عورت اور مرد، عورت اور مرد کا رشتہ بے حد نازک رشتہ ہے۔ اس معاملے میں ایک غلطی کسی کی پوری زندگی کو تباہ کر سکتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام نے عورتوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ: "اے گروہِ خواتین! میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو عقل اور دین میں کم ہونے کے باوجود وہ کسی دانشمند آدمی کی عقل کو اس طرح کھا جائے جس طرح تم عورتوں میں سے کوئی عورت کسی مرد کی عقل کو کھا جاتی ہے۔
" صحیح البخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب الزکوٰۃ علی الاقارب، رقم الحدیث 1462، فتح الباری لابن حجر العسقلانی، جلد 3، صفحہ 381۔ اس حدیث میں عورت بحیثیت جنس مراد نہیں ہے، یعنی اس کا، یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر پیدا ہونے والی عورت ایسی ہی ہوتی ہے، بلکہ اس سے مراد بعض عورتیں ہیں۔ یعنی عورتوں میں سے کوئی عورت ایسی ہوتی ہے جو کسی مرد کی عقل کو اس طرح گم کر دے کہ وہ اپنی ساری دانشمندی کے باوجود بے عقل بن کر رہ جائے۔ یہ عورت کون ہے؟
یہ عورت وہ ہے جس کی خودغرضی اس کے انصاف کے جذبے پر غالب آ جائے۔ وہ مرد کو مشورہ دیتے ہوئے سنجیدگی، دیانت داری، اور انصاف کے تقاضوں کو بھول جائے اور صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے مرد کو غلط مشورے دے۔ ایسی عورت سماج کے لیے ایک مصیبت ہے۔ وہ اپنی اس منفی صفت سے اپنے آپ کو جنت کے لیے نااہل بنا رہی ہے۔
کوئی عورت یہ کام اپنے حقیر مفادات کے لیے کرتی ہے۔ وہ مرد کے ذہن کو خاموشی کے ساتھ متاثر کرتی رہتی ہے، یہاں تک کہ مرد بھی شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کے حقیر مفادات میں اس کے ساتھ شریک ہو جاتا ہے۔ وہ خدا کی طرف سے بہترین عقل لے کر پیدا ہوتا ہے۔ وہ علم و عمل کی دنیا میں بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتا ہے، مگر عورت کے فریب میں آ کر اس کے اندر ذہنی ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔
اس کے لیے عملاً یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ کسی بڑی بات کے لیے سوچے۔ وہ کسی بڑے مقصد کو اپنا نشانہ بنائے، حالانکہ زندگی اس سے زیادہ قیمتی ہے کہ اس کو مقصدِ اعلیٰ سے کمتر کسی چیز میں استعمال کیا جائے۔ کتاب عورت معمارِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 73۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.