نمبر 8: مرد اور عورت کے وراثتی حقوق۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "ماں باپ اور قرابت داروں کے ترکے میں سے مردوں کا بھی حصہ ہے، اور ماں باپ اور قرابت داروں کے ترکے میں سے عورتوں کا بھی حصہ ہے"۔ تھوڑا ہو یا زیادہ، ایک مقرر کیا ہوا حصہ۔ النساء 7۔
قرآن کے اس بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ ماں باپ اور دیگر قرابت والوں کے مالِ متروکہ میں سے مردوں، یعنی بیٹوں کو، خواہ وہ بچے ہوں یا جوان، ان کا حصہ ملے گا؛ اور عورتوں، یعنی بیٹیوں کو بھی، بالغ ہوں یا نابالغ، ماں باپ وغیرہ، اقارب کے ترکے میں سے ان کا حصہ دیا جائے گا۔ اور یہ حصے مقرر کیے ہوئے ہیں، جن کا دینا ضروری ہے، خواہ مال تھوڑا ہو یا زیادہ۔ قدیم زمانے میں وراثت کے معاملے میں بہت زیادہ ناانصافی ہوتی تھی؛ یا تو وارثوں کا کوئی حصہ مقرر نہ تھا، یا اس طرح مقرر کیا گیا تھا جس میں وارثوں کا حق پوری طرح ادا نہیں ہوتا تھا۔ قرآن میں وارثوں کے حصے کو باقاعدہ طور پر منصفانہ انداز میں مقرر کیا گیا۔
کتاب "عورت معمارِ انسانیت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 27۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.