Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Karl Marx ka fikri tazaad

Urdu · 6 min

کارل مارکس کا فکری تضاد، یہ مذہبی کلام میں داخلی تضاد کی مثال تھی؛ اب غیر مذہبی کلام میں داخلی تضاد کی مثال لیجیے۔ یہاں میں کارل مارکس کا حوالہ دوں گا: موجودہ زمانے میں کارل مارکس کی ذہنی عظمت کا حال یہ ہے کہ امریکی پروفیسر جان گیلبرتھ نے مارکس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: "If we agree that the Bible is a work of collective authorship, only Muhammad rivals Marx in the number of prefaced and devoted followers recruited by a single author, and the competition is not really very close. The followers of Marx now far outnumber the sons of the prophet John Kenneth Galbraith, the age of uncertainty British Broadcasting Corporation 35, Maliban High Street, London page 77." اگر ہم یہ مان لیں کہ بائبل کئی اشخاص کی مشترکہ تصنیف ہے، تو صرف محمد وہ دوسرے واحد مصنف ہیں جو معتقدین اور پیروؤں کی تعداد کے اعتبار سے مارکس کی برابری کر سکتے ہیں۔ پھر مقابلہ زیادہ قریب قریب کا نہیں؛ مارکس کے پیروؤں کی تعداد آج پیغمبر کے پیروؤں کی تعداد سے بہت زیادہ بڑھ چکی ہے، مگر ساری مقبولیت کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ مارکس کا کلام داخلی تضاد کا شاہکار ہے۔

مارکس کے فکر میں اتنے زیادہ تضادات پائے جاتے ہیں کہ اس کے خیالات کو مجموعہ ازداد کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔ مثال کے طور پر، مارکس نے دنیا کی تمام خرابیوں کا سبب سماج میں طبقات کا ہونا بتایا ہے؛ یہ طبقات اس کے نزدیک انفرادی ملکیت کے نظام کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک طبقہ، یعنی بور زوایا سرمایہ دار، ذرائع پیداوار قابض ہو کر؛ دوسرے طبقہ، یعنی محنت کش طبقہ، کو لوٹتا ہے۔ اس کا حل مارکس نے یہ تجویز کیا کہ سرمایہ دار طبقے سے اس کی ملکیتیں چھین لی جائیں اور ان کو مزدور طبقے کے زیرِ انتظام دے دیا جائے۔

اس کارروائی کو وہ بے طبقاتی سماج، یعنی کلاس لیس سوسائٹی، قائم کرنے کا نام دیتا ہے۔ مگر یہ کھلی ہوئی تضاد فکری ہے، کیونکہ مذکورہ کارروائی سے جو چیز وقوع میں آئے گی وہ بے طبقاتی سماج نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ معاشی ذرائع پر ایک طبقے کا قبضہ ختم ہو کر دوسرے طبقے کا قبضہ شروع ہو جائے۔ یہ طبقات کا خاتمہ نہیں، بلکہ صرف طبقات کی تبدیلی ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ پہلے یہ قبضہ ملکیت کے نام پر تھا، اور اب یہ قبضہ انتظام کے نام پر ہوگا۔

وہ چیز جس کو مارکس بے طبقاتی سماج کہتا ہے، وہ عملاً سرمایہ دار طبقے کی ملکیت کو ختم کر کے کمیونسٹ طبقے کی ملکیت قائم کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ مارکس ایک ہی چیز کو ایک جگہ برائی کہتا ہے اور دوسری جگہ بھلائی، مگر سرمایہ داروں کے خلاف شدید نفرت اور تعصب کی وجہ سے اس کو اپنا یہ فکری تضاد دکھائی نہیں دیا۔ وہ ذرائع معاش کو سرمایہ داروں کے بجائے عہدے داروں کے قبضے میں دے رہا تھا، مگر اپنے متعصبانہ اندھے پن کی وجہ سے وہ اپنے اس تضاد کو محسوس نہ کر سکا۔ ایک نوعیت کے دو واقعات میں سے ایک واقعے کو اس نے "انفرادی لوٹ" کہا اور دوسرے کو "اجتماعی تنظیم"۔

قرآن اس قسم کے داخلی تضاد سے مکمل طور پر خالی ہے؛ اس کا کوئی بیان اس کے دوسرے بیان سے نہیں ٹکراتا۔ قرآن کے تمام بیانات میں کامل قسم کی داخلی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ کتاب عظمتِ قرآن، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 21۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.