ہر لفظ کا ایک ابتدائی مفہوم ہوتاہے۔ مگر استعمال سے اس میں وسعت یا فرق پیدا ہوتا رہتا ہے۔ یہ ہر زمانہ میں ہوتاہے۔
مثلاً عربی کا ایک لفظ فتح ہے۔ یہ لفظ جب اشیاء کے لیے بولا جائے تو اس کے معنی سادہ طورپر صرف کھلنے کے ہوں گے۔ مثلاً فتح الباب (دروازہ کھولا)۔ مگر جب یہ لفظ حیوانات کے لیے بولا جائے تو معنی میں فرق پیدا ہوجائے گا۔ اب اس کے معنی صرف کھلنے کے نہ ہوں گے بلکہ کھل کر اچانک نکل پڑنے کے ہوں گے۔ مثلاً ٹڈیوں کا دَل کسی گوشہ سے نکل پڑے تو کہیں گے فُتِحَتْ الجَرَادُ۔
الفاظ میں استعمال کے اعتبار سے جو وسعت پیدا ہوئی ہے، اس کو جو لوگ نہ جانیں، وہ کسی عبارت کو سمجھنے میں عجیب عجیب غلطیاں کرسکتے ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.