← Aurat Meamare InsaniyatAurat Meamare Insaniyat
1-Aadam aur Hawwa ki taqleeq.
Urdu · 3 min
نمبر 1: آدم اور حوا کی تخلیق۔ قرآن میں عورت کا پہلا ذکر آدم اور ان کی بیوی حوا کے حوالے سے آیا ہے۔ اس حصۂ قرآن کا ترجمہ یہ ہے: "اور ہم نے تخلیق کے بعد کہا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو، اور اس میں سے کھاؤ فراغت کے ساتھ، جہاں سے چاہو۔
اور اس درخت کے نزدیک مت جانا، ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔ " پھر شیطان نے اس درخت کے ذریعے دونوں کو لغزش میں مبتلا کر دیا اور ان کو اس سے نکال دیا جس میں وہ تھے۔ اور ہم نے کہا: تم سب اترو یہاں سے، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے۔ اور تمہارے لیے زمین میں ٹھہرنا اور کام چلانا ہے، ایک مدت تک۔
پھر آدم نے سیکھ لیے اپنے رب سے چند بول، تو اللہ اس پر متوجہ ہوا۔ بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ ہم نے کہا: تم سب یہاں سے اترو۔ پھر جب آئے تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت، تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لیے نہ کوئی ڈر ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اور جو لوگ انکار کریں گے اور ہماری نشانیوں کو جھٹلائیں گے، تو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ البقرہ 35-39۔ آدم اور حوا کا یہ ذکر قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی آیا ہے، مثلاً سورہ الاعراف رکوع 2 میں۔ قرآن کے ان بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی ابتدا میں آدم اور حوا کو جنت کے باشندے کی حیثیت سے پیدا کیا، اور دونوں کو جنت کے ماحول میں رہنے کی اجازت دے دی۔
مگر عورت اور مرد دونوں اس کے اہل ثابت نہ ہو سکے کہ جنت انہیں پیدائشی حق، یعنی برتھ رائٹ، کے طور پر دے دی جائے۔ انہوں نے جنت میں ممنوعہ درخت کا پھل کھا کر اپنے آپ کو اس عمومی استحقاق سے محروم کر لیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا کہ عورت اور مرد کو جنت انتخابی بنیاد، یعنی سلیکٹو بیسز، پر دی جائے۔ چنانچہ دونوں کو جنت سے نکال کر موجودہ زمین پر آباد کر دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے کہا کہ تم دونوں زمین پر رہو اور اپنی نسل بڑھاؤ۔ تمہارے پاس بار بار خدا کی طرف سے پیغمبر آئیں گے جو تم کو بتائیں گے کہ خدا کے معیار کے مطابق حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ جو لوگ خدائی معیار کے اس ٹیسٹ پر پورے اترے، وہی دوبارہ ابدی جنت میں داخل کیے جائیں گے، اور بقیہ مرد اور عورتوں کو نااہل قرار دے کر انہیں جنتی زندگی سے محروم کر دیا جائے گا۔ موجودہ زندگی میں ہر مرد اور عورت اسی خدائی ٹیسٹ پر ہیں۔
یہ ٹیسٹ نسل در نسل قیامت تک جاری رہے گا۔ اس کے بعد سارے انسان اپنے کارنامۂ حیات کے مطابق دو گروہوں میں بانٹ دیے جائیں گے۔ کامیاب گروہ کو دوبارہ جنت میں ابدی داخلہ ملے گا، اور ناکام گروہ کو جہنم کے کائناتی کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے گا۔ کتاب "عورت: معمارِ انسانیت" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 20۔