نمبر 13: فطرتِ انسانی کا تقاضا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "مجھے تمہاری دنیا کی چیزوں میں سے خوشبو اور عورتیں محبوب بنائی گئی ہیں، اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے"۔ حُبِّبَ إِلَيَّ مِن دُنْيَاكُمْ الطِّيْبُ وَالنِّسَاءُ، وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ. احمد النسائی، بحوالہ مشکات المصابیح، جلد 3، صفحہ 1448، رقم الحدیث 5261۔
اس حدیث میں ضمیر متکلم کے اسلوب میں دراصل انسانی فطرت کو بتایا گیا ہے: انسان کے اندر فطری طور پر یہ مزاج ہے کہ وہ اپنے زوج یعنی جوڑے کی طرف خصوصی میلان رکھتا ہے۔ وہ اپنے جوڑے کو اپنا تکمیلی حصہ سمجھتا ہے، اس کا پورا وجود محسوس کرتا ہے کہ اس جوڑے کے بغیر اس کی ہستی مکمل نہیں۔ یہ فطرت کی تخلیق کا ایک حصہ ہے، اس کا تعلق ہر انسان سے ہے۔ مرد اور عورت دونوں کو مل کر دنیا میں جو کام کرنا ہے، وہ بے حد صبر آزما کام ہے۔
وہ ایک پرمشقت جدوجہد ہے۔ اس پرمشقت جدوجہد کو خوشگوار بنانے کے لیے عورت اور مرد کے اندر ایک دوسرے کے لیے محبت رکھ دی گئی ہے۔ یہی الفت اور محبت کسی انسانی سماج کو مستحکم سماج بناتی ہے۔ اجتماعی زندگی میں الفت اور محبت کی حقیقت چپکانے والے مادے یعنی ادھیسف کی ہے۔
اگر یہ الفت اور محبت ختم ہو جائے تو خاندان اور سماج دونوں انتشار کا شکار ہو کر رہ جائیں۔ کامل قربت یعنی ٹوٹل کمینین صرف شوہر اور بیوی کے درمیان قائم ہوتا ہے۔ کتاب "عورت: معمارِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 65۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.