Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Aurat Meamare Insaniyat
Aurat Meamare Insaniyat

10-Qabil-e-eatemaad saathi.

Urdu · 7 min

نمبر 10، قابلِ اعتماد ساتھی: ابو امامہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ کے تقویٰ کے بعد سب سے بہتر چیز جو ایک مومن پاتا ہے وہ نیک بیوی ہے۔ اگر وہ اس کو کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے، اور اگر وہ اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے، اور اگر وہ اس پر قسم کھا لے تو وہ اس کو پورا کرے، اور اگر وہ اس سے غائب ہو تو وہ اپنے نفس اور اس کے مال میں اس کی خیرخواہی کرے۔ عن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه يقول: "ما استفاد المؤمن بعد التقوى الله خيراً له من زوجة صالحة إن أمرها أطاعته، وإن نظر إليها سرّته، وإن أقسم عليها أبرّته، وإن غاب عنها نصحته في نفسها وماله." ابن ماجہ، بحوالہ مشکات المصابیح جلد 2، صفحہ 930، رقم الحدیث 3095۔ یہ بات اپنے وسیع تر مفہوم میں عورت اور مرد دونوں کے اوپر منطبق ہوتی ہے: دونوں ایک دوسرے کے لیے بہترین جوڑا اسی وقت بن سکتے ہیں جبکہ دونوں اپنے اندر مذکورہ صفات پیدا کر لیں۔

مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے لیے تکملہ، یعنی کمپلیمنٹ، کی حیثیت رکھتے ہیں؛ ہر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اپنے وجود کو مکمل کرتا ہے۔ عورت کے بغیر مرد کی زندگی نامکمل ہے، اور اسی طرح مرد کے بغیر عورت کی زندگی نامکمل ہے۔ عورت اور مرد دونوں اپنی جگہ کا یہ فریضہ صرف اس طرح ادا نہیں کر سکتے کہ وہ نکاح کر کے ایک دوسرے کے ساتھ ازدواجی رشتے میں منسلک ہو جائیں۔ اسی کے ساتھ انہیں ایک اور کام کرنا ہے: مذکورہ اعتبار سے وہ اپنے شعور کو بیدار کریں۔

اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے دونوں اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کریں۔ دونوں کے لیے ان کا گھر ایسا مدرسہ بن جائے جس میں شوہر اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے ٹیچر بھی ہوں اور اسی کے ساتھ ایک دوسرے کے اسٹوڈنٹ بھی۔ اس دوسرے پہلو سے دونوں کے درمیان رشتے کی مضبوطی ان کی ازدواجی زندگی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ حدیث کے یہ الفاظ بے حد اہم ہیں کہ "وہ اس کے مال میں خیرخواہی کرے"۔

اس کو دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بہترین عورت وہ ہے جو گھر کی آمدنی کو صحیح طور پر خرچ کرے، وہ انتظام مال یعنی منی مینجمنٹ میں پوری طرح اپنے شوہر کی مددگار ہو۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مال دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے قیام کا ذریعہ ہے۔ النساء 5۔ مال کا بہترین استعمال یہ ہے کہ اس کو حقیقی ضرورت کی مد میں خرچ کیا جائے۔

مال کے معاملے میں فضول خرچی کرنا اتنا برا کام ہے کہ جو مرد اور عورت ایسا کریں، ان کو قرآن میں شیطان کا بھائی اور بہن بتایا گیا ہے۔ الاسراء 27۔ مال کے معاملے میں فضول خرچی کا تعلق عورتوں سے بہت زیادہ ہے۔ قرآن کے مطابق عورتیں اپنے مزاج کے اعتبار سے تزئین اور نمائش جیسی چیزوں کو بہت زیادہ پسند کرتی ہیں۔

الزخرف 18۔ اس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گھروں میں تقریبات اور فرنیچر اور کپڑے اور دوسری مدوں میں مال کا جو غیر ضروری خرچ ہوتا ہے، وہ زیادہ تر عورتوں کے نمائشی ذوق کی وجہ سے ہوتا ہے۔ مال کا صحیح خرچ اور اس کا غلط خرچ دونوں کا انحصار زیادہ تر عورت کے اوپر ہے۔ اس بات کو مثبت انداز میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ کسی گھر کی کامیابی کا راز سادگی کلچر میں ہے، اور سادگی کلچر کا معاملہ تمام تر عورت کے اوپر منحصر ہوتا ہے۔

سادگی بظاہر ایک معمولی چیز ہے، مگر عملی اعتبار سے دیکھیے تو وہ زندگی کی اہم ترین قدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ جہاں سادگی ہوگی، وہاں ہر دوسری چیز اپنے آپ موجود ہوگی۔ کسی نے بہتر زندگی کا فارمولا درست طور پر ان الفاظ میں پیش کیا ہے: "سادہ زندگی اور اونچی سوچ"۔ Simple living, high thinking.

سادگی اور اونچی سوچ دونوں ایک دوسرے سے لازمی طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ جہاں سادگی ہوگی، وہاں اونچی سوچ ہوگی، اور جہاں اونچی سوچ ہوگی، وہاں سادگی بھی ضرور پائی جائے گی۔ سادگی کا مطلب ہے حقیقی ضرورت اور غیر حقیقی ضرورت میں فرق کرنا۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ غیر حقیقی ضرورت کو اپنی ضرورت سمجھ لینا اور اسی کے لیے مال خرچ کرنا ایک ایسی بری عادت ہے جو آدمی کے اندر ذہنی ارتقاء یعنی انٹلیکچول ڈیولپمنٹ کے عمل کو روک دیتی ہے۔

اس کے برعکس، غیر حقیقی ضرورت کو نظر انداز کرنا اور صرف حقیقی ضرورت پر اپنا مال خرچ کرنا آدمی کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ ذہنی ترقی کے عمل میں مصروف ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ فضول خرچی اور اعلیٰ انسانیت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ اعلیٰ انسانیت کے لیے سادہ زندگی ضروری ہے۔ کسی گھر کو سادگی کے اصول پر چلانا صرف عورت کا کام ہے۔

عورت اگر صرف یہی ایک کام کرے کہ مال کے حسن انتظام کے ذریعے وہ گھر کے اندر سادگی کلچر کو رائج کر دے، تو یہ اتنا بڑا کام ہوگا کہ اسی ایک کارنامے کی بنا پر اس کو معمارِ انسانیت کا لقب دیا جا سکتا ہے۔ سادگی بااصول زندگی کی علامت ہے۔ اسی طرح انتظام مال یعنی منی مینجمنٹ منصوبہ بند زندگی کی علامت ہے۔ جو لوگ ایسا کریں، وہ گویا زندگی میں ترجیحات یعنی پرائرٹی کو جانتے ہیں۔

انہوں نے بے مقصد زندگی کا طریقہ چھوڑ کر بامقصد زندگی کے طریقے کو اختیار کیا۔ انہوں نے حیوانی سطح کی زندگی سے اوپر اٹھ کر انسانی سطح کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دنیا میں بھی خدا کا انعام ملتا ہے اور آخرت میں بھی وہ خدا کے انعام کے مستحق قرار پائیں گے۔ قرآن کے الفاظ میں وہ حسناتِ دنیا کے بھی حصہ دار ہیں اور حسناتِ آخرت کے بھی حصہ دار۔

کتاب "عورت: معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 60۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.