← Aurat Meamare InsaniyatAurat Meamare Insaniyat
Aurat ka kirdaar.
Urdu · 6 min
عورت کا کردار: قرآن کے بیان کے مطابق حضرت موسیٰ کے ذریعے بنی اسرائیل کو جو احکام دیے گئے، ان میں سے ایک حکم وہ تھا جو قرآن میں اس طرح مذکور ہوا ہے: "اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں کچھ گھر مقرر کر لو، اور اپنے ان گھروں کو قبلہ بناؤ، اور نماز قائم کرو، اور اہلِ ایمان کو خوشخبری دے دو۔ " یونس 87۔ قبلے کے معنی عربی زبان میں مرجع یا مرکزِ توجہ کے ہیں؛ یہاں "گھروں کو قبلہ بنانے" سے مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی بستیوں میں کچھ گھروں یا ان گھروں کے بعض مناسب حصوں کو اس مقصد کے لیے مخصوص کر دیا جائے کہ وہ حضرت موسیٰ کی دینی جدوجہد کے لیے مرکز کے طور پر کام دیں۔ یہاں تنظیمی اجتماعات ہوں، باہمی مشورے ہوں، دعوتی عمل کی خاموش منصوبہ بندی کی جائے، اور لوگوں کی دینی تربیت کی جائے۔
گھر کو قبلہ بنانے کا مطلب دوسرے لفظوں میں گھر کو ایک ادارہ، یعنی انسٹی ٹیوشن، کا درجہ دینا ہے۔ اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ مسلم آبادی کا ہر گھر، یا کم از کم کچھ گھر، ایسا ہونا چاہیے جو معروف معنوں میں صرف گھر نہ ہو، بلکہ وہ ایک دینی ادارہ بن جائے؛ وہ دینی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے مرکز کا کام دینے لگے۔ گھر کو ادارے کا درجہ دے کر اس کو مرکز بنانا، اپنے آپ عورت کے کردار کو متعین کر دیتا ہے۔ گھر کا تصور عورت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
اسی طرح جب ایک گھر دینی اور دعوتی مرکز کا درجہ حاصل کر لے، تو اس کے نظام میں عورت کو اپنے آپ ایک مرکزی مقام حاصل ہو جاتا ہے۔ اس تعلیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کے وسیع تر کردار کے بارے میں پیغمبرانہ مذہب کا نقطہ نظر کیا ہے۔ یہی بات قرآن میں ازواجِ رسول کے حوالے سے کہی گئی ہے۔ چنانچہ ازواجِ رسول کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا یعنی: "اور تمہارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی جو تعلیم ہوتی ہے، اس کا تذکرہ کرو؛ بے شک اللہ باریک بین ہے، خبر رکھنے والا ہے۔
" الاحزاب 34۔ قرآن کی اس آیت میں ازواجِ رسول کی ایک ذمہ داری کو بتایا گیا ہے۔ وہ ذمہ داری یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام کے ذریعے ان کو قرآن کی جو تعلیمات مل رہی ہیں اور حکمت کی جو باتیں وہ سن رہی ہیں، ان کو وہ دوسروں تک پہنچائیں۔ وہ ان باتوں کا چرچا کریں۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ ازواجِ رسول کے گھر کو ایک تعلیمی ادارہ یا ایک دعوتی مرکز کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ یہ بات صرف ازواجِ رسول کے گھر کے بارے میں نہیں، بلکہ وہ ہر مسلمان کے گھر کے بارے میں ہے۔ ازواجِ رسول کے گھر کو اس معاملے میں گویا ماڈل کا درجہ حاصل ہے۔ ازواجِ رسول کی حیثیت امہات المومنین، بالفاظ دیگر معلمات المسلمین کی ہے۔
ان کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ پیغمبر کے قریب رہ کر جو کچھ سیکھیں، اس کو بقیہ لوگوں تک پہنچا دیں، اور پھر یہ سلسلہ امت میں برابر جاری رہے۔ دورِ اول میں ازواجِ رسول کے گھر کو بھی یہ حیثیت حاصل تھی، اور اصحابِ رسول کے گھر کو بھی۔ دورِ اول میں ازواجِ رسول کے گھر کو بھی یہ حیثیت حاصل تھی، اور اصحابِ رسول کے گھر کو بھی۔ یہاں اس قسم کی دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تین آدمی ازواجِ رسول کے گھر پر آئے۔ انہوں نے ازواجِ رسول سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے بارے میں پوچھا۔ پھر جب انہیں اس کے بارے میں بتایا گیا تو گویا کہ انہوں نے اس کو کم سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقابلہ؟
اللہ نے آپ کی اگلی اور پچھلی خطاؤں کی مغفرت کر دی ہے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا، اور دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ دن میں روزہ رکھوں گا اور اس کو کبھی نہ چھوڑوں گا، اور تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے دور رہوں گا اور کبھی نکاح نہ کروں گا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، یعنی آپ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے کہا کہ کیا تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسا اور ایسا کہا ہے؟ تو سن لو کہ خدا کی قسم، میں تم لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور زیادہ متقی ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور روزہ نہیں بھی رکھتا، اور میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔
یہ میرا طریقہ ہے، اور جو میرے طریقے کو پسند نہ کرے وہ مجھ سے نہیں۔ صحیح البخاری، کتاب النکاح، باب الترغیب فی النکاح، رقم الحدیث 5063۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح ازواجِ رسول کا گھر عمومی تعلیم اور دعوت کا مرکز بنا ہوا تھا۔ لوگ وہاں آ کر اسلام کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔
تعلیم و دعوت کا یہ سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بھی قائم تھا اور آپ کی وفات کے بعد بھی برابر جاری رہا۔ یہ نمونہ جو ابتدائی دور میں ازواجِ رسول کے ذریعے قائم کیا گیا، وہی اہلِ اسلام سے ہمیشہ کے لیے اور ہر دور میں مطلوب ہے۔ کتاب "عورت معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 147۔