Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Aurat Meamare Insaniyat
Aurat Meamare Insaniyat

Aurat ki sabse badi kamzori.

Urdu · 4 min

عورت کی سب سے بڑی کمزوری عورت کی سب سے بڑی کمزوری اس کی اولاد ہے۔ کہانیوں میں عورت کو محبت کی علامت بتایا گیا ہے، مگر یہ صرف محدود معنوں میں ہے۔ عملی طور پر دیکھیے تو عورت محبتِ اولاد کی علامت ہے، نہ کہ محبتِ انسان کی علامت۔ عورت کے دل میں خدا نے محبت کا گہرا جذبہ پیدا کیا ہے۔

ضرورت تھی کہ محبت کا یہ جذبہ پوری انسانیت تک پھیل جائے، مگر عملاً عورت نے اس کو اپنی اولاد کی محبت تک محدود کر دیا۔ عورت کی اس کمزوری کو ایک حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ حدیث عام طور پر حدیثِ جبریل کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے مطابق فرشتہ جبریل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انسان کی صورت میں آئے۔

ان کی اس آمد کا مقصد تعلیمِ دین تھا۔ اس کا طریقہ انہوں نے یہ اختیار کیا کہ وہ سوالات کرتے رہے اور پیغمبر اسلام خدا کے دیے ہوئے علم کے مطابق ان کا جواب دیتے رہے۔ ایک سوال میں فرشتے نے پوچھا کہ قیامت کی علامتیں کیا کیا ہیں؟ اس کے جواب میں پیغمبر اسلام نے جو علامتیں بتائیں، ان میں سے ایک علامت یہ تھی کہ جب عورت اپنا آقا جنے۔

یعنی إذا ولدتِ الأم تُربّها. صحیح البخاری، کتاب الایمان، رقم الحدیث 50۔ عورت اپنا آقا جنے گی کا مطلب یہ ہے کہ عورت خود اپنے کیے ہوئے عورت اپنا آقا جنے گی کا مطلب یہ ہے کہ عورت خود اپنے پیدا کیے ہوئے بیٹے کی محبت میں اتنا زیادہ مغلوب ہو جائے گی اور اس طرح اس کی بات ماننے لگے گی، گویا کہ وہ اس کا حاکم ہے اور وہ خود اس کی محکوم۔ عورت کے اندر یہ کمزوری ہمیشہ سے رہی ہے، مگر قیامت کے قریب اس کا یہ مزاج بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

قیامت کی قربت سے مراد غالباً وہ زمانہ ہے جو صنعتی انقلاب کے بعد آیا ہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد بعض ایسے حالات پیدا ہوئے ہیں جن میں اولاد کی حیثیت بہت بڑھ گئی ہے، اور ماں اور باپ ہمیشہ سے زیادہ اپنی اولاد کی محبت میں گرفتار ہو گئے ہیں۔ وہ اپنا سارا اثاثہ صرف اپنی اولاد کے اوپر خرچ کر دینا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال نے خاص طور پر موجودہ زمانے میں عورت سے اس کا سب سے بڑا امتیاز چھین لیا ہے۔

عورت اپنی مختلف صلاحیتوں کی بنا پر اس قابل ہے کہ وہ وسیع تر انسانیت کے لیے ایک عظیم خدمت انجام دے سکے۔ وہ پوری انسانیت کے لیے معلم اور معمار بن جائے۔ مگر اولاد کی بڑھی ہوئی محبت، صحیح تر الفاظ میں بے جا محبت، نے اس کو اس معاملے میں افاقی رول ادا کرنے کے قابل نہیں رکھا۔ عملاً یہ ہوا کہ اس کی زندگی اپنے بیٹے کے لاڈ پیار سے شروع ہوتی ہے اور آخر کار اسی پر ختم ہو جاتی ہے۔

چنانچہ عورت اس سے قاصر رہ گئی کہ وہ افاقی معنوں میں انسانیت کی کوئی اعلیٰ تعمیر کر سکے۔ جس عورت کو محبت کی علامت بتایا گیا تھا، وہ صرف محبتِ فرزند کی علامت بن گئی، نہ کہ عمومی معنوں میں محبتِ انسان کی علامت۔ کتاب عورت معمارِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 83۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.