مسلمانوں کا ایک پندرہ روزہ اخبار نکلتا ہے۔ اس کے صفحہ اول پر یہ فقرہ لکھاہوا ہوتا ہے
مسلکِ اکابر کا ترجمان
یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں کہا گیا ہےاتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ (9:31)۔یعنی،انھوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء اور مشائخ کو رب بنا ڈالا۔ کوئی شخص ایسا اخبار نہیں نکالتا جس کے اوپر یہ لکھا ہوا ہو کہ ’’مسلک صحابہ کا ترجمان‘‘۔ حتی کہ یہ جملہ اگر کسی سے کہا جائے تو اس کو وہ اجنبی معلوم ہوگا۔ البتہ وہ اس قسم کے الفاظ بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں کہ ’’مسلک اکابر کا ترجمان‘‘ یا ’’مسلک سلف کا ترجمان‘‘ وغیرہ۔
اس زمانہ میں ہر طرف اسلام کی دھوم ہے۔ مگر لوگوں کے درمیان جس اسلام کی دھوم ہے، وہ ان کا خود ساختہ اسلام ہے، نہ کہ وہ اسلام جو اللہ نے اپنے رسول پر اتارا تھا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔