غصے کو بھلانا۔ قرآن میں ایمان والوں کی ایک صفت یہ بتائی گئی ہے کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ اس کو معاف کر دیتے ہیں۔ الشوریٰ 37۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کے ساتھ میں جیوں، اور وہ بات لمبی نہ ہو کہ میں اس کو بھول جاؤں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم غصہ نہ کرو۔ عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف أن رجلاً أتى إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "يا رسول الله علّمني كلمات أعيش بهن ولا تكثر عليّ فأنسى" فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تغضب." مؤطأ الامام مالک، کتاب الجامع، صفحہ 652، رقم الحدیث 1637۔ یہاں سوال کرنے والے نے گویا یہ پوچھا تھا کہ زندگی کے معاملات کو درست طور پر چلانے کے لیے جامع نصیحت، یعنی ماسٹر ایڈوائس، کیا ہے؟ اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ اس معاملے میں ماسٹر فارمولا غصہ نہ کرنا ہے۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ کامیاب زندگی کا راز اس چیز میں ہے جس کو آرٹ آف اینگر مینجمنٹ کہا جا سکتا ہے۔ غصہ ایک فطری جذبہ ہے، ہر عورت اور مرد کو کبھی نہ کبھی کسی بات پر غصہ آ جاتا ہے۔ غصے کے وقت عورت یا مرد کے ذہن میں ایک آگ سی بھڑک اٹھتی ہے، تھوڑی دیر کے لیے وہ قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔ وہ چاہنے لگتا ہے کہ جو کچھ اس کے بس میں ہے وہ سب کر ڈالے۔
تاہم یہ ایک وقتی جذبہ ہوتا ہے۔ اگر آدمی غصے کے تناؤ کو ڈیفیوز کرنے کی کوشش کرے تو صرف 1-2 منٹ میں اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور وہ نارمل آدمی کی طرح بن جائے گا۔ غصے کا جواب غصے سے دینا گویا منفی بات کا منفی انداز میں جواب دینا ہے۔ یہ صحیح انسانی طریقہ نہیں۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ کسی کی طرف سے منفی بات آئے تب بھی اس کا جواب مثبت انداز میں دیا جائے۔ منفی بات کا مثبت انداز میں جواب دینا کسی اور کے لیے نہیں ہوتا، بلکہ وہ خود اپنے لیے ہوتا ہے۔ جب آپ غصہ ہو جائیں یا منفی احساس آپ کے اندر بھڑک اٹھے تو اس وقت آپ شدید ذہنی انتشار میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ آپ کا ذہنی عمل رک جاتا ہے۔
یہ آپ کا خود اپنا مسئلہ ہے۔ ایسی حالت میں غصے کے جواب میں غصہ نہ کرنا، یا اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا، ایک ایسی روش ہے جس کا فائدہ سب سے پہلے خود آپ کو ملتا ہے۔ ایسی روش خود اپنے آپ کو بچانے کے ہم معنی ہے۔ کیونکہ آپ اس کا نتیجہ اس طرح ملتا ہے کہ آپ کے اندر ذہنی ارتقاء کے عمل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی، آپ کا روحانی سفر رکے بغیر برابر جاری رہتا ہے۔
کتاب "عورت معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 85۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.