← Aurat Meamare InsaniyatAurat Meamare Insaniyat
Badgumani fasaad ki jad.
Urdu · 4 min
بدگمانی فساد کی جڑ۔ قرآن میں زن، یعنی گمان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ بعض زن گناہ ہوتے ہیں۔ سورہ الحجرات، آیت 12۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ تم گمان سے بہت زیادہ پرہیز کرو، کیونکہ گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے۔
قال النبي صلى الله عليه وسلم: "إياكم والظن، فإن الظن أكذب الحديث". صحیح البخاری، کتاب الوصایا، فتح الباری، ابن حجر العسقلانی، جلد 5، صفحہ 441۔ انسانی تعلقات میں بگاڑ کا سب سے بڑا سبب بدگمانی ہوتا ہے۔ خاندانی زندگی ہو یا سماجی زندگی، ہر جگہ جب تعلقات بگڑتے ہیں تو اس کا سبب زیادہ تر بدگمانی ہوتا ہے۔
خواہ تعلقات کا یہ معاملہ شوہر اور بیوی کے درمیان ہو، یا وسیع تر معنوں میں سماجی افراد کے درمیان۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک سے دوسرے کو کوئی بات پہنچتی ہے، تو تقریباً ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ یہ بات اپنی ٹھیک ٹھیک صورت میں نہیں پہنچتی، بلکہ وہ بیان کرنے میں گھٹ جاتی ہے یا بڑھ جاتی ہے۔ اب سننے والا یہ کرتا ہے کہ وہ جو کچھ سنتا ہے، اس کو اسی طرح مان لیتا ہے۔ اسی سے بدگمانی پیدا ہوتی ہے، اور تعلقات میں بگاڑ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
اس معاملے میں صحیح اصول یہ ہے کہ اگر کسی کے بارے میں اچھی بات معلوم ہو تو اس کو بلا تحقیق مان لینے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں بری بات کہے تو ایسی بات کو بلا تحقیق نہیں ماننا چاہیے۔ بری بات کو یا تو سن کر اپنے دماغ سے نکال دینا چاہیے، یا پھر اس وقت اس کو ماننا چاہیے جب کہ اس کے بارے میں ہر قسم کی ضروری تحقیق کر لی گئی ہو۔ بدگمانی کا ایک سبب اور ہے، وہ یہ کہ بیوی اپنے شوہر کی کسی بات کو دیکھے، یا شوہر اپنی بیوی کی کسی بات کو دیکھے، اور اس پر وہ مزید تحقیق کے بغیر ایک رائے قائم کر لے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ اس قسم کا مشاہدہ ہمیشہ جزوی ہوتا ہے۔ کوئی بھی مشاہدہ مکمل مشاہدہ نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں صرف ایک مشاہدے پر رائے قائم کرنا اکثر اوقات سخت غلط فہمی کا سبب بن جاتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ جب بھی آپ کسی کے بارے میں کوئی مشاہدہ کریں، اور اس مشاہدے کا کوئی برا پہلو آپ کے ذہن میں آ رہا ہو، تو ایسے مشاہدے کی بنیاد پر کبھی یکطرفہ طور پر رائے قائم نہیں کرنا چاہیے۔
اس طرح کے معاملے میں ضروری ہے کہ مشاہدہ کرنے والا اپنے ساتھی سے اس کی مزید تفصیل دریافت کرے، اور ساتھی کو چاہیے کہ وہ برا مانے بغیر اس کو پوری بات بتائے۔ ایسا طریقہ اختیار کرنے سے ابتدا ہی میں فساد کی جڑ کٹ جائے گی، اور مشاہدہ کسی سنگین نتیجے تک نہیں پہنچے گا۔ خوش گمانی یا بدگمانی اسلام میں صرف ایک اخلاقی صفت نہیں، اس کی اہمیت اس سے زیادہ ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق بدگمانی ایک ایسی برائی ہے جو آدمی کو خدا کی رحمت سے محروم کر دیتی ہے۔
اس کے مقابلے میں خوش گمانی ایک ایسی نیکی ہے جو کسی عورت یا مرد کو خدا کی رحمت کا مستحق بناتی ہے، اور آخر کار اس کو ابدی جنت میں پہنچا دیتی ہے۔ خوش گمانی اگر جنت کا ٹکٹ ہے تو بدگمانی جہنم کا ٹکٹ۔ کتاب "عورت معمار انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 79۔