خدائی خاصہ کلام میں تضاد کا معاملہ کوئی اتفاقی معاملہ نہیں، یہ انسانی فکر کا لازمی خاصہ ہے۔ یہ دنیا اس طرح بنی ہے کہ وہ صرف خدائی فکر کو قبول کرتی ہے۔ اس دنیا میں یہ ناممکن ہے کہ خدا کو چھوڑ کر کوئی متوافق نظریہ بنایا جا سکے۔ خدا کے سوا دوسری بنیاد پر جو نظریہ بھی بنایا جائے گا، وہ فوراً تضاد کا شکار ہو جائے گا۔
وہ کائنات کے مجموعی ڈھانچے سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔ اس دنیا میں کسی انسانی نظریے کے لیے ممکن نہیں کہ وہ فکری تضاد سے خالی ہو سکے۔ اس بات کو ہم یہاں مثال کے ذریعے واضح کریں گے۔ کتاب عظمت قرآن مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 9۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.