Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Aurat Meamare Insaniyat
Aurat Meamare Insaniyat

7-Taaddud-e-azwaaj.

Urdu · 2 min

نمبر 7: تعدد ازواج۔ قرآن میں ایک سے زیادہ شادی کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں جو حکم آیا ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے، تو عورتوں میں سے جو تم کو پسند ہوں، ان سے 2-2، 3-3، 4-4 تک نکاح کر لو۔ اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے، تو ایک ہی نکاح کرو۔

النساء 3۔ قرآن کی اس آیت میں مردوں کو تعدد ازواج یعنی پلی غمی کی اجازت دی گئی ہے۔ اجازت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اجازت اس صورتحال کے لیے ہے جبکہ سماج میں یتیم لڑکوں اور یتیم لڑکیوں کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہو۔ گویا کہ یہ اجازت عام نہیں ہے، بلکہ وہ اس وقت کے لیے ہے جبکہ عورتیں سرپلس ہو گئی ہوں۔

یعنی کسی معمولی حادثہ، مثلاً جنگ کی وجہ سے، سماج میں مردوں کی تعداد گھٹ جائے اور اس کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جائے۔ ایسی حالت میں وقتی سماجی مسئلے کے حل کے طور پر بطور استثنا یہ اجازت دی گئی ہے۔ بطور استثنا یہ اجازت دی گئی کہ مرد بقدرِ ضرورت زیادہ شادیاں کر کے سماج میں معتدل ماحول قائم کریں۔ آیت میں 2-2 اور 3-3 اور 4-4 کے الفاظ آئے ہیں، اس میں ایک سے نکاح کا ذکر نہیں۔

اس اندازِ بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مرد کے لیے ایک عورت سے شادی کرنا معمول کی حالت ہے، اور اس سے زیادہ تعداد میں شادی کرنا معمول کے خلاف حالت ہے۔ یہ معمول کے خلاف حالت صرف اس وقت قابلِ عمل ہوتی ہے جبکہ جنگ وغیرہ کی وجہ سے سماج میں عورت اور مرد کی تعداد کے درمیان غیر فطری طور پر نابرابری قائم ہو گئی ہو۔ کتاب "عورت معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 26۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.