Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Aurat Meamare Insaniyat
Aurat Meamare Insaniyat

12-Riaayat ka muaamala.

Urdu · 3 min

نمبر 12: رعایت کا معاملہ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھ اس کے اوپر کے حصے میں ہوتی ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرنے لگو تو تم اس کو توڑ دو گے، اور اگر تم اس کو چھوڑ دو تو وہ ویسی ہی رہے گی۔ پس تم عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی میری نصیحت قبول کرو۔

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "استوصوا بالنساء خيرا، فإن المرأة خلقت من ضلع، وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه، فإن ذهبت تقيمه كسرته، وإن تركته لم يزل أعوج. فاستوصوا بالنساء." صحیح البخاری، بحوالہ مشکات المصابیح، جلد 2، صفحہ 973۔ رقم الحدیث 3238۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے وہ خاتون اول حوا کے طریقِ تخلیق کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ وہ عورت کے عام مزاج کو بتاتی ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے، پسلی کی ہڈی کسی قدر ٹیڑھی ہوتی ہے؛ اس کا ٹیڑھا ہونا اس کا نقص نہیں ہے، بلکہ یہی اس کی موزونیت ہے۔ پسلی کی ہڈی کو اگر آپریشن کر کے سیدھا کر دیا جائے تو وہ جسمِ انسانی میں اپنی کارکردگی کو صحیح طور پر ادا نہ کر سکے گی۔ ایک اور روایت میں یہ لفظ ہے کہ "المرأة كالضلع"، یعنی عورت پسلی کی ہڈی کی مانند ہے۔ یہ تمثیل کی زبان ہے، اور یہ تمثیل دراصل عورت کی ایک صفت کو بتانے کے لیے ہے، اور وہ یہ کہ عورت نسبتا جذباتی، یعنی emotional، ہوتی ہے۔

مرد کے مقابلے میں عورت کو کسی قدر جذباتی اس لیے بنایا گیا ہے کہ چیزوں سے اس کو ایک جذباتی تعلق ہو جائے، اور اس بنا پر وہ اپنی مخصوص ذمہ داریوں کو بہتر طور پر ادا کر سکے۔ اسی مخصوص مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ عورت کو اپنے بچے کے ساتھ انتہائی جذباتی تعلق ہوتا ہے۔ اگر یہ جذباتی تعلق نہ ہو تو عورت اپنے بچے کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کر سکے۔ کتاب "عورت: معمارِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 64۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.