نمبر 18: "بے سہارا لڑکیوں کی خدمت"۔ سراقہ ابن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ افضل صدقہ کیا ہے؟ تمہاری لڑکی جو بیوگی یا طلاق کی وجہ سے تمہاری طرف لوٹا دی جائے، تمہارے سوا کوئی اس کے لیے کمانے والا نہ ہو۔ عن سراقه ابن مالك أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "ألا أدلكم على أفضل الصدقة ابنتك مردودة إليك ليس لها كاسب غيرك"۔
سنن ابن ماجہ، بحوالہ مشکات المصابیح جلد 3 صفحہ 1393، رقم الحدیث 5002۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک عورت طلاق کی وجہ سے یا بیوہ ہونے کی وجہ سے اپنے سسرال میں رہ نہیں سکتی، اور وہاں سے واپس ہو کر وہ اپنے باپ کے پاس آ جاتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایسی عورت سماج میں بے سہارا بن جاتی ہے، لیکن اس کا بے سہارا ہونا اس کے والدین کے لیے اخلاقی خدمت کا ایک اعلیٰ موقع عطا کرتا ہے۔ اگر اس کے والدین ایسی خاتون کو دوبارہ قبول کر لیں، اس کے لیے نئی زندگی کے مواقع تلاش کریں، اس کو پھر سے سماج کا ایک باعزت ممبر بنانے کی کوشش کریں، اس کو عصر نو ایک کامیاب زندگی گزارنے کے قابل بنائیں، تو ان کا یہ عمل خدا کے یہاں ایک عظیم عمل شمار کیا جائے گا، اور وہ اپنے اس عمل کی بنا پر آخرت کی دنیا میں خدا کے عظیم تر انعام کے مستحق قرار پائیں گے۔
کتاب "عورت معمار انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 68۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.