قرآن میں حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال موجود ہے کہ انھوں نے مصر کے غیر مسلم مَلِک (بادشاہ) کے قانون کے تحت غذائی انتظام کا اختیارسنبھالا تھا(یوسف، 12:55)۔ اسی طرح تورات میں دانیال نبی کے متعلق مذکور ہے کہ وہ بابل کے غیر مسلم بادشاہ کی وزرا میں داخل ہوگئے تھے (دانیال، 1:19)۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض مسلم مفکرین کا یہ نظریہ سراسر غلط ہے کہ ’’طاغوتی نظام‘‘ میں مسلمان کی شرکت ناجائز ہے۔ اس قسم کے نظریات دراصل غیر مسلم اقوام سے نفرت کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں، وہ خود اسلام کی تعلیمات سے نہیں لیے گئے ہیں۔ یہ نظریات ابتدا میں غیر مسلم حکمرانوں سے نفرت کے نتیجے میں پیداہوئے اور اس کے بعد ان کی تبریر (justification) کے لیے ان کو اسلامی اصطلاحات میں بیان کیا جانے لگا۔
Back Cover Text
انسان کی زندگی میں آنے والا ہر نیادن اگلے دن پرانا ہوجاتا ہے۔ ہر حال آخرکار ماضی میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس کو واپس لانا ممکن نہیں، لیکن اس کے تجربات سے فائدہ اٹھانا یقیناً ممکن ہے۔کامیاب انسان وہ ہے، جو برابر اپنا محاسبہ کرتا رہے،یعنی یہ دیکھے کہ گزرے ہوئے دن اس نے کیا کھویا اورکیا پایا، تاکہ آنے والے دن کے لیےو ہ زیادہ بہتر منصوبہ بندی کرسکے۔ ڈائری اس معاملہ میں ایک سپورٹنگ ایلیمنٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ميري پوري زندگي ميں جو واقعات پيش آئے ان كا بڑا حصه ميں نے ڈائري كي شكل ميں درج کیا هے۔ زیر نظر کتاب ، اوراقِ حکمت راقم الحروف كي ڈائری ہےجو 1985 میں لکھي گئی تھی۔ یہ قارئین کے لیے ان کے ذہنی ارتقا کے عمل میںایک گائڈ بک کی حیثیت رکھتی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔