Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Aurat Meamare Insaniyat
Aurat Meamare Insaniyat

9-Na pasandida cheez me khair.

Urdu · 3 min

نمبر 9: ناپسندیدہ چیز میں خیر۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "اے ایمان والو! تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم عورتوں کو زبردستی اپنی میراث میں لے لو، اور نہ ان کو اس غرض سے روکو کہ تم نے جو کچھ ان کو دیا ہے، اس کا کچھ حصہ ان سے لے لو، مگر اس صورت میں کہ وہ کھلی ہوئی بے حیائی کریں اور ان کے ساتھ اچھی طرح گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو، مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔

" النساء 19۔ اس آیت میں خاندانی زندگی کا ایک اہم نکتہ بیان ہوا ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان فطری طور پر فرق ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں کامیاب زندگی کا راز یہ ہے کہ لوگ آپس میں ایڈجسٹمنٹ کر کے رہیں۔

ازدواجی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ مختلف اسباب سے ایک اور دوسرے کے درمیان شکایت اور اختلاف کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو طرفین کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ احساس پیدا ہو جاتا ہے کہ "میں نے رفیقِ زندگی کے انتخاب میں غلطی کی"۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ انتخاب کی غلطی نہیں ہے، بلکہ یہ سوچ کی غلطی ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں کو یہ جاننا چاہیے کہ اس دنیا میں نہ کوئی معیاری شوہر ہے اور نہ کوئی معیاری بیوی۔

ایسی حالت میں کامیاب ازدواجی زندگی کا راز یہ ہے کہ دونوں غیر معیاری رفیقِ زندگی کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے رہنا سیکھیں۔ مزید یہ کہ یہ ایڈجسٹمنٹ کوئی برائی، یعنی ایول، نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک نہایت اہم حکمت چھپی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ ناموافق حالات کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے رہنا، تمام انسانی ترقیوں کا زینہ ہے۔ اسی سے مرد اور عورت کے درمیان اعلیٰ اخلاقیات کی پرورش ہوتی ہے۔

اسی سے مرد اور عورت کے درمیان اعلیٰ انصافی۔ اسی سے مرد اور عورت کے درمیان اعلیٰ انسانی اوصاف کی نشونما ہوتی ہے۔ اسی سے مرد و عورت کے اندر چھپے ہوئے امکانات، یعنی پوٹینشلز، جاگتے ہیں۔ یہ صورتحال کسی انسان کی عائد کی ہوئی نہیں، وہ خود خالقِ فطرت کی تخلیق کا ایک لازمی حصہ ہے۔

اس معاملے میں کسی مرد یا عورت کے لیے اس کے سوا کوئی انتخاب، یعنی چوائس، نہیں کہ وہ اس کو قبول کرے۔ کتاب "عورت: معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 28۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.