نمبر 20: عورتوں سے مشورہ۔ حسن بصری تابعی نے 70 سے زیادہ صحابہ کو دیکھا تھا اور ان سے سنا تھا۔ وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے ہیں کہ آپ کا طریقہ تھا کہ آپ کثرت سے مشورہ کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ عورت سے بھی مشورہ کرتے تھے، اور عورت کبھی ایسی رائے دیتی تھی جس کو آپ قبول کر لیتے۔ كان النبي صلى الله عليه وسلم يستشير حتى المرأة فتشير عليه بالتي فيأخذ بها.
عيون الأخبار لابن قتیبہ، جز 1، صفحہ 27۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اسوہ محدود معنوں میں نہیں ہے، وہ وسیع معنوں میں ہے۔ اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے: کسی کو مشیر کا درجہ دینا، اس کو ایک باعزت درجہ دینا ہے۔ ایسی حالت میں عورت کو مشیر بنانے کا مطلب یہ ہے کہ عورت کی تعلیم و تربیت اس نہج پر کی جائے کہ وہ معاملات میں مشورہ دینے کے قابل ہو سکے۔
مشورہ لینے میں مشورہ دینے کے قابل بنانا اپنے آپ شامل ہے۔ سماجی اعتبار سے دیکھا جائے تو کوئی عورت یا مرد اپنے آپ مشیر نہیں بن سکتا؛ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تعلیم و تربیت اس کے مطابق ہو۔ اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو پیغمبرِ اسلام کا مذکورہ اسوہ اپنے اندر ایک مکمل تصورِ حیات لیے ہوئے ہے۔ اس کے اندر سماج کا ایک ایسا نقشہ نظر آتا ہے جس میں تعلیم و تربیت کے اعتبار سے ایسی سرگرمیاں جاری ہوں جو عورتوں کو اس قابل بنائیں کہ وہ سماج کا ایک صحت مند حصہ بن سکیں۔
وہ اپنی صلاحیت کے اعتبار سے اس قابل ہوں کہ معاملات میں صحیح مشورہ دیں، وہ کسی معاملے میں بحث و تبادلہ یعنی ڈسکشن کے وقت اپنا مفید کردار ادا کر سکیں۔ مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے لیے فطرت کا انمول تحفہ ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے بہترین رفیق ہیں، شرط یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھیں اور اس کی رعایت کرتے ہوئے ایک دوسرے سے معاملہ کریں۔ مرد فطری طور پر مقابلتاً انا پسند یعنی ایگوئسٹ ہوتا ہے، اور عورت فطری طور پر مقابلتاً جذباتی یعنی ایموشنل ہوتی ہے۔
دونوں کے مزاج میں یہ فرق اکثر باہمی اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔ اکثر دونوں اس معاملے میں باشعور ہوں اور اس فرق کو مسئلہ نہ بننے دیں تو دونوں ایک دوسرے سے بہت زیادہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ دونوں میں سے کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اس فطری فرق کو مٹا دے۔ اس لیے دونوں ہی کو یہ کرنا ہے کہ وہ فرق سے نپٹنے کا فن یعنی آرٹ آف ڈیفرنس مینجمنٹ سیکھیں، اور اس کے مطابق عمل کرتے ہوئے اپنی زندگی کو مشترک طور پر کامیاب بنائیں۔
کتاب "عورت معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 69۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.