عورت کا کمتر استعمال، یہ تاریخ کا ایک المیہ ہے کہ بیشتر مرد ایک مشترک غلطی کا شکار ہوئے ہیں، اور وہ ہے عورت کا کمتر استعمال، یعنی انڈر یوز۔ ہر عورت امکانی طور پر اپنے شوہر کی بہترین ذہنی رفیق، یعنی انٹلیکچول پارٹنر ہے، اور ذہنی رفیق بلاشبہ کسی مرد کا سب سے بڑا اثاثہ ہے، مگر بیشتر مرد اپنے اس اثاثے کو اس کی اعلیٰ صورت میں استعمال نہیں کر پاتے۔ وہ اس کا صرف کمتر استعمال کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ دونوں مر کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ عورت اپنے مزاج کے اعتبار سے اس کو پسند کرتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو مزین کرے، سورہ الزخرف آیت 18۔
مرد کا یہ کام ہے کہ وہ اس مزاج کو ایک صحت مند موڑ دے، وہ تزئین جسمانی کے مزاج کو تزئین ذہنی کی طرف موڑ دے، تاکہ عورت اس کی زندگی میں ذہنی رفیق کا رول ادا کرنے کے قابل ہو سکے۔ لیکن مرد ایسا نہیں کرتا، وہ عورت کے مزاج کو خود اپنی تفریح کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ وہ خود بھی عورت کو خوشنما صورت میں دیکھنے کا خواہش مند بن جاتا ہے، وہ عورت کو صرف ایک ذریعۂ مسرت، یعنی سورس آف پلیژر کے طور پر لے لیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عورت اپنی ساری عمر بس اپنے جسم کو سنوارنے میں لگی رہتی ہے۔
وہ اس قابل نہیں بنتی کہ اپنے ذہنی امکانات کو ترقی دے کر اپنے آپ کو اس کا اہل بنائے کہ وہ اپنے شریکِ حیات کے لیے اعلیٰ درجے کی ذہنی رفیق بن سکے۔ اس معاملے میں ایک حدیث سے رہنمائی ملتی ہے، پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جس نے اپنی دنیا سے محبت کی وہ اپنی آخرت کا نقصان کرے گا، اور جس نے اپنی آخرت سے محبت کی وہ اپنی دنیا کا نقصان کرے گا۔ پس تم فنا ہونے والی چیز پر اس کو ترجیح دو جو باقی رہنے والی ہے۔ من أحب دنياه أضر بآخرته ومن أحب آخرته أضر بدنياه فآثروا ما يبقى على ما يفنى مسند الامام احمد جلد 4 صفحہ 412۔
اس حدیث میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے، وہ یہ کہ اس دنیا میں ایک چیز کو لینے کے لیے دوسری چیز کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہی اصول ازدواجی زندگی کے بارے میں بھی درست ہے۔ کوئی مرد اگر یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنا ذہنی رفیق بنائے، تو اس کو یہ قربانی دینی پڑے گی کہ وہ عورت کی جسمانی خوشنمائی کو چھوڑ کر اس کی ذہنی ترقی کا شایق بنے۔ اسی قربانی کے ذریعے ممکن ہے کہ کسی مرد کے لیے اس کی عورت اعلیٰ تر معنوں میں اس کی ذہنی رفیق بن جائے۔
یہ قربانی صرف قربانی نہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے چھوٹے فائدے کو نظر انداز کر کے بڑے فائدے کو اپنے لیے لے لیا۔ کتاب عورت معمار انسانیت مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 86.
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.