Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Quran khuda ki kitaab

Urdu · 5 min

قرآن خدا کی کتاب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دعویٰ کیا کہ قرآن ایک آسمانی کتاب ہے جو خدا کی طرف سے انسانوں کی رہنمائی کے لیے اتری ہے، تو بہت سے لوگوں نے اس کو نہیں مانا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انسانی تصنیف ہے، نہ کہ خدائی تصنیف۔ اس کے جواب میں قرآن میں کہا گیا کہ اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو قرآن کی مانند ایک کلام بنا کر لاؤ۔

أم يقولون تقوله بل لا يؤمنون؟ فليأتوا بحديث مثلِه إن كانوا صادقين. سورہ نمبر 52، آیت 33 تا 34۔ اسی کے ساتھ قرآن نے مطلق لفظوں میں یہ اعلان کر دیا کہ اگر تمام انسان اور جن اس بات پر اکٹھا ہو جائیں کہ وہ قرآن جیسی کتاب لے آئیں، تو وہ ہرگز نہ لا سکیں گے، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے لیے مددگار ہو جائیں۔

قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا. سورہ نمبر 17، آیت 88۔ قرآن ایک ابدی کتاب ہے، اس لحاظ سے یہ ایک ابدی چیلنج ہے قیامت تک کہ تمام انسان اس کے مخاطب ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ قرآن کی وہ کون سی خصوصیت ہے جو انسان کے لیے ناقابلِ تقلید ہے؟

اس کے مختلف پہلو ہیں۔ یہاں ہم اس کے صرف ایک پہلو کا ذکر کریں گے جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان ہوا ہے۔ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلاَفًا كَثِيرًا. سورہ نمبر 4، آیت 82۔

کیا لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اور اگر وہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس کے اندر بڑا اختلاف پاتے۔ اس آیت میں اختلاف کی تفسیر تفاوت، تعارض، تناقض، تضاد وغیرہ الفاظ سے کی گئی ہے۔ آرتھر آربری، یعنی آرتھر جان آربری، 1905 تا 1969 میں اختلاف کا ترجمہ نامطابقت یعنی inconsistency کیا ہے۔

کلام میں تناقص نہ ہونا ایک انتہائی نادر صفت ہے جو صرف خدائے ذوالجلال کے یہاں پائی جا سکتی ہے۔ کسی انسان کے لیے ایسا کلام تخلیق کرنا ممکن نہیں۔ تناقص سے پاک کلام وجود میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ صاحبِ کلام کا علم ماضی سے مستقبل تک کے امور کا احاطہ کیے ہوئے ہو۔ وہ تمام موجودات کا کلی علم رکھتا ہو۔

وہ چیزوں کی اصل ماہیت سے بلا اشتباہ پوری طرح باخبر ہو۔ اس کا علم براہِ راست واقفیت پر مبنی ہو، نہ کہ بالواسطہ معلومات پر۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر یہ انوکھی خصوصیت ہو کہ وہ اشیاء کو غیر متاثر ذہن سے ٹھیک ویسا ہی دیکھ سکتا ہو جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔ یہ تمام غیر معمولی اوصاف صرف خدا میں ہو سکتے ہیں۔

کوئی انسان کبھی ان اوصاف کا حامل نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کا کلام ہمیشہ تضاد اور تناقص سے پاک ہوتا ہے۔ انسان کبھی ان اوصاف کا حامل نہیں ہوتا، اس لیے انسان کا کلام کبھی تضاد اور تناقص سے پاک نہیں ہوتا۔ کتاب عظمتِ قرآن مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 7۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.