نمبر 1: عورت نصفِ انسانیت۔ پیغمبر اسلام کی اہلیہ عائشہ صدیقہ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کا ایک سوال کیا گیا تھا۔ اس مسئلے کا جواب دیتے ہوئے آپ نے مزید فرمایا: "عورتیں بلاشبہ مرد کا شقیقہ ہیں۔ " إنما النساء شقائق الرجال.
ابو داؤد کتاب الطہارا، الترمذی کتاب الطہارا، مسند احمد جلد 6 صفحہ 256۔ شقیق یا شقیقہ عربی زبان میں کسی چیز کے درمیان سے پھٹے ہوئے دو برابر برابر حصے کو کہتے ہیں۔ اسی سے دردِ شقیقہ بولا جاتا ہے، یعنی وہ درد جو سر کے آدھے حصے میں ہو۔ اوپر کی روایت میں اسی مفہوم میں عورت کو مرد کا شقیقہ کہا گیا ہے۔
یہ عورت کی حیثیت کی نہایت صحیح تعبیر ہے۔ اسلام کے مطابق عورت اور مرد دونوں ایک کل کے دو برابر برابر اجزا ہیں۔ اس کل کا آدھا عورت ہے اور اس کا آدھا مرد۔ اس اعتبار سے یہ بات عین درست ہوگی کہ عورت کو نصفِ انسانیت کا لقب دیا جائے۔
کتاب "عورت: معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 54۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.