نمبر 35: "تنگی کے بعد وسعت"۔ قرآن میں شوہر اور بیوی کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: "چاہیے کہ وسعت والا اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے"۔ اور جس کی آمدنی کم ہو، اس کو چاہیے کہ اللہ نے جتنا اس کو دیا ہے، اس میں سے خرچ کرے۔ اللہ کسی پر بوجھ نہیں ڈالتا، مگر اتنا ہی جتنا اس کو دیا ہے۔
اللہ سختی کے بعد جلد ہی آسانی پیدا کرے گا۔ الطلاق 7: خاندانی زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کم آمدنی کی وجہ سے شوہر اور بیوی کے درمیان جھگڑے پیدا ہوتے ہیں، گھر کا سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔ یہ مسئلہ صرف اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ لوگ معاملے کو صرف حال یعنی present کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ وہ معاملے کو مستقبل یعنی future کے اعتبار سے نہیں دیکھ پاتے۔
یہی ذہن تمام جھگڑے کی جڑ ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ حال سے اوپر اٹھ کر سوچیں۔ وہ مستقبل کے امکانات پر اعتماد کریں۔ یہ طریقۂ فکر عورت اور مرد کے درمیان حوصلہ پیدا کرنے والا ہے۔
وہ مسئلے کو وقتی مسئلہ قرار دے کر اس کی سنگینی کو ختم کر دیتا ہے۔ کتاب "عورت: معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 50۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.