فطرت کا عمومی قانون: قرآن میں بہت سی آیتیں ایسی ہیں جو بظاہر مردوں کو خطاب کرتی ہیں، مگر اپنے عمومی انطباق، یعنی اپلیکیشن کے لحاظ سے، ان کا تعلق مرد اور عورت دونوں سے ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے، البلد 4۔ اس قرآنی آیت میں بظاہر انسان کا لفظ ہے، مگر اس سے مراد مرد اور عورت دونوں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت اور مرد دونوں کو خدا نے ایک ایسی دنیا میں بسایا ہے جہاں انہیں مشقتوں کے ماحول میں اپنی زندگی کا راستہ طے کرنا ہے۔
اس آیت میں خدا نے اپنے تخلیقی نقشے کو بتایا ہے؛ اس کے مطابق موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں ہر عورت اور ہر مرد کو پرمشقت جدوجہد کے کورس سے گزرنا ہے۔ زندگی مشقت سے بھری ہوئی جدوجہد کا نام ہے؛ اس سے بچنا نہ کسی عورت کے لیے ممکن ہے اور نہ کسی مرد کے لیے۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی مسائل کا نام ہے؛ مسئلہ زندگی کا ایک ایسا لازمی حصہ ہے جس کو اس سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی عورت یا مرد جب ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہو کر ازدواجی زندگی کا آغاز کرتے ہیں تو عین اسی وقت ان کے درمیان مسائل کا بھی آغاز ہو جاتا ہے۔
بے مسئلہ ازدواجی زندگی اس دنیا میں سرے سے ممکن ہی نہیں۔ پھر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟ وہ کون سا فارمولا ہے جس کے ذریعے ازدواجی زندگی کو پرسکون اور خوشگوار بنایا جا سکے؟ وہ فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ ایڈجسٹمنٹ ہے۔
جب کوئی کسی سے ایڈجسٹ کرتا ہے تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی عورت یا مرد کے ساتھ ایڈجسٹ کر رہا ہے۔ چنانچہ اس کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ میں اپنے جیسے ایک انسان کے ساتھ کیوں ایڈجسٹ کروں؟ میں کسی کے آگے کیوں جھکوں؟ یہ سوچ کسی عورت یا مرد کے لیے ایڈجسٹمنٹ کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
یہ صرف ایک غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی آدمی جب کسی کے ساتھ ایڈجسٹ کرتا ہے تو اس کا ایڈجسٹمنٹ کسی عورت یا مرد کے ساتھ نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ایڈجسٹمنٹ خالقِ فطرت کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ دراصل کوئی اور نہیں بلکہ خود خالقِ فطرت ہے جس نے دنیا میں ایسا نظام بنایا جہاں ایڈجسٹمنٹ کے بغیر کوئی اجتماعی کام سرے سے نہ ہو سکے۔ ایسی حالت میں ایڈجسٹ کرنا گویا خالقِ فطرت کے فیصلے پر راضی ہونا ہے۔
ایڈجسٹمنٹ کا یہ پہلو اس کو ایک ایسی چیز بنا دیتا ہے جس کے نتیجے میں وہ خدا کے انعام کا مستحق قرار پائے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو ایڈجسٹمنٹ یا ایک طرفہ جھکاؤ صرف ایک اخلاقی روش نہیں، وہ ایک عبادت ہے۔ وہ خدا کی خدائی کا اعتراف کرنا ہے۔ ایڈجسٹمنٹ خدا کے حقوق میں سے ایک حق ہے، اور اسی جذبے کے تحت اس کو اختیار کرنا چاہیے۔
کتاب: عورت، معمارِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 71۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.