Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Ghair mutaalliq misaal

Urdu · 8 min

غیر متعلق مثال: قرآن کے مخالفین نے اس سلسلے میں بعض مثالیں دے کر قرآن کے اندر داخلی تضاد ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، مگر یہ تمام کی تمام غیر متعلق مثالیں ہیں۔ گہرا تجزیہ فوراً ان کی غلطی واضح کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن نے ایک طرف یہ اعلیٰ اصول پیش کیا کہ تمام انسان برابر ہیں، قرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ "اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جاندار سے پیدا کیا اور اس جاندار سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دی"۔

سورہ نمبر 4، آیت 1۔ حدیث یعنی خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام لوگ آدم سے ہیں، اور آدم مٹی سے تھے۔ الناس من آدم وآدم من تراب سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 412۔ اس اصول کے مطابق عورت کا بھی وہی درجہ ہونا چاہیے جو مرد کا درجہ ہے، مگر عملاً ایسا نہیں۔

ایک طرف قرآن مساواتِ انسانی کا علمبردار ہے، اور دوسری طرف اس نے عورت کو سماج میں کمتر مقام دے دیا۔ چنانچہ گواہی کے معاملے میں یہ قانون مقرر کیا کہ دو عورت کی گواہی ایک مرد کے برابر مانی جائے گی۔ یہ سراسر غلط فہمی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ اسلام میں عام حالات میں دو عورت کی گواہی ایک مرد کے برابر مانی گئی ہے، مگر اس کی بنیاد صنفی امتیاز پر نہیں ہے، بلکہ اس کی وجہ قطعی طور پر دوسری ہے۔

یہ حکم قرآن کی جس آیت میں ہے وہیں اس کی وجہ بھی بتا دی گئی ہے۔ وہ آیت یہ ہے: وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلُونَ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ أَن تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى سورہ نمبر 2 آیت 282۔ یعنی جب تم ادھار کا معاملہ کرو تو اس کو لکھ لیا کرو، اور اپنے مردوں میں سے دو مرد کو گواہ بنا لو۔ اور اگر دو مرد گواہ نہ ملیں تو ایک مرد اور دو عورتیں، ایسے گواہوں میں سے جن کو تم پسند کرتے ہو، تاکہ ان دونوں عورتوں میں سے کوئی اگر بھول جائے تو دوسری عورت اس کو یاد دلا دے۔

آیت کے الفاظ واضح طور پر بتاتے ہیں کہ اس حکم کی بنیاد صنفی امتیاز پر نہیں، بلکہ صرف یادداشت پر ہے۔ آیت اس حیاتیاتی یعنی بایولوجیکل حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ عورتوں کی یادداشت عام طور پر مردوں سے کم ہوتی ہے۔ اس لیے قرض کے معاملے میں عورت کی گواہی میں لینا ہو تو ایک مرد کی جگہ دو عورتیں گواہ مقرر کی جائیں، تاکہ آئندہ جب کبھی گواہی دینا ہو تو دونوں مل کر ایک دوسرے کی یادداشت کی کمی کی تلافی کر سکیں۔ یہاں میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جدید تحقیقات نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ مرد کے مقابلے میں عورت کی یادداشت کم ہوتی ہے۔

روس میں اس موضوع پر باقاعدہ سائنسی تحقیق کی گئی ہے، اور نتائج تحقیق کتاب کی صورت میں شائع کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق کا خلاصہ اخبارات میں آ چکا ہے۔ نئی دہلی کے اخبار ٹائمز آف انڈیا میں یہ خلاصہ حسبِ ذیل الفاظ میں شائع ہوا ہے: "Memorizing ability: Men have a greatest ability to memorize and process mathematical information than women, but females are better with words," a Soviet scientist says reports UPI. "Men dominate mathematical subjects due to the peculiarities of their memory," Dr.

Ladimir Kanwalov told the TAS News Agency. Times of India, 18 January 1985. عورتوں کے مقابلے میں مردوں کے اندر اس بات کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ ریاضیاتی معلومات کو یاد رکھیں اور اس کو ترکیب دے سکیں، مگر عورتیں الفاظ میں زیادہ بہتر ہوتی ہیں۔ یہ بات ایک روسی سائنسدان نے کہی۔

ڈاکٹر لدیمیر کنوالوف نے ٹاس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ مرد ریاضیاتی موضوعات پر چھائے ہوئے ہیں، اس کی وجہ ان کے اندر حافظے کی خصوصی صلاحیت ہے۔ جب یہ ایک حیاتیاتی واقعہ ہے کہ عورت کی یادداشت فطری طور پر مرد سے کم ہوتی ہے، تو یہ عین مطابقِ حقیقت بات ہے کہ دو عورت کی گواہی ایک مرد کے برابر رکھی جائے۔ قرآن کا یہ قانون قرآن میں تضاد ثابت نہیں کرتا، بلکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ قرآن ایک ایسی ہستی کی طرف سے آیا ہوا کلام ہے جو تمام حقیقتوں سے باخبر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے احکام میں تمام پہلوؤں کی پوری رعایت پائی جاتی ہے۔

کتاب عظمتِ قرآن مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 23۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.