نمبر 11: زندگی کی عظیم نعمت۔ عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار چیزیں ہیں جن کو وہ دے دی گئیں تو اس کو دنیا اور آخرت کی تمام بھلائی دے دی گئی: شکر کرنے والا دل، اور ذکر کرنے والی زبان، اور مصیبتوں پر صبر کرنے والا بدن، اور ایسی بیوی جس کے نفس اور اپنے مال میں اس کو کوئی ڈر نہ ہو۔ عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أربعٌ من أعطيهن فقد أعطي خير الدنيا والآخرة: قلبٌ شاكرٌ ولسانٌ ذاكرٌ، وبدنٌ على البلاء صابرٌ، وزوجةٌ لا تبغيه خوفًا في نفسها ولا ماله." البیہقی، بحوالہ مشکات المصابیح جلد 2 صفحہ 976، رقم الحدیث 3273۔ ایسی بیوی جس کے نفس اور اپنے مال میں اس کو کوئی ڈر نہ ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی بیوی جس کے اوپر آدمی کو پورا اعتماد ہو۔
یہ اعتماد ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے: جب شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کو آخری حد تک اپنا سمجھ لیں، تو اس وقت دونوں کے درمیان غیریت کا فرق بالکل مٹ جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو اس طرح دیکھنے لگتے ہیں کہ جیسے کہ دونوں کے درمیان "میں" اور "وہ" کا فرق مٹ گیا ہو۔ دونوں کی شخصیت ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک زندہ کُل بن گئی ہو۔ شوہر اور بیوی کے درمیان اپنا پن کا یہی ماحول دونوں کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔
جب دونوں کے درمیان اس طرح کا تعلق قائم ہو جائے، تو دونوں یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ دنیا میں وہ اکیلے نہیں ہیں، بلکہ گویا پوری انسانیت ان کے ساتھ ہے۔ ہر ایک یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ میرے باہر کا پورا عالم میرے ساتھ زندگی کے سفر میں شریک ہو گیا ہے۔ یہ احساس دونوں کے اندر اتنا زیادہ حوصلہ پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے بعد انہیں کوئی بھی چیز ناممکن نظر نہیں آتی۔ عورت کسی مرد کے لیے سب کچھ اس وقت بنتی ہے جبکہ وہ محسوس کرے کہ مرد بھی اس کے لیے اس کا سب کچھ بن گیا ہے۔
باہمی اعتماد کا یہ معاملہ بلاشبہ دو طرفہ ہے؛ فطری قوانین کے تحت یہ معاملہ ایک طرفہ طور پر قائم نہیں ہو سکتا۔ کتاب "عورت: معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 63۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.