← Aurat Meamare InsaniyatAurat Meamare Insaniyat
Khuda par bharosa.
Urdu · 5 min
خدا پر بھروسہ۔ قرآن میں طلاق کے ذکر کے تحت کچھ نصیحتیں کی گئی ہیں۔ یہ نصیحتیں قرآن کی سورہ نمبر 65 میں آئی ہیں۔ متعلقہ آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: "اے پیغمبر!
جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت پر طلاق دو، اور عدت کو گنتے رہو۔ اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو، اور نہ وہ خود نکلیں، الا یہ کہ وہ کوئی کھلی بے حیائی کریں۔ اور یہ اللہ کی حدیں ہیں۔
اور جو شخص اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا تو اس نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ تم نہیں جانتے، شاید اللہ اس طلاق کے بعد کوئی نئی صورت پیدا کر دے۔ پھر جب وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو ان کو یا تو معروف کے مطابق رکھ لو، یا معروف کے مطابق ان کو چھوڑ دو۔ اور اپنے میں سے دو معتبر گواہ کر لو، اور ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے گواہی دو۔
یہ اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا، اللہ اس کے لیے راہ نکالے گا، اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ گیا ہو۔ اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے گا تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ بے شک اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے۔
اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ ٹھہرا رکھا ہے۔ " الطلاق 1:3 طلاق شوہر اور بیوی کے درمیان ایک بحران، یعنی کرائسز کی حالت ہے۔ اس طرح کے چھوٹے یا بڑے کرائسز خاندانی زندگی میں برابر آتے رہتے ہیں۔ مذکورہ آیت میں ایک اہم نصیحت کی گئی ہے جو کرائسز مینجمنٹ کے لیے بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ بنیادی اصول قرآن کے لفظ میں توکل ہے، یعنی ہر صورتحال میں اللہ پر بھروسہ کرنا اور معاملے کو پوری طرح اللہ کے اوپر ڈال دینا۔ بحران دراصل اس حالت کا نام ہے جب کسی عورت یا مرد کے سامنے ایک ایسی صورتحال آ جائے جس میں وہ بظاہر اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہو۔ اگر مسئلہ ایسا ہو جس کو حل کرنا اس کے اختیار میں ہو، تو ایسا مسئلہ اس کے لیے وہ چیز نہیں بنے گا جس کو بحران کہتے ہیں۔ بحران صرف اس صورتحال کا نام ہے جب وہ یہ محسوس کرے کہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے اس کی دستیاب صلاحیت کافی نہیں۔
دوسرے لفظوں میں، اپنی محدودیت یعنی لیمیٹیشنز کے احساس کا نام بحران ہے۔ ایسی حالت میں اگر عورت یا مرد کا ذہن اپنی محدودیت پر لگا رہے تو وہ صرف اپنی پریشانی میں اضافہ کرے گا۔ ایسی حالت میں سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے دائرے میں جو کر سکتا ہے وہ کرے، اور بقیہ کو خدا کے خانے میں ڈال دے۔ وہ معتدل انداز میں اپنی کوشش کرتے ہوئے انجام کے معاملے میں خدا کی ذات پر بھروسہ کرے۔
اس طریقے کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ متعلقہ عورت یا مرد کا ذہن فوری طور پر معتدل ہو جاتا ہے۔ یہ چیز اس کو منفی سوچ سے ہٹا کر مثبت سوچ کی طرف موڑ دیتی ہے۔ وہ اس پوزیشن میں ہو جاتا ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طور پر مسئلے کے حل کے لیے استعمال کر سکے۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ فطرت کے نظام کو اپنا کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
انسانی جسم کے اندر یہ نظام ہے کہ اس میں کوئی خلل واقع ہو تو فوراً پورا جسم اس کو درست کرنے کے لیے متحرک ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ وسیع تر زندگی کا بھی ہے۔ زندگی میں جب کوئی بحران پیدا ہو تو فطرت کا نظام فوراً اس کی درستگی کے لیے حرکت میں آ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اللہ پر توکل کر کے اپنے کو تھام لینا گویا فطرت کے نظام کو اپنا کام کرنے کا موقع دینا ہے۔
یہ موقع کہ وہ متحرک ہو کر معاملے کو درست کرے۔ بحران کے حل کا یہ فارمولا بلاشبہ ایک کامیاب فارمولا ہے۔ وہ ہر صورتحال میں قابل استعمال ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ عورت یا مرد پر جب بھی ایسی کوئی چھوٹی یا بڑی صورتحال پیش آئے تو وہ سوچے۔
ایسے موقع پر وہ سوچ سے اپنے عمل کا آغاز کرے، نہ کہ اقدام سے۔ یہی کرائسز مینجمنٹ کا سب سے زیادہ کارگر فارمولا ہے۔ کتاب "عورت معمار انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 75۔