Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Aurat Meamare Insaniyat
Aurat Meamare Insaniyat

Aurat Quran me.

Urdu · 2 min

عورت قرآن میں قرآن میں انسان کی کامیابی کے لیے جو تعلیمات آئی ہیں، وہ مرد اور عورت دونوں کے لیے ہیں۔ بظاہر اگرچہ ایسا ہے کہ بیشتر آیتیں مذکر کے صیغے میں ہیں، یعنی بظاہر ان کا خطاب مرد سے ہے، مگر یہ ایک لفظی اسلوب کی بات ہے۔ ورنہ تغلیباً قرآن کی تمام تعلیمات دونوں ہی صنفوں سے، اپنے اپنے حالات کے لحاظ سے، تعلق رکھتی ہیں۔ کوئی حکم بظاہر گرامر کے لحاظ سے مرد کو خطاب کرتا ہو، تب بھی اپنے توسیعی مفہوم کے اعتبار سے یہ مانا جائے گا کہ اس کا خطاب مرد اور عورت دونوں سے ہے۔

مثال کے طور پر قرآن میں ارشاد ہوا ہے: "کیا وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اس کو زندگی دی، اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے؟ وہ اس کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے؟ اس سے وہ نکلنے والا نہیں۔ " اس طرح منکروں کی نظر میں ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں۔

الانعام 123 اس طرح کی بہت سی آیتیں قرآن میں ہیں جن میں قرآن کے مطلوب عقائد اور مطلوب اعمال کا ذکر ہے۔ ان آیتوں میں بظاہر مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے، یعنی گرامر کے لحاظ سے اس کا خطاب بظاہر مردوں سے معلوم ہوتا ہے، مگر یہ تمام آیتیں عورتوں سے بھی اسی طرح متعلق ہیں جس طرح وہ مردوں سے متعلق ہیں۔ تاہم زیرِ نظر باب میں منتخب طور پر صرف ان قرآنی آیتوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو مؤنث کے صیغے میں آئی ہیں، جن میں گرامر کے اعتبار سے بھی خطاب براہِ راست عورتوں سے ہے۔ قرآن میں بار بار عورت کا ذکر آیا ہے، کبھی ایک پہلو سے اور کبھی دوسرے پہلو سے؛ کبھی حیاتیاتی شخصیت کے اعتبار سے اور کبھی اجتماعی زندگی کے ایک رکن کی حیثیت سے۔

قرآن کی ان آیتوں کو ترتیب وار لے کر یہاں درج کیا جاتا ہے۔ ان آیتوں کے مطالعے سے عورت کے بارے میں وہ بنیادی تصویر واضح طور پر اور مستند طور پر سامنے آ جاتی ہے جو اسلامی نظریۂ حیات کے مطابق عورت کی تصویر ہے۔ کتاب "عورت: معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 19۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.