دی باچا اس مجموعے میں قرآن کے تین مختلف پہلوؤں پر مختصر گفتگو کی گئی ہے: ایک یہ کہ قرآن اپنی ذات میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خدا کی کتاب ہے، دوسرا یہ کہ وہ اسی ابتدائی صورت میں کامل طور پر محفوظ ہے، جیسا کہ وہ 7ویں صدی عیسوی میں پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا تھا، تیسرا یہ کہ قرآن ایک کتابِ دعوت ہے اور اس کی دعوت میں اتنی قوت ہے کہ جب بھی اس کو صحیح طور پر دنیا کے سامنے لایا جائے گا، وہ اقوام عالم کو مسخر کر لے گا۔ قرآن سے پہلے بھی خدا کی طرف سے بہت سی آسمانی کتابیں اتری تھیں، پھر اس میں اور دوسری آسمانی کتابوں میں کیا فرق ہے؟ قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں میں جو فرق ہے، وہ اس اعتبار سے نہیں ہے کہ ایک کامل ہے اور دوسری غیر کامل؛ ایک افضل ہے اور دوسری غیر افضل۔ مختلف آسمانی کتابوں میں اس قسم کا امتیاز قائم کرنا خود پیغمبروں کے درمیان امتیاز قائم کرنا ہے، اور خدا کے پیغمبروں کے درمیان امتیاز قائم کرنا یقینی طور پر صحیح نہیں۔
پھر دونوں کتابوں میں کیا فرق ہے؟ وہ فرق صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ قرآن محفوظ ہے جبکہ دوسری کتابیں اپنی اصلی اور ابتدائی حالت میں محفوظ نہیں۔ یہی محفوظیت قرآن کی اصل امتیازی خصوصیت ہے۔ اسی خصوصیت کی بنا پر اب وہ قیامت تک کے لیے واحد قابلِ اتباع اور واحد ذریعۂ نجات کتاب ہے۔
تاہم قرآن کا محفوظ ہونا اور محفوظ رہنا کوئی معمولی واقعہ نہیں؛ یہ اس آسمان کے نیچے پیش آنے والے تمام واقعات میں سب سے زیادہ عجیب ہے۔ اس کی غیر معمولی اہمیت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جبکہ اس پر غور کیا جائے کہ دوسری کتابیں کیوں محفوظ نہیں رہیں، اور قرآن کیوں مکمل طور پر محفوظ حالت میں باقی ہے۔ خدا کو اگرچہ تمام موجودات پر کلی اختیار حاصل ہے، مگر متعین مدت کے لیے اس نے انسانوں کو برِ بِنائے امتحان آزادی دے دی ہے۔ اسی آزادی سے فائدہ اٹھا کر ہر بار انسان یہ کرتا رہا کہ آسمانی کتابوں کو بدلتا یا ضائع کرتا رہا۔
آخر کار خدا نے انسانوں کے اوپر اپنا خصوصی فضل فرمایا۔ اپنی ہدایت کو مسلسل صحیح حالت میں باقی رکھنے کے لیے اس نے مزید حفاظتی اہتمام کیا۔ خدا کی خصوصی مدد سے رسول اور اصحابِ رسول ایک نئی تاریخ کو ظہور میں لائے۔ انہوں نے تمام شریروں کو زیر کیا، انہوں نے قدیم دنیا کو بدل کر ایک ایسی نئی دنیا پیدا کی جو اپنے ناقابلِ تسخیر موافق پہلوؤں کے ساتھ قرآن کی ابدی حفاظت کی ضامن بن جائے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن ظاہری اور معنوی دونوں اعتبار سے ہمیشہ کے لیے محفوظ اور غالب صحیفہ بن گیا۔ کتاب عظمتِ قرآن مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 4۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.