Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Aurat Meamare Insaniyat
Aurat Meamare Insaniyat

Ummuddardaa.

Urdu · 3 min

ام الدرداء۔ ابو الدرداء ایک مشہور صحابی ہیں، ان کی وفات کے بعد عون ابن عبداللہ ابن عتبہ ان کی زوجہ ام الدرداء کے پاس آئے۔ انہوں نے ابو الدرداء کی زوجہ سے پوچھا کہ ابو الدرداء کا افضل عمل کیا تھا؟ ما كان أفضل عملي أبي الدرداء.

دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے پوچھا کہ ابو الدرداء کثرت سے کون سا عمل کرتے تھے؟ ما كان أكثر عملي أبي الدرداء. اس کے جواب میں ان کی زوجہ ام الدرداء نے کہا کہ سوچنا اور عبرت پکڑنا، یعنی التفكر والاعتبار۔ حلية الأولياء، بحوالہ حياة الصحابہ محمد یوسف کاندھلوی، الجزء 2، صفحہ 627۔

ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی زوجہ کے بیان کے مطابق ان کی خاص عبادت یہ تھی کہ وہ ہمیشہ سوچتے رہتے تھے اور چیزوں سے عبرت پکڑتے تھے۔ اس عبرت پذیری کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک بار ان کے سامنے ایک بیل گاڑی گزری، اس کو دو بیل کھینچ رہے تھے، درمیان میں ایک بیل بیٹھ گیا اور ایک بیل کھڑا رہا۔ اس پر گاڑی والے نے بیٹھنے والے بیل کو مارا۔ اس کو دیکھ کر ابو الدرداء نے کہا کہ إن في هذا لمعتبرًا.

بے شک اس واقعے میں ایک نصیحت ہے۔ صفحہ 627۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عبرت پذیری کیا ہے، وہ ہے دنیا کے واقعے سے آخرت کا سبق لینا۔ ابو الدرداء کے سامنے بیل کے بیٹھنے کا جو واقعہ ہوا، وہ ایک دنیاوی واقعہ تھا، مگر اس دنیاوی واقعے سے انہوں نے ایک اخروی سبق نکالا، وہ یہ کہ جس طرح دنیا میں ڈیوٹی نہ کرنے پر سزا ملتی ہے، اسی طرح آخرت میں ان لوگوں کو خدا کی طرف سے سزا دی جائے گی جنہوں نے خدا کے احکام کی خلاف ورزی کی۔

اس طرح اسلام کی پوری تاریخ میں اہل ایمان کا گھر مسلسل طور پر دعوت و تعلیم کا مرکز بنا رہا۔ خواتین فطری طور پر اس مرکز میں بنیادی کردار کی حیثیت رکھتی تھیں۔ پیغمبر اسلام کے بعد اسلامی تاریخ کا تسلسل زیادہ تر دو اداروں کے ذریعے قائم رہا ہے: داخلی اعتبار سے گھر، اور خارجی اعتبار سے مسجد۔ کتاب عورت معمار انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 149۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.