نمبر 33، دونوں کا انعام برابر۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "بے شک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کو قرض دیا، اچھا قرض، وہ ان کے لیے بڑھایا جائے گا اور ان کے لیے باعزت اجر ہے۔ " الحدید 18۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کو قرآن میں بتایا گیا ہے کہ وہ گویا کہ اللہ کو قرض دینا ہے۔
یہ قرض آخرت میں بہت بڑے اضافے کے ساتھ ہر ایک کو لوٹایا جائے گا۔ اس عمل کا تعلق مردوں سے بھی ہے اور عورتوں سے بھی۔ دونوں ہی کے لیے یہ خوشخبری ہے کہ وہ موجودہ دنیا میں اللہ کے لیے اپنا مال خرچ کریں، اور پھر آخرت میں بہت زیادہ اضافے کے ساتھ وہ ان کو واپس ملے۔ قرضِ حسن یا خدا کے لیے قرض دینا، دراصل اس انفاقِ مال کا باعزت نام ہے جو دعوت الی اللہ کے مقصد کے لیے دیا جائے۔
دعوت کا کام خالص خدائی کام ہے، اس کے ساتھ کوئی بھی دنیاوی غرض وابستہ نہیں ہوتی۔ وہ صرف اس لیے کیا جاتا ہے کہ بندوں کے اوپر خدا کی حجت تمام ہو۔ اسی لیے ایسے مالی انفاق کو قرضِ حسن کا نام دیا گیا۔ کتاب: "عورت، معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 49۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.