نمبر 17: لڑکیوں کے ساتھ حسنِ سلوک۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے یہاں لڑکی ہو، پھر وہ نہ اس کو زمین میں گاڑے اور نہ اس کی تحقیر کرے، اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے، تو اللہ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ مَنْ كَانَتْ لَهُ أُنْثَى فَلَمْ يَئِدْهَا وَلَمْ يُهِنَّهَا وَلَمْ يُؤَثِّرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا یعنی الذکور، أدخله الله الجنة۔ سنن أبی داؤد، کتاب الادب۔
حسنِ سلوک ایک ایسی نیکی ہے جو ہر مرد اور عورت کے ساتھ مطلوب ہے، مگر لڑکیوں کے سلسلے میں اس کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ غریب طبقے کے لوگ لڑکیوں کو اپنے اوپر بوجھ سمجھ لیتے ہیں، اس بنا پر وہ ان کے معاملے میں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی طور پر ادا نہیں کر پاتے۔ دولت مند طبقہ اپنے مخصوص لائف اسٹائل کی بنا پر خود اپنے لیے زندگی کی خوشیوں کو تلاش کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ وہ اپنی لڑکیوں کو آزاد چھوڑ دیتا ہے۔
اس آزادی کے نتیجے میں لڑکیاں اپنی ابتدائی عمر ہی میں تباہ کن غلطیوں کا شکار ہو کر رہ جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں لڑکیاں اپنے سرپرستوں کے لیے نازک ذمہ داری کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس ذمہ داری کو ادا کرنا اسلام کی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم ہے۔ اس ذمہ داری کو ادا کیے بغیر کوئی شخص اپنے رب کے یہاں بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔
کتاب: عورت، معمارِ انسانیت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 67۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.