Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Aurat Meamare Insaniyat
Aurat Meamare Insaniyat

Aasiya bint-e-muzaahim.

Urdu · 3 min

آسیہ بنت مزاحم۔ دوسری مثال آسیہ بنت مزاحم کی ہے؛ وہ حضرت موسیٰ کی ہم عصر تھیں، وہ غالباً بنی اسرائیل سے تعلق رکھتی تھیں۔ مصر کے بادشاہ فرعون نے ان سے نکاح کر کے ان کو اپنے محل میں رکھا۔ وہ وقت کے پیغمبر حضرت موسیٰ پر ایمان لائیں اور سچے دل سے خدا پرستانہ زندگی اختیار کر لیں۔

آسیہ بنت مزاحم کا تذکرہ قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: "اور اللہ ایمان والوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے فرعون کی بیوی کی، جب کہ اس نے کہا کہ اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے، اور مجھ کو فرعون اور اس کے عمل سے بچا لے، اور مجھ کو ظالم قوم سے نجات دے۔ " التحریم 11۔ آسیہ بنت مزاحم بادشاہ مصر کی ملکہ تھیں۔

وہ شاہی محل میں رہتی تھیں، ہر قسم کا عیش و آرام ان کو حاصل تھا، مگر یہ مادی کامیابی ان کو غافل یا سرکش نہ بنا سکی۔ جب حضرت موسیٰ کی دعوت انہیں پہنچی تو اپنے کھلے ذہن کی وجہ سے فوراً انہوں نے اس کو قبول کر لیا اور اپنی زندگی خدا اور پیغمبر کی اطاعت میں گزارنے لگیں۔ فرعون شرک کے مذہب کو اختیار کیے ہوئے تھا، جو اس کے لیے مصر کے قدیم مشرکانہ سماج میں اپنی سیاسی حکمرانی قائم کرنے کے لیے بہت مفید تھا۔ حضرت موسیٰ نے جب مصر میں توحید کی دعوت بلند کی تو وہ ان کا دشمن بن گیا اور توحید کی دعوت مٹانے کے درپے ہو گیا۔

فرعون نے آسیہ بنت مزاحم کو دو میں سے ایک کا اختیار یعنی آپشن دیا: یا تو موسیٰ کے دین کو چھوڑ دو، ورنہ تم کو بغاوت کے جرم میں قتل کر دیا جائے گا۔ موسیٰ کے دین کو چھوڑنا جنت کو چھوڑنے کے ہم معنی تھا، جبکہ فرعون کے حکم کو نہ ماننے سے صرف وقتی طور پر شاہی محل سے محرومی ہو رہی تھی۔ آسیہ بنت مزاحم نے سچے طالب حق کی حیثیت سے یہ فیصلہ کیا کہ وہ شاہی محل سے محرومی کو گوارا کر لیں، مگر وہ خدا کی جنت سے محرومی کو گوارا نہ کریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسیہ بنت مزاحم کو فرعون کے حکم سے قتل کر دیا گیا۔

آخر وقت میں آسیہ بنت مزاحم کی زبان سے جو دعا تھی آخر وقت میں آسیہ بنت مزاحم کی زبان پر جو دعا تھی وہ اتنی بامعنی تھی کہ قرآن نے اس کو ہمیشہ کے لیے ان الفاظ میں شامل وحی کر دیا: رَبِّ اِنِّي لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ یعنی: اے میرے رب! تو میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے۔ قرآن میں اس دعا کو نقل کرنا گویا خدا کی طرف سے اس کی قبولیت کا ایک بالواسطہ اعلان ہے۔ آسیہ بنت مزاحم کی زندگی کا یہ جز ساری خواتین کے لیے، نیز مردوں کے لیے، اس بات کی خوشخبری ہے کہ خدا پرستانہ زندگی اختیار کرنے کے لیے اگر دنیا کی جنت کھوئی جا رہی ہو تو اس کی پرواہ نہ کرنا۔

کیونکہ جو عورت یا مرد خالص خدا کے لیے دنیا کی عارضی جنت کو چھوڑے گا، اس کے لیے خدا آخرت کی ابدی اور معیاری جنت مقدر کر دے گا، اور بلاشبہ اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں۔ کتاب "عورت: معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 132۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.