نمبر 34: قریبی دشمن۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولاد تمہارے دشمن ہیں، پس تم ان سے ہوشیار رہو۔ " اور اگر تم معاف کر دو، اور درگزر کرو، اور بخش دو، تو اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
التغابن 14: قریبی رشتہ دار کا معاملہ بے حد نازک معاملہ ہوتا ہے۔ مختلف اسباب سے ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی برائی کو صرف اس لیے کر ڈالتا ہے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کے دباؤ کی وجہ سے وہ کچھ اور نہیں کر سکتا تھا۔ کسی رشتہ دار کی طرف سے اس قسم کا رویہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے دشمنی کا رویہ ہے۔ رشتہ داری کو خیر میں تعاون کے لیے کام آنا چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے کو برائی کی طرف لے جانے کے لیے۔
کتاب "عورت معمار انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 50۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.