← Aurat Meamare InsaniyatAurat Meamare Insaniyat
Zaria-e-sukun,na ke Zaria-e-tafreeh.
Urdu · 4 min
ذریعۂ سکون، نہ کہ ذریعۂ تفریح۔ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق عورت کو مرد کے لیے سکون کا ذریعہ بنایا گیا ہے، نہ کہ تفریح کا ذریعہ۔ یہ بات قرآن میں ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ. اور روم 21۔
یعنی خدا کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے، تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق عورت اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ زندگی میں مرد کے لیے سکون کا ذریعہ بنے۔
یہ پہلو دونوں ہی صنفوں کے لیے بے حد اہم ہے۔ اگر دونوں صنف کے لوگ اس پہلو کو سامنے رکھیں تو دونوں کو یہ فائدہ ہوگا کہ وہ زندگی کے مسائل سے معتدل طور پر نپٹ سکیں گے۔ وہ زندگی کے سفر کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ مگر موجودہ زمانے میں فطرت کے اس اصول کو بدل دیا گیا ہے۔
مردوں نے عورت کو اپنے لیے تفریح، یعنی انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ سمجھ لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زندگی کا پورا نقشہ بگڑ کر رہ گیا۔ عورت کو فطری طور پر جہاں اپنا حصہ ادا کرنا تھا، وہاں وہ اپنا حصہ ادا نہ کر سکی۔ اور دوسری جگہ جہاں حصہ ادا کرنا تخلیقی نقشے میں شامل نہ تھا، وہاں وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ پرکشش بنانے میں مصروف ہو گئی۔
یہ ایک غیر فطری صورتحال تھی۔ اس نے زندگی کے سارے معاملات کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ اس کا نتیجہ، اس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کی عورت کی سب سے زیادہ توجہ اپنی فطری ذمہ داریوں کی ادائیگی پر نہیں ہے، بلکہ اپنے جسم کی آرائش پر ہے۔ بیوٹیفیکیشن نے جنون کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔
یہ عورتیں اپنے اوقات کا بڑا حصہ غیر ضروری طور پر اپنے جسم کی مصنوعی تزئین میں صرف کرتی ہیں۔ اس شوق نے ان کو نیم برہنگی تک پہنچا دیا ہے۔ اس کا ایک نتیجہ وہ چیز ہے جس کو پورنوگرافی کہا جاتا ہے۔ اس جنون نے جو مکروہ صورتیں اختیار کی ہیں، ان میں سے ایک کاسمیٹک سرجری ہے۔
یعنی سرجری کے ذریعے اپنے چہرے کو مصنوعی طور پر خوبصورت بنانا۔ خوبصورت بنانے کی یہ ٹیکنیک اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک مہنگی تدبیر ہے، جس نے نئے نئے مسائل پیدا کر کے لاکھوں عورتوں کی زندگیوں کو غیر ضروری پیچیدگیوں میں مبتلا کر دیا ہے۔ عورت اور مرد اگر فطرت کے نقشے کے مطابق ایک دوسرے کو سکون کا ذریعہ سمجھیں تو ان کی زندگی جنت کی زندگی بن جائے۔ لیکن تفریح کا ذریعہ سمجھنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ اب عورت اور مرد دونوں بے سکونی کا شکار بنے ہوئے ہیں۔
یہی وہ چیز ہے جس نے موجودہ زمانے میں وہ عمومی برائی پیدا کی ہے جس کو ڈپریشن کہا جاتا ہے۔ فطرت سے انحراف انسان کے لیے ان مصیبتوں کا سبب بن گیا ہے۔ اب فطرت کی طرف واپسی انسان کو ان مصیبتوں سے نجات دلا سکتی ہے۔ موجودہ بحران سے نکلنے کا اس کے سوا اور کوئی طریقہ نہیں۔
کتاب "عورت: معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 11۔