Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Azmat-e-Qur'an
Azmat-e-Qur'an

Nazria-e-irteqa

Urdu · 7 min

نظریۂ ارتقاء، اس کی ایک مثال حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ ہے۔ ڈارون 1809 تا 1882 اور دوسرے سائنس دانوں نے دیکھا کہ زمین پر جو مختلف انواعِ حیات موجود ہیں، ان میں ظاہری اختلافات کے باوجود حیاتیاتی نظام کے اعتبار سے کافی مشابہت پائی جاتی ہے۔ مثلاً گھوڑے کا ڈھانچہ اگر کھڑا کیا جائے تو وہ انسان کے ڈھانچے سے ملتا جلتا نظر آئے گا۔ اس قسم کے مختلف مشاہدات سے انہوں نے یہ نظریہ قائم کر لیا کہ انسان کوئی علیحدہ نوع نہیں، انسان اور حیوان دونوں ایک ہی مشترک نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

رینگنے والے جانور اور چوپائے اور بندر سب حیاتیات کے سفرِ ارتقاء کی پچھلی کڑیاں ہیں، اور انسان اس سفرِ ارتقاء کی اگلی کڑی ہے۔ یہ نظریہ 100 سال تک انسانی ذہن پر حکمران رہا، مگر بعد کو مزید مطالعے نے بتایا کہ وہ کائنات کے مجموعی نظام سے ٹکرا رہا ہے، وہ اس کے اندر درست نہیں بیٹھتا۔ مثال کے طور پر سائنسی تاریخوں کے استعمال سے اب یہ معلوم ہو گیا ہے کہ زمین کی عمر کیا ہے، چنانچہ اندازہ کیا گیا ہے کہ تقریباً 2000 ملین سال پہلے زمین وجود میں آئی۔ یہ مدت ڈارون کے مفروضہ ارتقاء کو ظہور میں لانے کے لیے انتہائی حد تک ناکافی ہے۔

سائنس دانوں نے حساب لگا کر اندازہ کیا ہے کہ صرف ایک پروٹینی سالمے کے مرکب کو ارتقائی طور پر وجود میں لانے کے لیے، ملین سال سے بھی زیادہ لمبی مدت درکار ہے۔ پھر صرف 2000 ملین سال میں زمین کی سطح پر مکمل اجسام رکھنے والے حیوانات کی 10 لاکھ سے زیادہ قسمیں کیسے بن گئیں، اور نباتات کی 200000 سے زیادہ تکمیل یافتہ قسمیں کیوں کر وجود میں آ گئیں؟ اس خلیل مدت میں تو ایک معمولی حیوان بھی نہیں بن سکتا، کجا کہ مفروضہ ارتقاء کے مطابق لاتعداد مراحل سے گزر کر انسان جیسی اعلیٰ نوع ظہور میں آ جائے۔ نظریۂ ارتقاء حیاتیاتی عمل میں جن نوعی تبدیلیوں کو فرض کرتا ہے، ان کے متعلق ریاضیات کے ایک عالم پاچو یعنی پٹاف نے حساب لگایا ہے۔

اس کے مطابق کسی نوع میں ایک چھوٹی سی تبدیلی کو مکمل ہونے کے لیے 10 لاکھ پشتوں کی مدت درکار ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر مفروضہ ارتقائی عمل کے ذریعے کتے جیسی نسل میں ان گنت تبدیلیوں کے جمع ہونے سے گھوڑے جیسا بالکل مختلف جانور بنے، تو اس کے بننے میں کس قدر زیادہ لمبا عرصہ درکار ہوگا۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے وہ نظریہ وضع کیا گیا جس کو پینسپرمیہ کا نظریہ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ تھا کہ زندگی ابتداً زمین کے باہر بالائی خلا میں کسی مقام پر پیدا ہوئی اور وہاں سے سفر کر کے زمین پر آئی۔ مگر تحقیق نے بتایا کہ اس کو ماننے میں اور بھی زیادہ بڑی بڑی مشکلیں حائل ہیں۔

زمین کے علاوہ وسیع کائنات کے کسی بھی ستارے یا سیارے پر وہ اسباب موجود نہیں ہیں جہاں زندگی جیسی چیز نشوونما پا سکے۔ مثلاً پانی جو زندگی کے ظہور اور بقا کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے، وہ اب تک کی معلومات کے مطابق زمین کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔ پھر کچھ ذہین افراد نے فجائی ارتقاء یعنی ایمرجنٹ ایولوشن کا نظریہ وضع کیا، اس کے مطابق فرض کیا گیا کہ زندگی یا اس کی انواع بالکل اچانک پیدا ہو جاتی ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ محض ایک لفظ ہے، نہ کہ کوئی علمی نظریہ۔

اچانک پیدائش کبھی اندھے مادی قوانین کے ذریعے ممکن نہیں۔ اچانک پیدائش کا نظریہ لازمی طور پر ایک مداخلت کرنے والے کا تقاضا کرتا ہے، یعنی اس خارجی عامل کا جس کو نہ ماننے کے لیے یہ تمام نظریات گڑھے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کی توجیہ ایک خالق کو مانے بغیر ایک خالق کو مانے بغیر ممکن ہی نہیں۔ خالق کو چھوڑ کر دوسری جو بنیاد بھی تلاش کی جائے گی، وہ کائنات کے نقشے سے ٹکرا جائے گی، وہ اس کے ڈھانچے میں جگہ نہیں پا سکتی۔

کتاب عظمتِ خران، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 9۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.