سب عورتیں یکساں۔ پیغمبرِ اسلام نے فرمایا کہ عورت کبھی شیطان کی صورت میں آگے آتی ہے اور کبھی وہ شیطان کی صورت میں پیچھے جاتی ہے۔ جب تم میں سے کوئی شخص کسی غیر عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آئے اور وہ اس کے دل میں اتر جائے تو وہ اپنی بیوی کا قصد کرے اور وہ اس سے ملے، کیونکہ اس کی وجہ سے اس کے دل میں جو ہے وہ اس سے نکل جائے گا۔ صحیح مسلم، بحوالہ مشکات المصابیح، کتاب النکاح، رقم الحدیث 3105۔
ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی غیر عورت کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی لگے تو وہ اپنی بیوی کے پاس چلا جائے، کیونکہ اس کے پاس بھی وہی ہے جو دوسری عورت کے پاس ہے۔ سنن الدارمی، بحوالہ مشکات المصابیح، کتاب النکاح، رقم الحدیث 3108۔ ان روایات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خوبصورتی دراصل جنت کی چیز ہے، اور وہ جنت ہی میں کسی خوش نصیب انسان کو ملے گی۔ خوبصورتی موجودہ دنیا کی چیز ہی نہیں۔
اگر کوئی مرد کسی غیر عورت کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی لگے تو سمجھ لیجیے کہ یہ شیطان کا فریب تھا۔ شیطان کا یہ فریب صرف اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک وہ عورت اس کو بیوی کی حیثیت سے نہ ملے۔ بیوی کی حیثیت سے ملنے کے بعد شیطان کا خوشنما پردہ اس سے ہٹ جاتا ہے، اور وہی عورت اس کو ایک عام عورت دکھائی دینے لگتی ہے جو پہلے اس کو دلکش صورت میں دکھائی پڑی تھی۔ ایسی حالت میں ہر عقلمند آدمی کو یہ کرنا چاہیے کہ جب وہ کسی اجنبی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی لگے تو وہ اس کو نظر کا دھوکہ سمجھے۔
وہ واپس ہو کر اپنی بیوی کے پاس آ جائے، کیونکہ فطرت کی تخلیق کے مطابق اس کی اپنی بیوی کے پاس بھی وہی نسوانیت ہے جو اس کو اجنبی عورت کے یہاں نظر آئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ بظاہر ایک غیر خوبصورت عورت بھی اسی طرح کی ایک نسوانی شخصیت ہے، جیسا کہ بظاہر ایک خوبصورت عورت۔ جدید دنیا میں لو میرج کے باوجود طلاق کی کثرت کا سبب یہی ہے۔ جب یہ لوگ شادی سے پہلے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کی حیثیت سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو ایک فریبِ نظر کے تحت دونوں غیر حقیقی طور پر ایک دوسرے کو خوبصورت سمجھ لیتے ہیں۔
مگر جب یہی لوگ شادی کے بعد بوائے ہسبینڈ اور گرل وائف کی حیثیت سے ایک دوسرے کو پا کر ایک ساتھ رہنا شروع کرتے ہیں تو جلد ہی پچھلی کشش ختم ہو جاتی ہے، یہاں تک کہ اکتا کر وہ ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔ جو عورت یا مرد اس حقیقت کو جان لے، وہ فریبِ نظر میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں گے۔ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنا لیں گے کہ وہ اپنی زندگی کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں گزاریں۔ وہ اپنی زندگی کو زیادہ بامعنی زندگی بنا سکیں۔
کتاب "عورت: معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 78۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.