نمبر 32: "جنت میں رفاقت"۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے، ان کے ساتھ یہ مزید انعام کیا جائے گا کہ ان کے قریبی رشتہ دار، اگر وہ صالح ہوں، تو ان سب کو ایک ساتھ رہنے کا موقع دیا جائے گا تاکہ ان کی خوشیوں میں اضافہ ہو۔ اس سلسلے میں قرآن میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے: "اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ان کی راہ پر ایمان کے ساتھ چلی، ان کے ساتھ ہم ان کی اولاد کو بھی جمع کر دیں گے، اور ان کے عمل میں سے کوئی چیز کم نہیں کریں گے۔ " ہر آدمی اپنی کمائی میں پھنسا ہوا ہے۔
الطور 21۔ قرآن کی اس آیت میں اہل جنت کے لیے ایک خصوصی انعام کا ذکر ہے، وہ یہ کہ اگر کچھ لوگ اپنے اعمال کے نتیجے میں جنت کے اونچے درجے میں جگہ پائیں، اور ان کے قریبی رشتہ دار ان سے کم درجے کی جنت کے مستحق ٹھہرے ہوں، تو ان کے ساتھ یہ خصوصی انعام کیا جائے گا کہ نیچے والوں کے درجے کو اپ گریڈ کر کے اوپر کے درجے میں پہنچا دیا جائے گا، تاکہ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ مل کر جنت میں رہ سکیں۔ یہ خدائی قانون ایک بہت بڑا انعام ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اگر کسی عورت کا شوہر مر جائے اور بیوی دنیا میں زندہ رہے، تو بیوی کو غمگین ہونے کی ضرورت نہیں۔
اس کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے بقیہ ایام میں زیادہ سے زیادہ خیر کا عمل کرے، تاکہ اس کو موت کے بعد جنت میں زیادہ اعلیٰ درجہ مل سکے۔ اس کے بعد یہ ہوگا کہ خدا اس کے شوہر کے درجے کو اپ گریڈ کر کے شوہر اور بیوی دونوں کو ایک ساتھ رہنے کا موقع عطا فرمائے گا۔ کتاب "عورت معمار انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 48۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.