہوں نے مصر میں ان کے جانے اور پھر وہاں سے نکلنے کا بھی تذکرہ کیا۔ اس سلسلے میں حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ کا ذکر آیا تو انہوں نے حضرت یوسف کے ہم عصر مصری بادشاہ کو بھی فرعون کہا، اور حضرت موسیٰ کے ہم عصر مصری بادشاہ کو بھی فرعون بتایا۔

ہر صاحبِ علم جانتا ہے کہ یہ بات تاریخی اعتبار سے غلط ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فرعون نام کے بادشاہ صرف بات کو حضرت موسیٰ کے زمانے میں ہوئے، اس سے پہلے حضرت یوسف کے زمانے میں دوسرے لوگ مصر کے حکمران تھے۔ حضرت یوسف جس زمانے میں مصر میں داخل ہوئے، اس زمانے میں وہاں ان لوگوں کی حکومت تھی جن کو تاریخ میں چرواہے بادشاہ یعنی ہیکساس کنگز کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ عرب نسل سے تعلق رکھتے تھے اور باہر سے آ کر مصر پر قابض ہو گئے تھے۔

یہ خاندان 2000 سال قبل مسیح سے لے کر 15ویں صدی قبل مسیح کے آخر تک مصر میں حکمران رہا۔ اس کے بعد مصر میں غیر ملکی حکمرانوں کے خلاف بغاوت ہوئی اور ہیکساس کی حکومت ختم کر دی گئی۔ اس کے بعد مصر میں ملک والوں کی حکومت قائم ہوئی۔ اس وقت جس خاندان کو مصر کی بادشاہی ملی، اس نے اپنے حکمرانوں کے لیے فرعون کا لقب پسند کیا۔

فرعون کے لفظی معنی سورج دیوتا کی اولاد کے ہیں۔ اس زمانے میں مصر کے لوگ سورج کو پوجتے تھے۔ چنانچہ حکمرانوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ سورج دیوتا کا مظہر ہیں، تاکہ مصریوں کے اوپر اپنا حقِ حکومت ثابت کیا جا سکے۔ مسٹر عذرا کولٹ نے جو کچھ کیا، وہ مجبور تھے کہ ویسا ہی کریں، کیونکہ بائبل میں ایسا ہی لکھا ہوا ہے۔

بائبل حضرت یوسف کے ہم زمانہ مصری بادشاہ کو بھی فرعون کہتی ہے، اور حضرت موسیٰ کے ہم زمانہ مصری بادشاہ کو بھی فرعون کہتی ہے۔ مسٹر عذرا کولٹ یا تو بائبل کو لے سکتے تھے یا تاریخ کو۔ دونوں کو ساتھ لینا ممکن نہ تھا۔ انہوں نے یہودی کونسل کا صدر ہونے کی حیثیت سے تاریخ کو چھوڑا اور بائبل کو اختیار کر لیا۔

مگر قرآن اس قسم کے اختلاف بیانی سے خالی ہے۔ اس لیے حاملینِ قرآن کے لیے یہ مسئلہ نہیں کہ قرآن کو لینے کے لیے انہیں تاریخی حقیقت کو چھوڑنا پڑے۔ قرآن کے زمانۂ نزول میں یہ تاریخی واقعات لوگوں کو معلوم نہ تھے۔ یہ تاریخ ابھی تک قدیم آثار کی صورت میں زمین کے نیچے دفن تھی، جن کو بہت بعد کو زمین کی کھدائی سے برآمد کیا گیا، اور ان کی بنیاد پر مصر کی تاریخ مرتب کی گئی۔

اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن میں حضرت یوسف کے ہم زمانہ مصری بادشاہ کا ذکر آتا ہے، تو قرآن اس کے لیے "ملکِ مصر" یعنی مصر کا بادشاہ کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ اور حضرت موسیٰ کے ہم زمانہ مصری بادشاہ کا ذکر آتا ہے، تو وہ اس کو بار بار فرعون کہتا ہے۔ اس طرح قرآن کا بیان خارجی تاریخی حقیقت کے عین مطابق ٹھہرتا ہے، جبکہ بائبل کا بیان خارجی تاریخی حقیقت سے ٹکرا رہا ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ قرآن کا مصنف ایک ایسا مصنف ہے جو انسانی معلومات کے ماوراء تمام حقیقتوں کو براہِ راست دیکھ رہا ہے۔

کتاب عظمتِ قرآن مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 31۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.